بات نہیں سنی گئی

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کی گئی بات نہیں سنی گئی سوچنے، سمجھنے اور پھر ان سوچوں کا عکس تحریر میں اتارنے والے جب کوئی چھوٹی سی بات بھی کہتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی تجربہ یا مشاہدہ ضرور ہوتا ہے۔ اس شعر کے تناظر میں بھی ایک بڑا مشاہدہ ہے جو چھوٹی عمر سے بہت سی چیزوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد میسر آیا، ہماری نسل ایک

Read more

شفقت آنٹی کا انسپکٹر شوہر: گھریلو تشدد کی ایک کہانی

ہم اسکول میں پڑھتے تھے شاید چھٹی ساتویں جماعت کی بات ہوگی، گلشن اقبال کی ایک بلڈنگ میں رہتے تھے، ایک فلور پہ چار اپارٹمنٹ تھے برابر میں جنّت آنٹی اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں ہسپتال میں کام کرتی تھیں، ان کے سامنے والا گھر شریف صاحب کا تھا، یہ پشاور کے بھلے لوگ تھے، فلور کا چوتھا گھر اس لحاظ سے منفرد تھا کہ یہاں آنے والے کرائے دار اپنے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی چھوڑ جاتے تھے،

Read more

پبلک سپیکنگ – گھبراہٹ پر کیسے قابو پایا جائے

آپ کتنے ہی پبلک اسپیکنگ کے ماہر ہوں، کیمرے کے آگے پٹر پٹر کرتے ہوں، اپنے کام سے بخوبی واقف ہوں، مائک آپ کا فیورٹ ہو پھر بھی ہر ایسے موقعے پہ دل تھوڑا زیادہ دھک دھک ضرور کرتا ہے، زبان بھی تھوڑی سی لکنت کا شکار ہوتی ہے، ہاتھ پاؤں بھی تھوڑے ٹھنڈے پڑتے ہیں (کبھی کبھی کانپتے بھی لگتے ہیں ) ، حلق بار بار خشک ہوتا ہے اور دل دماغ بھی سرگوشیاں کرتا ہے کہ ہائے اللہ

Read more

محبت کے شاعر امجد اسلام امجد

کل صبح کا آغاز امجد اسلام امجد صاحب کے گزر جانے کی خبر سے ہوا۔ دل بہُت بہُت رنجیدہ رہا اور اس رنج کی بہُت ساری وجوہات تھیں۔ سب سے پہلی تو یہ کہ شاعری اور کتاب کے حوالے سے وہ ہمارے پہلے استاد تھے، محبت، بارش، پھول، خوشبو، چاند، ستارے، بادل اور ہوا، یہ سارے لفظ اور خیال سب سے پہلے اُن ہی کی کتابوں سے سیکھے۔ کچھ یہ ملال بھی تھا کہ دو ماہ پہلے جب ہماری بھابی

Read more

تمہارے شہر کا موسم بہت سہانا لگے

کینیڈا میں رہتے ہوئے جس چیز نے سب سے زیادہ اپنی طرف لگائے رکھا وہ ہے یہاں کا موسم، یہ کینیڈا کے لوگوں کا پسندیدہ ترین موضوع ہے آج بہت گرمی ہے آج بہت سردی ہے آج مائنس ٹوئنٹی ہے آج پلس ون ہے آج تھرٹی فائیو ہے آج بارش ہے آج اسٹروم ہے آج برف ہے آج برا موسم ہے آج اچھا موسم ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم کراچی والے بچپن میں معاشرتی علوم کی کتاب میں پڑھتے تھے کہ

Read more

دادی الینا، چاند کے تمنائی اور پشمینے کی رات

گیارہ اگست یعنی صاحب کی سالگرہ تو ایڈوانس میں منائی جا چکی تھی تو سوچا کہ پھر اب کیا کیا جائے، فیصلہ ہوا کہ کھانا لیتے ہیں اور کسی جھیل کنارے جا بیٹھتے ہیں۔ یوں بھی دنیا کے جس خطے کو اللہ نے دنیا کی باسٹھ فیصد جھیلیں دان دی ہوں وہاں شہر میں ہی کوئی پانی کا کنارا ڈھونڈنا مشکل نہیں سو ہم نے اپنی پکنک کی ٹوکری میں پلیٹیں اور چمچے پیک کیے، پانی کی بوتلیں ڈالیں کھانا

Read more

اینجلینا جولی اور ہمارے آرٹسٹ

اینجلینا جولی ایک بہت بڑا نام ہے اور سوشل ورک سے وابستہ ہے، ہمیں اس کے اس قدم کی بہت پذیرائی کرنی چاہیے لیکن اس کے لیے اپنے لوگوں کو خواہ مخوا رگیدنا اور ان کی بے عزتی کرنا بالکل بھی درست نہیں، اب چند باتیں ذرا دل و دماغ کھول کے سن لیں اور ان کو سمجھ کے غور کرنے کی بھی کوشش کریں۔

پہلی یہ کہ شوبز سے بہت سے لوگ منسلک ہوتے ہیں لیکن ہر کوئی ایک سے لیول کا سوشل ورک نہیں کرتا۔

مثلاً یہ بھی سوچیے کہ اتنی بڑی ہالی ووڈ انڈسٹری سے صرف ایک اینجلینا جولی ہی کیوں آئی؟ اسی طرح ہمارے ملک کے بہت سارے آرٹسٹ اپنے طور پہ بھی سوشل ورک کرتے ہیں اور بہت ساروں کی اپنی اپنی تنظیمیں بھی ہیں مثلاً حدیقہ کیانی آج کل ”وسیلہ“ کے نام سے سیلاب زدگان کے لیے کام کر رہی ہیں اور اسی سلسلے میں مختلف علاقوں کا دورہ بھی کرتی رہتی ہیں، اب یہاں آپ یہ توقع کریں کہ ہر اداکار اور گلوکار جا کے پانی میں مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کے آپ کو دکھائے تو ہی آپ اسے بخشیں گے تو یہ بیوقوفی ہے۔

Read more

چاند رات مبارک

"امّاں آپ صبح صبح خطرناک ہوتی ہیں” میری ہنسی چھوٹ گئی کیونکہ بات بھی سچ ہی تھی۔ اب کیا کہتی جب رات کو دیر سے سونا ہو اور پھر آدھی رات کو اٹھ کر ادھ سوئے ذہن کے ساتھ پراٹھے پکانے پڑیں اور ساتھ ساتھ بھاگ بھاگ کے سیڑھی چڑھ کے سحری کے لیے جگانے کی ڈیوٹی بھی دینا ہو اور وہ بھی  کئی بار کہ سونے والوں کی نیند ٹوٹ کے نہیں دیتی( دیکھ کے سوچتی بھی ہوں کہ

Read more

بچوں کا نہ پوچھا کریں

میرا بڑا بیٹا غالباً سال بھر کا تھا، میں بیس کی ابتدائی دہائی میں تھی۔ عمر کے ساتھ ساتھ سمجھ بوجھ بھی کم تھی۔ ایک دن کسی ملنے والے کے گھر گئے تو ان کے ہاں ان کی کوئی رشتے دار خاتون بھی آ گئیں، کچھ ایسا ہوا کہ میزبان کسی کام سے اٹھے تو میں اور وہ خاتون کمرے میں رہ گئے۔ خاتون عمر رسیدہ تھیں ساٹھ کے قریب ہوں گی ، مجھے دادی نانی سی معلوم ہوئیں، کچھ

Read more

تتلی اڑی،اڑ نہ سکی

تتلی اڑی، اڑ نہ سکی تتلی اڑی اڑ نہ سکی بس میں بیٹھی سیٹ نہ ملی ڈرائیور بولا ”آ میرے پاس“ تتلی بولی ہٹ بدمعاش ڈرائیور بولا یہ کیا بات تتلی بولی گدھے کی لات اگر آپ بھی بچپن میں چھم چھم کھیلتے ہوئے اس نظم سے گزرے ہیں تو آپ اکیلے نہیں۔ نہ بچپن میں کوئی مسئلہ ہے اور نہ چھم چھم کھیلنے میں، مسئلہ اس ذہنیت میں ہے جس کو اس نظم میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔

Read more

چور تے سالا پھڑیا ای نئیں!

بہت سارے اور لوگوں کی طرح میں بھی سوشل میڈیا پہ اختلافی موضوعات سے اجتناب کرتی ہوں، یعنی بس اچھی اچھی باتیں کرنے کی کوشش کرتی ہوں، جہاں نقض امن کا خدشہ ہو وہاں سے اپنی گاڑی موڑ لیتی ہوں۔ متنازعہ ایشوز کم ہی چھیڑتی ہوں لیکن پھر بھی کسی کسی مقام پہ دل کہتا ہے کہ چپ رہنا زیادتی ہوگی یا کیا سارا شور و غل واہ واہ اکھٹا کرنے کے لیے ہے؟ تو پھر بولنا پڑتا ہے۔ اسی

Read more

ایک کرسی "اقصیٰ” میں

For the Chair in Aqsa کچھ موضوع کچھ لفظ بھوت بن جاتے ہیں، وہ آپ کے سامنے بار بار آ کے پکارتے ہیں، اصرار کرتے ہیں، کبھی نرمی سے اور کبھی غصہ کر کے کہ مجھے لکھو یہ بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے، جب بھی میں کسی کام سے اپنا بینک اکاؤنٹ کھولتی ہوں یہ میسج ونڈو پہ فوراً سامنے آ جاتا ہے۔ It is for the chair in Masjid e Aqsa میں نظریں چرا لیتی ہوں کیونکہ میں

Read more

”انکل سرگم کی مہکتی“ کلیاں

ہم خوش قسمت تھے کہ ہمارے بچپن میں طنز و مزاح کا مطلب کسی کا پھسل جانا، کسی کو گرا دینا، پھکڑ پن، زو معنی جملے، تھپڑ اور پرانک نہیں تھا بلکہ ہنستے لفظ، پیاری باتیں، مسکراتے جملے اور پروقار لہجے ہوا کرتا تھا۔ کلیاں ”اداس ہیں۔ طنز و مزاح کا ایک باب اور ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ فاروق قیصر صاحب المعروف ہمارے انکل سرگم کو جنت الفردوس میں مسکراتا رکھیں جیسے انہوں نے ہمارے بچپن میں بہت ساری مسکراہٹیں

Read more

سوچنے والی ٹوپی

آج کل لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں اپنے بیٹے کے ساتھ کنڈر گارٹن نئے سرے سے پڑھ رہی ہوں ( بچپن میں واقعی ایک سال جمپ ماری تھی شاید اسی کی سزا مل رہی ہے ) ۔ جہاں کبھی کبھی سارا دن خوا نگرانی کے لیے ساتھ بیٹھنا کلاس کا شور شرابا، گانے نظمیں اور باتیں سننا اور ساتھ میں اپنا کام بھی کرنا ذہنی ٹارچر سا بن جاتا ہے وہیں کبھی کبھی کوئی چھوٹی سی بات سوچ کے کئی در بھی وا کر جاتی ہے۔

Read more

بچے کا معصومانہ لیکن مشکل سوال

رمضان اس کے پسندیدہ تھے۔ بچپن میں ایک بار جب شام کو رمضان کے چاند کی بحث چل رہی تھی کہ آج چاند ہو گا کہ نہیں تو خالہ اماں نے کہا تھا ارے دیکھو ناں! نظر نہیں آ رہا رمضان برس رہے ہیں اور اس نے حیرت سے پوچھا خالہ اماں یہ رمضان کیسے برستے ہیں؟ وہ بولیں، دیکھ ناں بیٹا باہر اس شام میں، اس عصر مغرب کے وقت میں، ہمارے احساس میں اتر آتا ہے یہ مہینہ۔

Read more

حسین کہانیوں کی خالق حسینہ معین

”بڑے بڑے گھروں میں لوگ بار بار گم ہو جاتے ہیں اور ان کو بار بار ڈھونڈنا پڑتا ہے“ ۔
ایسے کتنے ہی خوبصورت جملے تھے جو وہ اپنے کرداروں توسط سے ہم تک پہنچا دیتی تھیں اور وہ اندر ذہن کے کسی نہاں خانے میں جا کے سوچ میں جذب ہو جاتے تھے۔

حسینہ معین چل بسیں!

کل ان کے انتقال کی خبر ملی تو بہت رنج ہوا۔ حسین کہانیوں اور ڈراموں کا ایک عہد رخصت ہوا۔ ان کے الفاظ نے کہانیوں کی صورت جس طرح تفریحی اور خوبصورت انداز میں ہمارے معاشرے کی سوچ کو مثبت روش پہ ڈالنے کی کوشش کی تھی، اللہ تعالیٰ ان کو اس کا اجر عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

Read more

تعلیم گاہیں اور محبت کے قرینے

تعلیمی درس گاہ ایک مقدس جگہ مانی جاتی ہے۔ ہاں ساتھ پڑھنے والوں میں کبھی کبھی پسندیدگی یا محبت کا جذبہ پنپ جانا کوئی انہونی بات نہیں ہے اور اکثر اس کا انجام شادی پہ بھی ہوتا ہے ، لیکن بات یہ ہے کہ اس کو کس حد تک باوقار رکھا جائے یا رشتے کی شکل دے کے نبھایا جائے۔

Read more

میری امی کی جگ بیتی

بچپن میں ایک بار جب امی سنار کے ہاں کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنی کسی چوڑی کی قربانی دینے گئیں تو میں بھی ان کے ساتھ تھی بلکہ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے میں اکثر ان کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔ جب سنار نے خریدنے بعد چوڑی کو ہلکے سے موڑا تو پتہ نہیں کیوں مجھے بالکل اچھا نہیں لگا لیکن کبھی مجبوری تو کبھی ضرورت اور کبھی کبھی ہماری چھوٹی بڑی خوشیوں

Read more

موسموں میں گھلی ہوئی ہماری اردو

بہار آتی ہے تو جیسے برسوں سے سوتی شہزادی کی آنکھوں کی آخری سوئیاں کوئی شہزادہ چپکے سے آ کے نکال دیتا ہے اور سونا اور افسردہ شہر جیسے ایک دم سے جاگ پڑتا ہے۔ سوکھ کے ہری ہوتی گھانس کی تازگی اور نئی کونپلوں کی خوشبو ہوا میں بکھر کے نئے نئے نغمے سنانے لگتی ہے۔ کھلتے ٹیولپس کے رنگ ہر سو اپریل کی اولین ہواؤں میں جذب ہونے لگتے ہیں اور خوامخواہ ہی گنگنانے کا دل چاہتا ہے۔

Read more

تمہیں مجھ سے محبت ہے!(دوسرا حصہ)

پچھلی تحریر میں ہم نے محبت اور اس کی خوشبو کو اپنے رشتوں میں قائم رکھنے کی بات کی اور کچھ آسان سے نکات کا ذکر کیا جن کی مدد سے چاہت کے سوکھتے گلابوں کو تروتازہ رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اب آئیے مسئلوں کے سلجھاؤ کی جانب۔ مسئلے ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن فریقین کے مزاج اور فہم کی بنیاد پہ ان سے نمٹنے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے عموماً مختلف

Read more

! تمہیں مجھ سے محبّت ہے

محبت کے دن سوچا محبت کی بات کی جائے لیکن تھوڑی سی حقیقت پسندی کے ساتھ۔ پچھلے دنوں ڈاکٹر خالد سہیل، ثمر اشتیاق اور زہرہ نقوی صاحبہ کے ساتھ گرین زون سیمینار میں شرکت کی اور محبت، رشتوں کی پیچیدگیوں اور اُن کے سلجھاؤ کی بابت فہم اور فرصت کے کچھ موتی سمیٹے، اُنہیں بانٹنے کا چودہ فروری سے اچھا موقع کیا ہو سکتا ہے جب ساری دنیا محبت کے نام پہ سرخ پھولوں، خوشبوؤں، نرمی اور مٹھاس کی باتیں

Read more

اردو، انگریزی اور جاہل بیچارے

ویڈیو پوسٹ کرتے ہی ایک صاحب کا بدتمیزی سے بھرپور تمسخر بھرا میسج آیا جس میں ڈیلیما میں ای کی جگہ آئی لکھا نظر آنے پہ مذاق اڑایا گیا تھا، ابھی میں نے ان کو نرمی سے اس کا جواب لکھا ہی تھا مگر شاید اس دن جلد بازی نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا یا ان کا اپنے ہاتھوں اپنی بے عزتی کروانا لکھ دیا گیا تھا۔ انہوں نے انگریزی میں اس قسم کا کمنٹ لکھا کہ ”آپ نے یہ ویڈیو اردو میں کیوں بنائی ہے، آپ کینیڈا میں رہتی ہیں جوڑیا بازار میں نہیں“ ، اس کے بعد کیا ہوا یہ ایک الگ کہانی ہے۔

Read more

ذہنی صحت اور ڈاکٹر خالد سہیل کا گرین زون فلسفہ

ہر آدمی کے کچھ ہپپی اوینیو ہوتے ہیں یعنی کچھ ایسے کام جو وہ کر کے خوشی اور مسرت محسوس کرتا ہے۔ کوئی کتاب پڑھ کر خوشی محسوس کرتا ہے، کوئی لکھ کر، کسی کے لیے میوزک سننا خوشی کا باعث ہے، کسی کو ورزش کر کے ذہنی کیفیت درست رکھنے میں مدد ملتی ہے، کوئی کرکٹ، فٹبال یا کوئی اور جسمانی کھیل کے ذریعے بہتر محسوس کرتا ہے۔ کوئی اپنوں سے بات کر کے خوش ہوتا ہے۔ کبھی صرف واک پہ نکل جانا اور اس ماحول سے دوری اختیار کرنا آپ کو اپنے گرین زون میں لے جاتا ہے اور آپ غصے کی کیفیت سے نکل جاتے ہیں۔

Read more

او کینیڈا، ہجرت کہانی

امیگرنٹ یا ہجرت کرنے والے سب لوگ کم و بیش ایک سے حالات سے گزرتے ہیں اور ایک سے تجربات اور رویے محسوس کرتے ہیں جو کے ایک فطری عمل ہے۔ مسئلہ ہمارے رویوں میں نہیں ہوتا مسئلہ دراصل اس سوچ کا ہوتا ہے جو اسی ماحول کی پروردہ ہوتی ہے جس میں ہم پروان چڑھے ہوتے ہیں اور یہ ذہنیت ہمارے مذہب اور اخلاق کی نہیں بلکہ معاشرے کے اپنے بنائے ہوئے معیار اور لوگوں کے طے کیے ہوئے ریت اور روایتوں کی دین ہے۔

بد قسمتی سے مشرق میں طبقے اور کلاس کے مسائل مغرب کی نسبت زیادہ ہیں اور یہ وہ دنیاوی پیمانہ ہے جو ہمارے معاشرے میں لوگوں کا مقام، عزت اور مرتبہ طے کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی کچھ اخلاقی قدریں اگر دل سے لگا کے رکھنے کی ہیں تو کچھ رویوں کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکنے کی اشد ضرورت ہے۔

Read more

ٹک ٹاک پہ بین اور ذہنوں کے قفل

ابھی تو میں ٹک ٹاک پہ آئی بھی نہیں تھی کہ وہ پاکستان میں بین ہو گیا۔ یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا میرا بھی مستقبل قریب میں خدا نخواستہ تیسرے درجے کے گانوں پہ اچھل کود کا پروگرام ہے؟ یا کسی گھسے پٹے لطیفے اور ڈائلاگ پہ اداکاری کا ارادہ ہے؟ تو بے فکر ہو جائیں، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ تفریح میں کوئی برائی نہیں، لیکن ٹک ٹاک پہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

مسئلہ کسی بھی ایپ کا نہیں، مسئلہ در اصل ہمارے استعمال کا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو پتا ہو گا کہ ٹک ٹاک پہ کیسی کیسی خرافات ہیں، لیکن بہت کم ہوں گے جن کو معلوم ہو گا کہ اس پہ بہت ساری معلوماتی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ ویڈیوز کی پتا نہیں کتنی تو مختلف اقسام ہیں۔ تفریح، کھیلوں، گانے بجانے سے صحت، طب اور ہیلتھ اور فٹنس تک اور باغ بانی، کھانا پکانے اور ڈیزائننگ سے لے کر ٹیکنالوجی، پبلک اسپیکنگ اور پریزنٹیشن تک، ہزاروں موضوعات ہیں جن کے بارے میں مختصر ویڈیو کے ذریعے بہت کچھ سیکھا، سمجھا اور بانٹا جا سکتا ہے لیکن ہم میں سے بیش تر یہ سب نہیں جانتے۔ کیوں کہ ہمارے یہاں ٹک ٹاک کا تعارف ہی بے ہنگم ڈانس، پھکڑ لطیفے اور مذاق، بے ہودہ گانے اور تیسرے درجے کی اداکاری کے جوہر ہیں۔ کیوں کہ ہماری سوچ یہیں تک ہے اور ہمارے یہاں یہی دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔

Read more

میرا اسماعیل کون

کوئی اہتمام سے تیار ہوا ہے بہت خوش ہے اور اچھا لگ رہا ہے۔ آپ کی نظروں میں ستائش ہے جو سامنے والا باآسانی دیکھ بھی سکتا ہے لیکن آپ نے زبان سے تعریف نہیں کرنی۔ کسی نے نیا گھر لیا ہے، نفاست سے سجایا ہے اور آپ کے اچھے جملوں کا منتظر ہے لیکن آپ ہیں کہ منہ باندھے بیٹھے ہیں، آپ کو اس وقت اپنی ساری حسرتیں یاد آئیں گی۔ آپ مارے باندھے چند جملے کہیں گے لیکن

Read more

!طارق عزیز کو پاکستان کا سلام پہنچے

”ابتدا ہے۔ رب جلیل کے با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید“ ۔
اسکے بعد کوئی معلوماتی بات، خاص لیکن مختصر قصہ یا واقعہ ہوتا تھا۔
کچھ جملے کیسے ہوتے ہیں نا۔ زندگی بھر کے لیے آپ کے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں اور آپ ان چند لائنوں کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لوگوں کی یادداشتوں میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔

Read more

کچھ یادیں یومِ تارڑ پر

یکم مارچ مستنصر حسین تارڑ صاحب المعروف ”چا چا جی“ کا برتھ ڈے ہے۔ تارڑ صاحب سے میرا پہلا تعارف میری عمر کے بہت سارے بچوں کی طرح صبح کی نشریات سے ہوا۔ جس وقت ہلکا زرد سورج تازہ تازہ نمودار ہوا ہوتا اور دھوپ میں ہلکی ہلکی ٹھنڈک ابھی باقی ہوتی، گھر کے باورچی خانے میں امی کے توسط سے برتنوں کی کھڑ کھڑ سنائی دینے لگ جاتی اور کچھ ہی دیر میں گرم گرم پراٹھوں اور چائے کی

Read more

ترقی یافتہ ممالک میں سکول کی تعلیم اور بچوں کی تربیت

پچھلے دنوں اساتذہ اور ان کے رویوں کے بارے میں کچھ تحریریں پوسٹ کیں۔ جہاں بہت سے لوگوں نے سراہا اور اتفاق کیا وہیں کچھ لوگوں نے تنقید بھی کی اور والدین اور بچوں کو بھی برابر کا مورد الزام ٹھہرایا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ تعلیم و تربیت میں والدین اور اساتذہ دونوں کا کردار ہی اپنی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے لیکن تبصرے پڑھ کے یہ اندازہ بھی ہوا کہ بہت سے لوگ باہر کے ممالک

Read more

قرآن کی محبّت جگانے والے

کچھ دن سے بچوں کے مدرسوں میں ہونے والے واقعات کے متعلق جو افسوسناک خبریں آ رہی ہیں ان کے بارے میں تو سوچنا ہی بے انتہا تکلیف دہ ہے لیکن کچھ عرصہ قبل ایک دوست کے ہاں جانا ہوا بہت تاسف سے بتانے لگیں کہ ان کے کسی قریبی رشتے دار کے بچے قرآن کی تعلیم کے لئے کسی مدرسے میں جاتے ہیں۔ وہاں بچے کے استاد نے جانے سبق یاد نہ کرنے پہ یا جانے کس بات پہ اتنا

Read more

روح پر وار کرتے روحانی والدین

کچھ ہفتے قبل رابعہ خرم صاحبہ کی ایک پوسٹ نظر سے گزری، پڑھ کے بہت افسوس ہوا۔ پوسٹ تھی ان کے بچے کے بارے۔ بچے کی ٹیچر نے بچے کی کٹنگ نہ ہونے پر اس کے سر کے بال سامنے پیشانی سے اس طرح کاٹے کہ سر کی جلد نظر آنے لگی بچہ گھر آیا تو اس نے کسی سے کچھ نہ کہا۔ بس جلدی سے سو گیا۔ سوتے بچے کو پیار کرنے لگیں تو نظر اس خالی جلد پر

Read more

یونیورسٹی کے موسم

گلابی سردیوں کی نئی نئی صبح تھی، تاریخ غالباً 4 جنوری تھی، کراچی کا جاڑا یوں بھی اپنے اندر کئی فنٹیسیز لئے آتا ہے اور وہ تو پھر یونیورسٹی کا پہلا دن تھا، جوش و خروش سے بھرپور، یوں لگتا تھا کہ بس تقریبا انجینر بن ہی چکے ہیں اور آدھی دنیا تو سمجھو فتح ہو ہی گئی۔ یونی فارم دیکھ کے دل کچھ بجھا بجھا سا تھا یہ کیا یونیورسٹی میں بھی یونیفارم؟ ان دنوں انتظامیہ کی طرف سے

Read more

فیمنزم کیا ہے؟

”میرے پاس تم ہو“ نے کچھ کیا نہیں کیا، فیمنزم کے بارے میں ایک صحت مند بحث ضرور چھیڑ دی۔ چاہے وہ خلیل الرحمن قمر اور طاہرہ عبداللہ صاحبہ کا مکالمہ ہو یا مختلف طبقے کی خواتین کا احتجاج، معاشرے میں مرد اور عورت کے کردار اور افکار پہ بات کی گئی جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ فیمنزم کیا ہے؟ مختلف لوگ اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں اور اکثر لوگ اس لفظ سے خائف ہو جاتے

Read more

سوشل میڈیا اور ہمارے رویے

سوشل میڈیا کی شیئرنگ اور تصویریں معاشرے میں ہے چینی اور انتشار کا باعث بنتی ہیں، یہ بہت سے لوگوں کا موقف ہے جو کے ایک حد تک ٹھیک بھی ہے۔ جب آپ دوسروں کو فینسی ریسٹورنٹس میں کھاتا پیتا اور انٹرنیشنل ویکیشنز پہ گھومتا پھرتا دیکھتے ہیں اور خود یہ سب آپ کی دسترس سے باہر ہو تو احساسِ محرومی بڑھ جاتا ہے۔ دوسری طرف خوش باش تصویریں شیئر کرتے وقت یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ نظر

Read more

بلینگ) اور ہمارا معاشرہ) Bullying

بیٹی کے اسکول میں اینٹی بلینگ ویک منایا گیا جس کے لیے اس نے بڑی محنت سے مقابلے میں حصہ لینے کے لئے خوبصورت رنگین پوسٹر بنایا جس نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ جب ہمارے سب سے بڑے بیٹے نے نیا نیا اسکول جانا شروع کیا تو ہر وقت سننے کو ملتا ”فلاں نے میری فیلنگ ہرٹ کر دی“ ”کسی کی فیلنگ ہرٹ نہیں کرتے“ ”میں اس لیے رویا تھا کہ میری فیلنگ ہرٹ ہو گئی“۔

Read more

برف زاروں کے گیت

پہلی پہلی چیزیں اور اولین تجربے دونوں ہی عموما یاد گار اور خوبصورت ہوتے ہیں جیسے لڑکپن کا پہلا خواب، پہلی محبت، پہلی کمائی، شادی کے اولین دن، پہلا گھر، پہلے بچے کا اولین لمس، گرمیوں کی پہلی بارش اور کینیڈا میں موسم سرما کی پہلی برف باری۔ ذرا سوچیں کھڑکی سے باہر گرتی موتیوں یا روئی کے گالوں سی نرم برف اور اندر گرم آتشدان کے قریب کمبل پاؤں پہ ڈالے مونگ پھلی کا مزہ لیتے ہوے کوئی اچھی

Read more

نانی اماں اور ان کی جلدی کتابوں کے ٹرنک

ان دنوں ویک اینڈ جمعرات کو ہوا کرتا تھا اور اپنے دور کے بہت سے بچوں کی طرح ہمارا رخ بھی اپنی نانی اماں کے گھر کی طرف ہوتا جن کو سب ”اماں“ کہاں کرتے تھے۔ جب حالات ہر طرف سازگار ہوتے اور بڑوں اور رشتے داریوں میں روٹھنے منانے کا کوئی سلسلہ نہ ہوتا تو چھٹی کے دن سب کی دوڑ اماں کے گھر کی طرف لگتی، اماں خاصی شوقین تھیں۔ بڑھاپے کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آدمی کی

Read more

بچوں کا ادب اور کتابوں کا شوق سفر

کتابیں پڑھنا کیوں کم ہوگیا ہے اور بچوں کی کتابوں سے دلچسپی کیوں ختم ہوگئی ہے؟ اس کی وجہیں بہت سی ہیں جیسے بچوں کے پاس بہت سے اور آپشن آ گئے ۔ ہیں، بچوں کے لئے جدید دور کے حساب سے ادب اور کتابوں کی تخلیق کم ہو گئی ہے لیکن اس کا سادہ اور آسان سا جواب یہ ہے کہ بڑوں نے کتابیں پڑھنا اور قصّے کہانیاں سننا اور سنانا چھوڑ دیا ہے۔ بچے شعوری اور لا شعوری

Read more

جھیل کنارے ایک کتاب !

  کیا آپ نے کبھی پارک میں بیٹھ کر کسی جھیل کنارے کوئی اچھی سی کتاب پڑھی ہے ؟ ہم جب بھی کبھی پکنک یا کے لئے کسی پارک میں جاتے تھے اور میں کسی کو دنیا مافیا سے بےخبر جھیل کنارے کسی کتاب میں گم دیکھتی تھی تو حسرت سے سوچتی تھی ہاے کتنی فرصت ہے، کتنے مزے ہیں، کیسے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں سرسراتی ہری گھانس سے اٹھتی تازہ مہک اپنے اندر اتارتے ہوے اور لہروں کی دھیمی

Read more

دو رنگ کے الٹے موزے

دو تین سال کی عمر میں بچہ ہر چیز خود کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے کیے ہوے چھوٹے چھوٹے الٹے سیدھے کاموں پہ بھی فخر محسوس کرتا ہے جیسے میرے تین سالہ بیٹے کے دو رنگوں کے الٹے موزے۔ اگر میرے پہلے دو بچوں میں سے کوئی اس طرح موزے پہن کے باہر جانے کی ضد کرتا تو شاید میں کبھی نہ جاتی اور زبردستی اسے ایک جیسے موزے پہنے پہ مجبور کرتی لیکن اس طرح کے موزوں

Read more

اوپر تلے کے

(بھائی کی سالگرہ پہ بہن بھائی کے خوبصورت رشتے کے نام ) بڑوں سے ہمیشہ سنا تھا کہ اوپر تلے کے بہن بھائیوں میں ہمیشہ تکرار رہتی ہے اور دوستی بھی اتنی ہی ہوتی ہے صحیح ہی سنا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ تین سالہ یحییٰ دس سالہ فاطمہ کے لئے ٹام اینڈ جیری کا جیری بنا رہتا ہے اور اس کا سایہ بن کے اس کا ناک میں دم کیے رہتا ہے۔ آپی یہ

Read more

! ہجرتوں کے مارے لوگ

اپنے بچپن میں ہم نے اپنے اطراف جن بڑوں کو دیکھا، جو تقسیم کے وقت موجود تھے یا کسی طور اس کا حصّہ تھے، ان کو ہمیشہ اپنی آبائی جگہوں کی باتیں کرتے ہوئے پایا۔ نانی اماں ٹونک کا ذکر کیا کرتی تھیں اور وہاں کا ذکر کرتے وقت ان کے چہرے پہ ایک خوشی کا سایا آ کے گزر جاتا تھا۔ پاکستان آکے بس تو گئے تھے لیکن اپنی جڑوں سے نہیں کٹ پائے تھے۔ ایک بار دروازے کی

Read more

پہلے بچے پر ماں باپ کے تجربات

پہلا بچہ تجرباتی بچہ ہوتا ہے اس لیے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ والدین کی بھی پیدائش ہوتی ہے۔ نا تجربہ کاری، معاشرتی دباؤ، بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش اور ضرورت سے زیادہ تحفظات کا شکار نئے نئے ماں باپ آزادی کے بعد ایک د م سے ذمہ داری پڑنے پہ بوکھلا جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ اگر آس پاس میں اور بھی بچے ساتھ ساتھ دنیا میں آئے ہوں تو ساری زندگی کے لئے مقابلے کی کیفیت میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ ہر چند کہ یہ بات ہر طریقے سے ثابت ہو چکی ہے کہ ہر بچہ اور اس کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں اور پہلے بچے اور گھر میں دوسرے یا تیسرے نمبر کی اولاد کی سمجھ بوجھ اور نشو نما میں بے انتہا فرق ہوتا ہے لیکن کھانے پینے سے لے کر گھٹنے اور پاؤں پاؤں چلنے تک اور قد کاٹھ اور بولنے سے لے کر تعلیم اور پڑھائیوں تک لوگ موازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے پہلے ہی بے جا تشویش سے نمٹتے ماں باپ کے لئے مزید الجھن اور مشکل کھڑی ہو جاتی ہے۔

Read more

سرفراز اس بدتمیزی پر ہم شرمندہ ہیں

ابھی ایک ویڈیو نظر سے گزری، کچھ ہی دیر کی بات ہے سوشل میڈیا پہ وائرل ہو جائے گی، سارا زمانہ دیکھ لے گا اور ہماری قوم کی اخلاقی پستی اور گراوٹ پہ عش عش کرے گا۔ جو ذرا سا بھی احساس رکھتے ہیں ان کی کیفیت شاید مجھ سے مختلف نہ ہوگی۔ غم، غصّہ، تکلیف، دکھ، اداسی، شرمندگی اور بے عزتی۔ ویڈیو ہے کسی صاحب کی (میں نہ چاہتے ہوے بھی انھیں عزت سے مخاطب کر رہی ہوں ) جن کو ایک پبلک پلیس پہ پاکستانی کپتان سرفراز مل گئ

Read more

ماؤں کی جھنجھلا دینے والی صبحیں بھی خوبصورت ہیں

ماؤں کی بیشتر صبحیں ایسی ہی کیوں ہوتی ہیں؟ بھاگ دوڑ، اٹھا پٹک، گھڑی کی سیکنڈ کی سوئی کے ساتھ چلتے پاؤں ایک قدم ادھر ایک قدم ادھر، ایسا بھی تو ہو سکتاہے کہ صبح کے ایک دو گھنٹوں کا وقت ذرا تھم کر چلا کرے یا دو تین گھنٹوں کے بعد کی گھڑیاں سویرے والیوں سے اپنی جگہ ادل بدل کر لیا کریں۔ اگر یہ پڑھتے ہوئے آپ کو میری ذہنی حالت پہ کچھ شبہ ہو رہا ہے تو بالکل ٹھیک ہے کیونکہ ہم ماؤں کی ذہنی حالت صبح سویرے کچھ ایسی ہی ہو تی ہے اور اس کیفیت میں تھوڑا اور اضافہ ہو جاتا ہے جب میاں جی دورے پہ ہوں۔

آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا صبح چار بجے انھیں خدا حافظ کہا پھر نیند کا ایک جھونکا، سویرے سویرے بستر سے نکلنا پہلے ہی ایک امتحان اس پہ سب کو اٹھانے کا فریضہ سر انجام دینا پڑے تو کوفت اور جھلاہٹ غالب آ جاتی ہے۔ چھوٹے صاحب ابھی اسکول نہیں جاتے ان کو اٹھانا سب سے مشکل کام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ اسکول جانا ہو نہ کام پہ ایسے میں کوئی ہمیں صرف اس لیے نرم گرم بستر سے نکالے کہ بہن اور بھائی کو چھوڑنے جانا ہے تو ہم بھی وہ فساد برپا کریں کہ الامان الا حفیظ لیکن جب وہ یہی کام کرتے ہیں تو سمجھ نہیں آتا کے کیا کریں۔

Read more

ہم کرسمس نہیں، عید مناتے ہیں

ہر بدھ کے روز آنے والا اشتہاری ”فلایر“ کا پلندہ اگر کوئی خاص موقع یا چیز کی تلاش نہ ہو تو عموما گھر کے اندر آئے بغیر ردی کے جہازی سائز کے ڈبے کا پیٹ بھرنے کے کام آتا ہے لیکن پچھلے دو تین برس سے میں رمضان اور عید سے پہلے آنے والے یہ اشتہاری پمفلٹ بڑے اہتمام سے دیکھتی ہوں، کچھ لینا نہ بھی ہو تو ”رمضان کریم“ اور ”عید مبارک“ کے جلی حروف کے ساتھ رمضان اور عید پہ خاص طور پہ استعمال ہونے والی اشیا پہ لگی سیل دیکھ کر ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے، جب ہم چودہ سال قبل کینیڈا آئے تھے تو رمضان اور عید بس اپنے رشتے داروں اور قریبی دوستوں میں منایا جانے والا تہوار تھا، ایک دوسرے کو افطار پہ بلا کر اور چاند رات کو چیدہ چیدہ میلوں میں شریک ہو کے اور اپنے لوگوں کو ایک ساتھ جمع دیکھ کے ہم خود کو رمضان اور عید کا احساس دلانے کی کوشش کرتے تھے۔

Read more

کینیڈا کی سنڈریلائیں اور میڈیول ٹائمز

مہینے دو مہینے میں ایک دن ایسا آتا ہے جب ہم دوستیں سنڈریلا بن جاتی ہیں، وہ سنڈریلا نہیں جو اپنا جوتا بھولنے شہزادے کی تلاش میں نکل پڑی ہو بلکے وہ سنڈریلا جو کچھ دیر کے لئے اپنے شہزادے شہزادیوں سے بریک لے کر انھیں اپنے بادشاہ کو سونپ کر، گھر کے کام کاج بھول کے، اپنے آفس اور نوکریوں کی ٹینشن بالا ٍطاق رکھ کے تھوڑی دیر کے لئے کھلندڑی شہزادی بن جاتی ہے، کینیڈا کی سنڈریلاؤں کے کام کبھی ختم نہیں ہوتے، بھاگتی دوڑتی زندگی میں گھراور باہر کے کام بچوں اور احباب کے پلڑوں کو کتنا ہی برابر کرنے کی کوشش کروں میزان قائم نہیں ہو پاتا اس لیے سانس لینے کے لئے کبھی کبھی زندگی کی ایک ہی ڈگر پہ دوڑتی ریل گاڑی سے باہر جھانکنا بھی ضروری ہے تاکہ تازہ دم ہو کے دوبارہ سفر جاری رکھا جا سکے۔

Read more

مائیں بے سُری نہیں ہوتیں

 کچھ دن قبل میں ایک تقریب میں شریک تھی کھانے کا وقت ہوا تو میرا دو سالہ بیٹا میرے ساتھ آ بیٹھا اور کھانا کھاتے ہوئے باتیں کرنے لگا، قریب بیٹھی ہوئی ایک اجنبی خاتون نے انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ایک دم کہا "ارے یہ تو بول رہا ہے” ان کا انداز ایسا تھا جیسے بچے کا بولنا کوئی انوکھا کام ہو میں اپنی مسکراہٹ نہ چھپا سکی "جی ہاں ماشاءاللہ” میں نے جواب دیا، کتنا بڑا ہے؟

Read more