برف زاروں کے گیت

پہلی پہلی چیزیں اور اولین تجربے دونوں ہی عموما یاد گار اور خوبصورت ہوتے ہیں جیسے لڑکپن کا پہلا خواب، پہلی محبت، پہلی کمائی، شادی کے اولین دن، پہلا گھر، پہلے بچے کا اولین لمس، گرمیوں کی پہلی بارش اور کینیڈا میں موسم سرما کی پہلی برف باری۔ ذرا سوچیں کھڑکی سے باہر گرتی موتیوں…

Read more

نانی اماں اور ان کی جلدی کتابوں کے ٹرنک

ان دنوں ویک اینڈ جمعرات کو ہوا کرتا تھا اور اپنے دور کے بہت سے بچوں کی طرح ہمارا رخ بھی اپنی نانی اماں کے گھر کی طرف ہوتا جن کو سب ”اماں“ کہاں کرتے تھے۔ جب حالات ہر طرف سازگار ہوتے اور بڑوں اور رشتے داریوں میں روٹھنے منانے کا کوئی سلسلہ نہ ہوتا…

Read more

بچوں کا ادب اور کتابوں کا شوق سفر

کتابیں پڑھنا کیوں کم ہوگیا ہے اور بچوں کی کتابوں سے دلچسپی کیوں ختم ہوگئی ہے؟ اس کی وجہیں بہت سی ہیں جیسے بچوں کے پاس بہت سے اور آپشن آ گئے ۔ ہیں، بچوں کے لئے جدید دور کے حساب سے ادب اور کتابوں کی تخلیق کم ہو گئی ہے لیکن اس کا سادہ…

Read more

جھیل کنارے ایک کتاب !

  کیا آپ نے کبھی پارک میں بیٹھ کر کسی جھیل کنارے کوئی اچھی سی کتاب پڑھی ہے ؟ ہم جب بھی کبھی پکنک یا کے لئے کسی پارک میں جاتے تھے اور میں کسی کو دنیا مافیا سے بےخبر جھیل کنارے کسی کتاب میں گم دیکھتی تھی تو حسرت سے سوچتی تھی ہاے کتنی…

Read more

دو رنگ کے الٹے موزے

دو تین سال کی عمر میں بچہ ہر چیز خود کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے کیے ہوے چھوٹے چھوٹے الٹے سیدھے کاموں پہ بھی فخر محسوس کرتا ہے جیسے میرے تین سالہ بیٹے کے دو رنگوں کے الٹے موزے۔ اگر میرے پہلے دو بچوں میں سے کوئی اس طرح موزے پہن کے باہر…

Read more

اوپر تلے کے

(بھائی کی سالگرہ پہ بہن بھائی کے خوبصورت رشتے کے نام ) بڑوں سے ہمیشہ سنا تھا کہ اوپر تلے کے بہن بھائیوں میں ہمیشہ تکرار رہتی ہے اور دوستی بھی اتنی ہی ہوتی ہے صحیح ہی سنا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ تین سالہ یحییٰ دس سالہ فاطمہ کے…

Read more

! ہجرتوں کے مارے لوگ

اپنے بچپن میں ہم نے اپنے اطراف جن بڑوں کو دیکھا، جو تقسیم کے وقت موجود تھے یا کسی طور اس کا حصّہ تھے، ان کو ہمیشہ اپنی آبائی جگہوں کی باتیں کرتے ہوئے پایا۔ نانی اماں ٹونک کا ذکر کیا کرتی تھیں اور وہاں کا ذکر کرتے وقت ان کے چہرے پہ ایک خوشی…

Read more

پہلے بچے پر ماں باپ کے تجربات

پہلا بچہ تجرباتی بچہ ہوتا ہے اس لیے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ والدین کی بھی پیدائش ہوتی ہے۔ نا تجربہ کاری، معاشرتی دباؤ، بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش اور ضرورت سے زیادہ تحفظات کا شکار نئے نئے ماں باپ آزادی کے بعد ایک د م سے ذمہ داری پڑنے پہ بوکھلا جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ اگر آس پاس میں اور بھی بچے ساتھ ساتھ دنیا میں آئے ہوں تو ساری زندگی کے لئے مقابلے کی کیفیت میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ ہر چند کہ یہ بات ہر طریقے سے ثابت ہو چکی ہے کہ ہر بچہ اور اس کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں اور پہلے بچے اور گھر میں دوسرے یا تیسرے نمبر کی اولاد کی سمجھ بوجھ اور نشو نما میں بے انتہا فرق ہوتا ہے لیکن کھانے پینے سے لے کر گھٹنے اور پاؤں پاؤں چلنے تک اور قد کاٹھ اور بولنے سے لے کر تعلیم اور پڑھائیوں تک لوگ موازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے پہلے ہی بے جا تشویش سے نمٹتے ماں باپ کے لئے مزید الجھن اور مشکل کھڑی ہو جاتی ہے۔

Read more

سرفراز اس بدتمیزی پر ہم شرمندہ ہیں

ابھی ایک ویڈیو نظر سے گزری، کچھ ہی دیر کی بات ہے سوشل میڈیا پہ وائرل ہو جائے گی، سارا زمانہ دیکھ لے گا اور ہماری قوم کی اخلاقی پستی اور گراوٹ پہ عش عش کرے گا۔ جو ذرا سا بھی احساس رکھتے ہیں ان کی کیفیت شاید مجھ سے مختلف نہ ہوگی۔ غم، غصّہ، تکلیف، دکھ، اداسی، شرمندگی اور بے عزتی۔ ویڈیو ہے کسی صاحب کی (میں نہ چاہتے ہوے بھی انھیں عزت سے مخاطب کر رہی ہوں ) جن کو ایک پبلک پلیس پہ پاکستانی کپتان سرفراز مل گئ

Read more

ماؤں کی جھنجھلا دینے والی صبحیں بھی خوبصورت ہیں

ماؤں کی بیشتر صبحیں ایسی ہی کیوں ہوتی ہیں؟ بھاگ دوڑ، اٹھا پٹک، گھڑی کی سیکنڈ کی سوئی کے ساتھ چلتے پاؤں ایک قدم ادھر ایک قدم ادھر، ایسا بھی تو ہو سکتاہے کہ صبح کے ایک دو گھنٹوں کا وقت ذرا تھم کر چلا کرے یا دو تین گھنٹوں کے بعد کی گھڑیاں سویرے والیوں سے اپنی جگہ ادل بدل کر لیا کریں۔ اگر یہ پڑھتے ہوئے آپ کو میری ذہنی حالت پہ کچھ شبہ ہو رہا ہے تو بالکل ٹھیک ہے کیونکہ ہم ماؤں کی ذہنی حالت صبح سویرے کچھ ایسی ہی ہو تی ہے اور اس کیفیت میں تھوڑا اور اضافہ ہو جاتا ہے جب میاں جی دورے پہ ہوں۔

آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا صبح چار بجے انھیں خدا حافظ کہا پھر نیند کا ایک جھونکا، سویرے سویرے بستر سے نکلنا پہلے ہی ایک امتحان اس پہ سب کو اٹھانے کا فریضہ سر انجام دینا پڑے تو کوفت اور جھلاہٹ غالب آ جاتی ہے۔ چھوٹے صاحب ابھی اسکول نہیں جاتے ان کو اٹھانا سب سے مشکل کام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ اسکول جانا ہو نہ کام پہ ایسے میں کوئی ہمیں صرف اس لیے نرم گرم بستر سے نکالے کہ بہن اور بھائی کو چھوڑنے جانا ہے تو ہم بھی وہ فساد برپا کریں کہ الامان الا حفیظ لیکن جب وہ یہی کام کرتے ہیں تو سمجھ نہیں آتا کے کیا کریں۔

Read more