پرانی انارکلی میں ناصر کاظمی کا گھر


اس کمرے میں ناصر کا پلنگ اور کرسیاں ہوتی تھیں۔  کتابوں کی چھوٹی سی الماری اب بھی ہے لیکن کتابوں کے بغیر۔ باصر کاظمی نے بتایا کہ کمرے کی نکڑ پر چولہا تھا جس پر اُن کی والدہ کھانا پکانا کرتیں۔  اس گھر میں ناصر کے اور بھی رشتے دار رہتے تھے۔  سب میں بڑا سلوک تھا۔ تاثیر نقوی کا خاندان اوپری منزل پر تھا، ناصر کاظمی کرشن نگر کو سدھارے تو ان کا خاندان نیچے کی منزل میں آگیا۔ باصر اور ان کے چھوٹے بھائی حسن کاظمی ساہیوال میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے، تاثیر نقوی کی پیدائش اسی مکان میں ہوئی۔

باصر کاظمی نے بتایا:

 ” اس گھر میں ٹھہرنے والے تمام احباب میری والدہ کے عزیز تھے۔  والدہ کی دو خالاؤں اور ایک ماموں کے خاندان اور تیسری خالہ کے بیٹے (تاثیر نقوی کے والد) کا کنبہ۔ “

باصر کاظمی نے بتایا کہ یہ مکان چھوڑا تو کنبے بھر کا سارا سامان دو تانگوں میں آگیا۔ آرام کرسی کا ذکر وہ کرتے ہیں جو سب کے استعمال میں آئی، ناصرکو تو اس پر نیند بھی آجاتی۔ یہ تو آرام کرسی تھی، ناصر تو دفتری کرسی پر بھی آنکھ لگا لیتے تھے، ان کی ڈائری کے پہلے ایڈیشن میں کرسی پر، ان کے محو استراحت ہونے کی تصویر موجود ہے۔  دوستوں میں حنیف رامے شوق سے اس آرام کرسی پر بیٹھتے جو آگے چل کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی پر بیٹھے۔  ہمارے میزبان تاثیرنقوی، باصر کاظمی کے کزن ہیں۔  مہذب اور با اخلاق۔ شاعر ہیں اور ادب سے جڑے ہیں، اس لیے ان کے رویے میں وہ اکتاہٹ نہ تھی جو ادب سے عدم دلچسپی کے حامل یا ناصر کے مرتبے سے کم آگاہ فرد میں ہوتی، وہ بڑے شوق سے گفتگو میں شریک رہے، انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کہ ناصر کاظمی کے نام سے کسی سڑک اور گلی کا نام ہونا چاہیے، اور زیادہ مناسب تو یہی ہے کہ یہ کام ان علاقوں میں ہوجائے جہاں ناصر کی رہائش رہی ہے۔  باصر کاظمی نے بتایا کہ ’کرشن نگر میں جس گلی میں ان کا گھر ہے اس کا نام حکیم سٹریٹ ہے، آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حکیم صاحب کون تھے؟ لیکن نام چلا آرہا ہے‘ ، اس گلی کا نام ناصر کاظمی کے نام پر رکھا جا سکتا ہے۔  حکیم سٹریٹ کا نام بدلے نہ بدلے لیکن یہ ضرور ہے کہ کرشن نگر، ناصر کی زندگی میں ہی اسلام پورہ ہو گیا تھا۔ ناصر کاظمی کے نام سے کسی سڑک کا نام منسوب نہ ہونے پر افسوس ہی ظاہر کیا جا سکتا ہے۔  اس شہر میں تو ایسی ہستیاں بھی موجود ہیں جنھوں نے اپنی زندگی میں سڑکوں اور گلیوں کا نام خود سے منسوب کرا لیا۔

باصر کاظمی نے بتایا کہ وہ ساڑھے تین سال اس مکان میں رہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ کم از کم دو واقعات ان کی یادداشت میں اب بھی جاگزیں ہیں :

 ” ایک روز رات کوباجی (ہم اپنی والدہ کو باجی کہتے تھے ) کھانا پکا رہی تھیں کہ گلی سے ایک فقیر کی صدا سنائی دی۔ باجی نے ایک روٹی پر کچھ خشک سالن رکھ کے مجھے دیا کہ اسے دے آو ¿ں۔  میں نے دروازے پہ پڑی ہوئی چق اٹھائی۔ باہر اندھیرا تھا، فقیر نظر نہیں آرہا تھا، میں نے روٹی اس کے ہاتھ پر رکھی تو وہ زمین پر گر گئی، مجھے بڑی شرمندگی ہوئی اور میں نے باجی سے ایک اور روٹی لاکر اس فقیر کو دی۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ میرے چھوٹے بھائی حسن اور میرے کھلونوں میں ریل گاڑی کا ایک سیٹ بھی تھا۔ ایک دن ہم پٹری کے ٹکڑے جوڑ کے، دائرے کی شکل میں ٹریک مکمل کر کے اس پہ بوگیاں سیٹ کر رہے تھے کہ ہمارے تایا حامد حسین گھر آئے۔  ہم نے انھیں یہ سرکلر ٹرین بڑے شوق سے دکھائی اور یوں ظاہر کیا کہ گویا یہ ہماری ایجاد ہو۔  ”

باصر کاظمی سے سے ہم نے پوچھا: اس گھر میں بیتے دنوں کی کوئی بات جو آپ نے والدہ سے سنی ہواور ہم سے شیئر کرنا چاہیں؟

اس سوال پر انھوں نے بتایا:

 ” خواتین کا ایک دوسرے سے معمول کا ایک سوال یہ ہوتا کہ آج کیا پکایا ہے۔  والدہ بتاتی تھیں کہ جب کبھی پکانے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو وہ چولہے پر صرف خالی پانی کی دیگچی چڑھا دیتیں اور کہتیں کہ دال پک رہی ہے، حالانکہ گھر میں دال بھی نہیں ہوتی تھی۔ “

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3