حنائے قناعت اور زرِ نابِ سلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگلے روز محترم محمد سلیم الرحمن سے ہلکی سی ڈانٹ کھائی تو قسم سے سرشار ہو گیا۔ ہوا یوں کہ محمد حسن عسکری کے ترجمے ”موبی ڈک“ پر ایک تعارفی شذرہ لکھتے ہوئے اس ترجمے کے بارے میں مظفرعلی سید کا ایک تبصرہ یاد آیا جو انہوں نے ڈی ایچ لارنس کے منتخبات کے ترجمے کے دوران لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ

”سمندر کی زندگی، وہیل کے شکار کی تفصیلات، ملاحی کی اصطلاحات، اور دیگر کوائف اس میں ایسے تھے کہ استاد مرحوم (عسکری) کے اس ترجمے کو وہ حیثیت دینا مشکل ہے جو ان کے فرانسیسی ناولوں کے ترجموں کو حاصل ہے“

اس تبصرے کے ساتھ ہی معاً یاد آیا کہ جب مظفر صاحب کی مترجمہ کتاب ”فکشن فن اور فلسفہ“ شائع ہوئی تو ”موبی ڈک“ پر ڈی ایچ لارنس کا مضمون ترجمہ کرتے ہویئی ”موبی ڈک“ کے اقتباسات عسکری والے ترجمہ سے استعمال کرنے کے بجائیے مظفر صاحب نے انہیں خود نئیے سرے سے اردو میں ترجمہ کیا تھا کیونکہ مذکورہ سبب کی بنا پر مظفر صاحب کو عسکری والا ترجمہ کچھ بہتر محسوس نہ ہوا تھا۔

راقم کے ذہن میں تھا کہ مظفر علی سید کی اس بات پر تبصرہ کرتے اردو کے مایہ ناز مترجم محمد سلیم الرحمن نے تفنناً اپنے ایک کالم میں لکھا تھا ’اگر عسکری کے ترجمہ کے نادرست ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ماہی گیری کی اصطلاحات سے واقف نہیں تھے تو کیا خود مظفر علی سید کسی زمانے میں جہازی رہے ہیں جو یہ عسکری صاحب سے بہتر ترجمہ کرنے کے قابل ہو سکے تھے؟ اس کے بعد سلیم صاحب نے مظفر علی سید کے کیے ہوئیے ترجمے کو عسکری کے ترجمے کے مقابل رکھ کے واضح کیا تھا کہ فلاں فلاں مقامات پر عسکری کا ترجمہ مظفر علی سید سے بہتر ہے‘

آج اپنا شذرہ لکھتے ہوئیے یہ بات ذہن میں آئی مگر سلیم صاحب کے کالم کا حوالہ مستحضر نہ ہونے کی وجہ سے برادرم محمود الحسن سے پوچھا تو انہوں نے بات کی تصدیق تو کی لیکن کالم کا حوالہ نہ دے سکے۔ چونکہ ”موبی ڈک“ والے شذرے پر سلیم صاحب کی بات کا حوالہ دینا چاہتا تھا اس لئے تصدیق حاصل کرنے کے لئے خاکسار نے ڈرتے ڈرتے سلیم الرحمن صاحب کو فون کر لیا۔ سلیم صاحب کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک مجھ جیسے ہیچمداں پر ہمیشہ نگاہِ شفقت رکھنا بھی ہے۔ لیکن انہیں فون کرتے ہوئے ڈر دراصل ایک اور وجہ سے لگا۔ پچھلے دنوں یارِغار اور ہمدم دیرینہ اکبر معصوم کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ایک دن اچانک سلیم صاحب کا فون آگیا اور مجھے حکم دیا کہ ” ’سویرا‘ کے گوشۂ اکبر معصوم کے لیے تم اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں اکبر پر ایک شخصی قسم کا مضمون لکھ دو“۔ میں نے اس بات کو اپنے لیے اعزاز جان کر ہامی بھرلی۔ 1989 میں جب میں لاہور میں تھا تو اس زمانے میں اکبر ایک دفعہ میرے پاس آئے تھے۔ دیگر بہت سے لوگوں کے علاوہ میں نے سلیم صاحب سے بھی اکبر کی شاعری کا ذکر کیا تھا اور یا شاید ملاقات بھی کرائی تھی۔ سال 2000 میں جب اکبر کی پہلی کتاب ”اور کہاں تک جانا ہے“ شائع ہوئی تو کراچی میں اس کی تقریب رونمائی کے لیے سلیم صاحب نے ایک پیراگراف بھی لکھ کر دیا جو میں نے اکبر کو بھجوا دیا تھا۔ وہ اسی زمانے میں ایک سوینئیر میں شائع بھی ہوا تھا۔

سلیم صاحب کے فون کے بعد میں نے اسی رات اکبر پر لکھنا شروع کر دیا مگر چار پانچ پیراگراف لکھنے کے بعد طبیعت پر کچھ ایسی روک لگی کہ پچھلے پندرہ بیس دن سے ایک سطر بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔

اسی لئے آج سلیم صاحب کو فون کرتے ہوئے کچھ ہچکچاہٹ رہی کہ وہ اس بارے میں پوچھیں گے تو میرے پاس سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن سلیم صاحب کی محبت کہ مضمون کے بارے میں کوئی بات نہیں چھیڑی اور مذکورہ مسئلے کی تصدیق کی کہ ’ہاں میں نے مظفر علی سید کے جواب میں یہ باتیں ایک کالم میں لکھی تھیں کیونکہ کہ ”موبی ڈک“ کے مذکورہ اقتباسات کا عسکری والا ترجمہ سید صاحب کے ترجمے سے بہتر تھا۔ میں نے شکریہ کے ساتھ شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے از خود بتایا کہ اکبر پر مضمون میں لکھ رہا ہوں لیکن میری رفتار سست ہے۔ جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ نرم خو، حریری مزاج اور دھیمی دھیمی آواز و انداز سے باتیں کرنے والے سلیم الرحمن کی طرف سے میرے لئے ڈپٹ ہی تھی۔ کیا ان کا کوئی مزاج دان قیاس کرسکتا ہے کہ انہوں نے کیا کہا ہوگا۔ ؟

مضمون کی سست روی کے جواب میں سلیم صاحب بولے ”وہ جو آپ فیس بک خواہ مخواہ لکھتے رہتے ہیں اسے چھوڑیں اور اسی وقت میں اکبر پر مضمون لکھیں“۔

سلیم صاحب کی زبان سے سے یہ سن کر میں دھک سے رہ گیا۔ یا للعجب، وہ آدمی جو موبائیل فون تک استعمال نہیں کرتا وہ فیس بک پر میری درفنتیوں سے کیسے واقف ہے؟ میں نے پوچھا ”آپ کیسے جانتے ہیں“؟ مسکراتے ہوئے بولے ”بس کوئی آکے پڑھا جاتا ہے۔ “ تھوڑا رکے، پھر بولے ”بس اس میں سے کچھ ٹائم نکال کر اکبر پر مضمون لکھ دیں“۔ میں نے بھی کان پکڑ کر کہہ دیا ”جی ضرور“۔ سچ پوچھیے تو سلیم صاحب کی یہ بے نام سی سرزنش مجھے بہت اچھی لگی تھی۔

اردو ادب اور مغربی فکشن اور شاعری کے تراجم اور ترجمہ نگاری کی روایت سے دلچسپی رکھنے والی اگلی نسل کے لوگ تو اس درویش صفت ادیب و شاعر اور اردو و انگریزی کے منفرد کالم نگار سے خوب واقف ہیں مگر آج کے سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والی نئی پود کو شاید معلوم نہ ہو کہ محمد سلیم الرحمن کون ہیں۔ اور سچ پوچھئیے تو جو مخلوق ادبی دنیا کے غل مچاتے کف اڑاتے چنگھاڑتے ماحول ہی سے تعلق رکھتی ہو اسے یہ جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے کہ لاہور شہر میں ایک ہی وضع قطع کی زندگی گزارتا، بنا کسی بڑے ادارے سے وابستہ ہوئے، بغیر بھاری بھاری تنخواہ اور وظیفے حاصل کیے، اپنے دھن میں مگن و مست گزشتہ ساٹھ ستر برسوں سے تنِ تنہا اپنی شاعری، افسانوں اور دنیا بھر کے ادب کے تراجم سے اردو ادب کو ثروت مند کرتا اردو اور انگریزی زبان کا یہ منفرد نثرنگار کون ہے!

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •