معاشی زلزلہ اور ہوائی قلعوں کا انہدام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوائی قلعے ایک ایک کر کے اڑڑڑدھم ہوئے جاتے ہیں۔۔ ہوائی قلعے یوں تو بے شمار ہیں لیکن ان میں سے چار قابل ذکر ہیں۔۔۔ اولین اور بلند ترین یہ والا تھا کہ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی سابقہ حکومتوں سے مایوس فارن ریزیڈنٹ پاکستانی اپنے خزانوں (ہئیں؟) کے منہ کھول دیں گے، بیرون ممالک میں رکھی اپنی تمام دولت فوری طور پر پاکستان منتقل کر دیں گے۔ اس ہوائی قلعے کا ایک ذیلی قلعہ بھی تھا اور وہ یہ تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی محب وطن تو ہیں لیکن انہیں چور حکومتوں پر اعتماد نہیں۔ اب عمران کی صورت میں یہ اعتماد عود کر آیا ہے۔ تحریک انصاف کے حامیوں کا ایمان تھا کہ عمران نیازی کے وزیراعظم بنتے ہی ایک ماہ کے اندر اندر فارن کرنسی کا ذخیرہ اٹھارہ ارب سے بڑھ کر اٹھارہ سو ارب پر جا پہنچے گا۔۔ اس کی ایک مثال تو مراد سعید کا وہ مشہور و معروف بیان تھا کہ عمران خان کے پی ایم بنتے ہی دو سو ارب ڈالرقومی خزانے میں آ جائیں گے۔ ایک سو ارب بیرونی ساہوکاروں کے منہ پر ماریں گے اور ایک سو ارب عوام پر خرچ کریں گے۔ لیکن ہوا یوں کہ دال ہی گر گئی۔ اٹھارہ ارب کا ذخیرہ گر کر آٹھ ارب پر لڑھک آیا۔۔ تو صاحب یہ تھا وہ پہلا ہوائی قلعہ جو زمیں بوس ہوا۔۔۔

دوسرا ہوائی قلعہ یہ تھا کہ پاکستان کی معیشت سیاستدانوں کی کرپشن کی وجہ سے مڑی تڑی پڑی ہے اور جیسے ہی “ایماندار” خان کی حکومت آئے گی تو معیشت کے سوکھے تن میں جان پڑ جائے گی اور وہ ہڑبڑا کر ایسے ہی اٹھ بیٹھے گی جیسے مردہ سنڈریلا، اجنبی شہزادے کے بوسے کے لمس سے انگڑائی لے کر زندہ ہو جاتی ہے۔۔۔ یہ دوسرا ہوائی قلعہ بھی کاغذ کی ہوائی ثابت ہوا۔۔

اب نظر ڈالتے ہیں تیسرے ہوائی قلعے پر۔۔ تیسرے ہوائی قلعے کا نام تھا “افواجِ پاکستان کی ساکھ”۔۔ اس ہوائی قلعے کے مکینوں کا ایمان تھا کہ اگر آرمی چیف اپنی پاکستانی “قوم” کو ان کے سرمائے کی حفاظت کی ضمانت دے گا تو قوم اس صدا پر لبیک کہے گی۔ لیکن یہ ہوائی قلعہ نہ گرا نہ ٹوٹا بلکہ بھک سے اڑ گیا۔ ایمنسٹی اسکیم اناونس ہوئی تو ایک نئی معاشیاتی کونسل بنا کر اس میں آرمی چیف کو شامل کیا گیا کہ موصوف کی شکل دیکھ کر لوگ اس “صمد دادا بھائی” ٹائپ نیازی حکومت پروجیکٹ میں کھڑکی توڑ رسپانس دیں گے۔۔۔ لیکن یہ محل بھی جیسا کہ پہلے کہا، بھک سے اڑ گیا۔۔

اب رہ گیا چوتھا ہوائی قلعہ۔ اسے ہوائی محل پکاریئے تو مناسب ہو۔ یہ ہوائی محل ان ہواؤں پر تعمیر تھا کہ قومی و ملکی دفاع اور پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت سے بڑھ کر سیکس اپیل کسی اپیل میں نہیں لہٰذا اگر کچھ بھی نہ بچا تو آرمی چیف سے قوم کے نام خطاب اور اپیل جاری کروائیں گے کہ اگر اب بھی پیسہ نہ دیا تو قومی دفاع کمپرومائز ہو جائے گا۔۔ یہ آخری ہوائی محل کل ہی بانس پر چڑھایا گیا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ بات بنے گی نہیں۔ پبلک کم بخت بہت مطلبی ہے۔ پبلک کو اپنے اہل و عیال کا دودھ دلیہ سرحدوں کی حفاظت سے زیادہ عزیز ہے۔ پبلک کو اپنے ماں باپ کی دوا دارو قومی دفاع سے بڑھ کے مقدم ہے۔ اسے اپنی بہن بھائیوں کی تعلیم کی چاہت دفاعی بجٹ کی نسبت زیادہ ہے۔ اس لیے یہ چوتھا ہوائی قلعہ بھی بس گیا ہی سمجھو۔

اب تو سیمنٹ گارا سریا بھی اتنا مہنگا ہو چلا ہے کہ نیا ہوائی محل تعمیر کرنا بھی خالہ جی کا گھر نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فاروق احمد کی دیگر تحریریں
فاروق احمد کی دیگر تحریریں