امریکہ، شمالی کوریا تعلقات: ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کا تاریخی مصافحہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر سخت سکیورٹی والے علاقے میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے تاریخی مصافحہ کیا ہے۔
وہ امریکہ کے پہلے صدر ہیں جنھوں نے شمالی کوریا کی سرحد عبور کر کے کم جونگ سے ملاقات کی ہے۔
ناقدین نے اسے خالص سیاسی تھیٹر کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے لیکن دیگر افراد کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ٹرمپ کی شمالی کوریا کے سربراہ کو ملاقات کی دعوت
شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’پورا امریکہ نشانے پر ہے‘
شمالی کوریا کا تجربہ: امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقیں
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات
سنہ 2018 میں دونوں رہنماؤں کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے سنگاپور میں ہونے والے اجلاس کا دوسرا دور شمالی کوریا کی رضامندی کے بغیر ہی ختم ہو گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسے ایک ’برا معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔
یہ ملاقات کتنی اہم ہے؟
پسِ پردہ سفارت کاری کے لیے وقت نہ ہونے کے باعث اسے صرف ایک تصویر بنوانے کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم اس ملاقات کو ڈی نیوکلیر آئزیشن کے لیے دونوں رہنماؤں کے عزم کے طور پر دیکھا جائے گا۔
شمالی کوریا کے متنازعہ جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں مذاکرات، گزشتہ برس اس وقت عروج پر پہنچ گئے جب صدر ٹرمپ اور کم جونگ نے سنگاپور میں ایک تاریخی ملاقات کی تھی۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کوریائی خطے میں جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کا عزم کیا تھا۔ لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان فروری میں ہنوئی میں ہونے والی ملاقات سے شمالی کوریا سے ’اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے‘ کسی ٹھوس معاہدے کی امید کی جا رہی تھی۔
لیکن یہ مذاکرت بغیر کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے کیونکہ دونوں ممالک اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر اتفاق نہیں کر سکے۔ صدر ٹرمپ اور کم جونگ میں خطوں کے تبادلے کے باوجود مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر ملنے کی دعوت دی تھی۔ شمالی کوریا نے اسے ’بہت دلچپسپ تجویز‘ قرار دیا تھا۔
جاپان میں جی-20 سربراہی اجلاس کے بعد امریکی صدر سنیچر کو دو روزہ دورے پر جنوبی کوریا کے دورے پرپہنچے تھے۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریا کے ساتھ ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے مذاکرات کی بحالی ہے۔


