کیا افغان نمک حرام ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نائن الیون کے مہینا ڈیڑھ بعد، جنوب ایشیا میں بھائی چارے کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کی وساطت سے بھارت یاترا کا موقع ملا۔ امرتسر کے قریب ڈھڈیکی میں لالہ لاج پت رائے کی حویلی میں مہمانوں کو ٹھیرایا گیا۔ تین روزہ اکٹھ کی سب ثقافتی تقریبات وہیں ہونا تھیں۔ اس میں پہلی بار افغانستان کو بھی نمایندگی دی گئی تھی۔

یہ وہ وقت تھا، جب جنرل پرویز مشرف امریکا سے آئی ایک فون کال پر سرنڈر کر چکے تھے، اور امریکائی افواج کا افغانستان میں آنا ٹھیر گیا تھا۔ افغانستان کی نمایندگی کرنے والے افغان، شمالی اتحاد حکومت (بھارت اور دیگر ممالک کی تسلیم شدہ حکومت) کے حمایت یافتہ تھے، وہ افغان انڈیا میں مہاجر تھے، اور وہیں پڑھتے تھے۔ انھی دنوں شمالی اتحاد کے اہم رہ نما احمد شاہ مسعود ایک خود کش حملے میں مارے گئے تھے اور اس کا الزام طالبان حکومت پر تھا۔ یہ وجہ تھی کہ شمالی اتحاد کی نمایندگی کرنے والے افغانوں کا رویہ پاکستانیوں سے کھنچا کھنچا سا تھا۔

باقی تو سب نے خوب آو بھگت کی، لیکن پہلی ہی رات افغان بھائیوں نے پاکستانی وفد کے چند ارکان کی سر زنش کی، کہ مسلمان ہو کے تم وہاں موجود عورتوں سے گھل مل کیوں گئے ہو، ان سے ہنس ہنس کے باتیں کیوں کرتے ہو۔ تفصیل میں جائے بغیر اتنا کہنا ہے، کہ یہ اُن کا زیرِ ناف حملہ تھا۔ پاکستانی اور افغان وفد کے ارکان میں تناو کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ دوسرے دن بات چیت کے ایک سیشن میں دو افغان لڑکوں نے سیدھے سبھاو پاکستانیوں سے نفرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، چوں کہ طالبان کی حمایت پاکستان کرتا ہے، تو ہر پاکستانی اس کا ذمہ دار ہے۔ افغانستان کو تباہ کرنے میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔

الحمد للہ میرا شمار اس وقت بھی ان افراد میں ہوتا تھا، جو طالبان مخالف تھے۔ روشن خیالی اور لبرل جیسی گالی اس وقت تک ایجاد نہیں ہوئی تھی، لیکن وطن دشمن کی اصطلاح اپنی جگہ تھی۔ یار بیلی دشنام دیا کرتے تھے، کہ تمھیں پاکستان سے، اسلام سے محبت نہیں ہے، اس لیے طالبان کو برا بھلا کہتے ہو۔ افغانوں (شمالی اتحاد کے حامی) سے گفت گو میں ایک مقام ایسا آیا، کہ مجھے کہتے بنی، ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھتا ہے۔ امریکا ہو، پاکستان یا بھارت۔ تم (شمالی اتحاد والے) اس لیے یہاں پہ ہو، کہ تمھیں ہندوستان اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اتنا کہنا تھا، کہ میزبانوں نے مداخلت کرتے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔

یہ واقعہ اس لیے یاد آ گیا، کہ کرکٹ کے حالیہ ورلڈ کپ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے میچ سے پہلے، بیچ میں اور بعد میں لڑائی جھگڑے، طعنے تشنوں کی خبریں موصول ہوئیں۔ سوشل میڈیا پر ہنگام مچ گیا۔ افغانوں کو نمک حرام اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا۔ سوشل میڈیا ایک حیرت کدہ ہے، جہاں ہر کوئی اپنا طلسم لیے آتا ہے۔ ہمارے نو جوانوں میں سے کتنے ہیں جنھیں یاد ہو، کہ مجاہدین کیسے بنے، ابھرے؟ پھر کب وہ طالبان کہلائے؟ کب معتوب ہوئے، اور کیوں؟

آج کتنے ہیں جو یہ جانتے ہیں، کہ ہمارے یہاں وہی سرکاری دانش ور، مجاہدین کے حامی تھے جو بعد ازاں طالبان کے حامی ہوئے؟ کتنے یہ جانتے ہیں، کہ نائن الیون کے بعد وہی دانش ور امریکا کی افغانستان میں آمد کے خلاف تھے، جو طالبان کو مٹتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے؟ یہ وہی ہیں جنھوں نے پاکستان میں بم پھوٹتے دیکھے، تب جا کے طالبان کو دہشت گرد کہا؟ اس زمانے میں امریکا کی براستہ پاکستان، افغانستان میں مداخلت کے مخالفت کرنے والے ملک دشمن پکارے گئے، طالبان کی تشکیل پر سوال اٹھانے والوں کو سوالیہ نشان بنا دیا گیا۔ آج کتنے نو جوان ہیں جو یہ جانتے ہیں، کہ اس وقت جنگ کے مخالفوں کو، امن کے داعیوں کو بز دِل، کافر تک کہا گیا؟ آج کتنے ہیں جو یہ سوال کرتے ہیں، آج وہ جہاد کہاں ہے، جس پہ کل ریاستی سطح پر فخر کیا جاتا تھا؟

اگر نوجوان یہ سب نہیں جانتے تو میں گواہی دیتا ہوں، ایک کرکٹ میچ میں ہونے والی تلخی کو لے کر پاکستان میں موجود افغانوں کو نمک حرام اور نہ جانے کیا کہنے والے، یہ وہی ہیں جنھوں نے کل افغان جنگ کو جہاد کہا تھا، اسلامی بھائیوں کو پناہ دینے پر افتخار کا اظہار کیا تھا۔ طالبان کی حمایت کی تھی۔ جی ہاں یہ وہی نام کے دانش ور ہیں، نفرت جن کا کاروبار ہے۔ انھوں نے کل بھی نفرت کو پروان چڑھایا تھا، ان کا آج بھی وہی دھندا ہے۔ نو جوانوں کو سوچنا چاہیے، کہ وہ دیکھا دیکھی نمک حرامی جیسے طعنوں کے ’’کیریئر‘‘ نہ بنیں۔

اوپر بیان کیے ادھورے واقعے کو ذہن میں رکھیے تو افغان مہاجر وہی نہیں ہیں، جو پاکستان میں پناہ گزیں ہوئے۔ افغان مہاجرین کو ایران میں بھی پناہ ملی، اور ہندوستان میں بھی، لیکن یہ سچ ہماری سرکاری تاریخ کا حصہ نہیں ہے۔ انڈین چینل پہ بیٹھ کر اگر کوئی افغانستان کرکٹ ٹیم کے حق میں، پاکستان کے خلاف بات کر جاتا ہے، تو کیا یہ وہی افغان ہے جسے پاکستان نے پناہ دی تھی؟ اس ایک کو مثال بنا کر لاکھوں دیگر افغانوں سے نفرت کا اظہار کرنا، یہ کون سی حب الوطنی ہے۔ کسی سے نفرت کا اظہار، یہ کیسی حب الوطنی کا تقاضا ہے؟

پھر یہ دیکھیے، کہ ہر ملک کے شہری کو اپنی کرکٹ ٹیم کی حمایت کا حق حاصل ہے۔ آپ اس پاکستانی کے لیے کیا کہیں گے، جو انگلینڈ کی نیشنلٹی لے کر، انگلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم کی جیت پر شادیانے بجاتا ہے؟ انگلستان کی گلیوں میں بھنگڑے ڈالتا ہے؟ کیا وہ نمک حرام ہے؟ کیا انگلستان میں کوئی ایسا واقعہ رپورٹ ہوا، کہ ایسے کسی پاکستانی کو انگریز کی نفرت کا سامنا کرنا پڑا ہو جس نے پاکستان کی جیت کی خوشی منائی؟ اگر آج پاکستان میں کرکٹ میچ ہو، افغانستان کی ٹیم، پاکستانی ٹیم سے جیت جائے، اور افغان اسٹیڈیم میں، پاکستان کی سڑکوں پر جشن منائیں، تو یہ کہا جائے گا، ’’یہ نمک حرام ہیں؟‘‘ احوال تو یہی ہے، کہ ایسا ہی کہا جائے گا۔ ہم پاکستانی ہیں، کوئی انگلستانی تو نہیں، جو اپنی کرکٹ ٹیم کی  ہار پہ اپنے ہی ملک میں غیروں کو جشن مناتا دیکھ سکیں۔

چالیس بیالیس برسوں سے در سے بے در ہونے والے افغانوں کا درد جانیں تو انھیں از راہ ہم دردی سہی، اتنی آزادی تو دیں، کہ وہ ایک کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوش ہونے کا حق پائیں۔ ’’نیل کے ساحل سے تا بخاک کاشغر‘‘ کو نعرہ بنانے والے کل اس لیے افغانستان میں مداخلت کرنا اپنا حق سمجھتے تھے کہ اسلام کو بچانا مقصود ہے، ’’چبھے کانٹا جو کابل میں، تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے چین ہو جائے‘‘، کا سبق پڑھنے والے، سینے میں امت مسلمہ کا درد کا دعوا کرنے والے اس قوم پرست، وطن پرست کو کیا کہیے گا، جس کی امت مسلمہ کی رٹ کی حقیقت ایک کرکٹ میچ ہی میں عیاں ہو گئی۔

ڈھڈیکی میں ثقافتی تقریب کی آخری شب تھی۔ شمالی اتحاد کے حمایت یافتہ افغان، بل کہ مسلمان بھائیوں نے خوب جام انڈیلے اور مستی میں نا محرموں کے ساتھ رقص کیا۔ ہم سے اُن کا منہ تکا کیے، کہ آیا یہ وہی ہیں، جنھوں نے پہلے روز غیر محرموں سے بے تکلفی پر ہماری سر زنش کی تھی، کہ ہم مسلمان ہیں، یہ غیر مذہب کے، ایک مسلمان کو زیبا نہیں، وہ غیر عورت سے بے تکلف ہو!

بس ہمارا ایسا ہی ہے احوال ہے، کہ ہم خود سوچنے کا تکلف نہیں کرتے، اور ریاستی سچ کا بار اُٹھائے پھرتے ہیں۔ ریاستوں کو ’’تقسیم کرو اور راج کرو‘‘ کا فلسفہ خوب راس آتا ہے۔ کیا ہم وہی نہیں، جہاں قدم ڈگمگائیں، مذہب کا حوالہ دے کر، حب الوطنی کی گولی دے کر مقابل کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں؟ المیہ یہ ہے کہ کبھی غور و فکر نہیں کیا، المیہ یہ ہے کہ اکثر غور و فکر کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 285 posts and counting.See all posts by zeffer-imran