عقل مند چور یا دیانت دار جھلاّ۔؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم سے ملاقات کرنا، سیاست دانوں کے لئے شجر ممنوعہ نہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان اگر ملے ہیں تو گناہ نہیں سرزد کیا۔ نہ ہی وزیراعظم کے لئے مناسب ہے کہ کسی کو ملنے سے انکار کریں۔ ہاں ! اگر ثناء اللہ کا یہ الزام درست ہے کہ ’’لیگی ارکان کو توڑنے کے لئے خزانے کے منہ کھول دیئے گئے ہیں‘‘ اور ’’وزیراعظم ہائوس میں لوٹا کریسی کے لئے خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے‘‘ تو یہ یقیناً قابل مذمت ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت اگر گزشتہ حکومتوں کی طرح ترغیب و تحریص کا دام بچھاتی ہے اور فنڈز کا لالچ دیتی ہے تو یہ کان نمک میں نمک ہونے والی بات ہو گی۔ حکومت یہ کہہ کر کہ ع این گنا ہیست کہ در شہر شما نیز کنند (یہ وہ گناہ ہے جو آپ کے شہر میں بھی کیا جاتا ہے) اپنی تطہیر نہیں کر سکے گی۔ ایسا کرنا کھلی ہارس ٹریڈنگ ہو گی اور تحریک انصاف کے حامیوں کے لئے ایک اور صدمہ!

تاہم مسلم لیگ کی تاریخ عزیمت کے باب سے خالی ہے۔ اس جماعت پر ہر الزام لگ سکتا ہے مگر مزاحمت اور مستقل مزاجی کا الزام نہیں لگ سکتا۔ ہجرت کرنے والے پرندے ہمیشہ اس پارٹی کی جھیل پر اترتے رہے اور موسم تبدیل ہوتے ہی پھُر کر کے اڑتے رہے۔ پیپلز پارٹی کی تاریخ میں جو خودسوزیاں، کوڑے اور قیدوبند کی صعوبتیں نظر آتی ہیں، تمام اختلافات کے باوجود، اس پارٹی کو مسلم لیگ کے مقابلے میں زیادہ ثابت قدم دکھاتی ہیں۔

حال ہی میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے باڑ پر بیٹھے ہوئے پرندوں نے یہی مناسب جانا کہ باڑ کی دوسری طرف کود جائیں۔ ایک بجٹ کا پاس ہونا، دوسرا عسکری سربراہ کا، معاشی حوالے سے، حکومت کی تائید کرنا۔ موجودہ حکومت کے خلاف عدم اطمینان کی اس وقت سب سے بڑی وجہ اقتصادی بحران ہے۔ ڈالر تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ گرانی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔

اس پس منظر میں اپوزیشن عندیہ دے رہی تھی کہ جو ’’لائے‘‘ ہیں وہ بھی پریشان ہیں، ایسے میں آرمی کے سربراہ کا یہ بیان کہ مشکل فیصلے طویل المیعاد بہتری کے لئے کئے جا رہے ہیں، اپوزیشن کے لئے صدمے سے کم نہیں۔ باڑ پر بیٹھے ہوئے پرندوں نے اس بیان کو اونٹ کی کمر پر آخری تنکا سمجھا اور جان لیا کہ اگر ’’لانے والے‘‘ ساتھ دے رہے ہیں تو حکومت کے جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے!

سو، فائدہ اسی میں ہے کہ مسلم لیگ کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت وقت کی صفوں کو سفید پرچم دکھایا جائے۔ رانا صاحب خود ایک اور پارٹی سے اٹھ کر مسلم لیگ میں آئے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ آنے کے بعد انہوں نے عزیمت اور استقلال کا مظاہرہ کیا مگر ان جیسے وفاداری بشرط استواری رکھنے والے کارکن مسلم لیگ میں خال خال ہیں۔ ایک بار پرندوں نے اڈاری مارنے کا سلسلہ شروع کیا تو رانا صاحب کس کس کے گھر کا گھیرائو کریں گے۔ ع تمام شہر ہے، دو چار دس کی بات نہیں!

ہم سب کی بہن اور بیٹی مریم بی بی نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اعلان کیا ہے کہ وہ نواز شریف کے لئے آخری حد تک جائیں گی۔ دو دن پہلے ہی اس کالم نگار نے عرض کیا تھا کہ ’’مریم کی لڑائی ملک کے لئے ہے نہ قوم کے لئے، جمہوریت کے لئے ہے نہ ترقی کے لئے، یہ خاندان کے لئے ہے‘‘ اب بی بی صاحبہ نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے گھبرانا ہے نہ ڈرنا ہے۔ شیرو! ڈٹ کر مقابلہ کرو۔‘‘ خدا کرے یہ شیر ڈٹ کر مقابلہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ بی بی صاحبہ کے اپنے دونوں شیر جو لندن کے شیش محل میں ٹہل رہے ہیں۔ والد محترم کے لئے کیوں نہیں آ کر ڈٹ جاتے؟

پارٹی کے صدر شہباز شریف کے لئے بی بی کا یہ اعلان لمحہ فکریہ سے کم نہیں! انہیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ پارٹی کا نصب العین صرف بڑے میاں صاحب کو زنداں سے باہر نکالنا ہے یا ملک و قوم کے حوالے سے جدو جہد کرنا ہے! جہاں تک آخری حد تک جانے کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے بی بی صاحبہ کے ذہن میں ازبکستان کی بی بی کی مثال ہو۔ مرحوم صدر اسلام کریموف کی بیٹی گلنار نے لوٹے ہوئے ایک ارب ڈالر حکومت کے خزانے میں جمع کرا دیے ہیں اور قوم سے معافی بھی مانگی ہے۔

سوئس حکام نے بھی گلنار کی طرف سے غیرقانونی طور پر منتقل کردہ تیرہ کروڑ تین لاکھ ڈالر ازبکستان کو واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گلنار کا رقم واپس کرنا اور معافی مانگنا آخری حدہے۔ کیا عجب مریم بی بی بھی آخری حد تک جا کر والد محترم اور دونوں بھائیوں کو قوم کی رقم قوم کو واپس کرنے کے لئے قائل کر لیں یا والد کی خاطر جو کچھ اپنے تصرف میں ہے، وہی قوم کی خدمت میں پیش کر دیں! وہ بھی کچھ کم نہ ہو گا!

قومی منظر نامے کے حوالے سے تارکین وطن کیا سوچ رہے ہیں؟ پرتھ سے پاکستانی ایکٹوسٹ عمیر چوہدری نے کل فون کرکے لمبا رونا دھونا کیا۔ اس کے بقول پاکستانی تارکین وطن میڈیا سے شکوہ کرنا چاہتے ہیں کہ یو ٹو بروٹس! ظاہر ہے یہ شکوہ میڈیا کے ان ارکان سے نہیں ہے جو گزشتہ حکومت کے Beneficiaries ہیں۔ ان کی عمران دشمنی سمجھ میں آتی ہے۔ مگر وہ اینکر پرسن اور کالم نگار جو فروختنی نہیں، کم از کم انہیں موجودہ حکومت کو کچھ وقت دینا چاہئے اور غلطیوں کو ’’مرحلہ سودو زیاں‘‘ تک نہیں لے جانا چاہئے۔

یہ تارکین وطن دو مثالیں دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ سے جان چھڑانے کے لئے درد مند امریکی، ڈیموکریٹس کی غلطیاں برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں اور معاف کرنے کے لئے بھی! دوسری مثال بھارت کی ہے جو بھارتی آر ایس ایس کی ’’ہندوتوا‘‘ انتہا پسندی سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ بھی مودی کی حمایت کر رہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ وہ مودی کی معاشی پالیسیاں اور معاشرتی اصلاحات بھارت کے لئے مجموعی طور پر مفید گردانتے ہیں۔

یہی رویہ پاکستانی میڈیا کے ان ارکان کو اپنانا چاہئے جن کے پیروں میں شریف خاندان سے ذاتی وفاداری کی زنجیریں نہیں پڑی ہوئیں۔ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ پاکستانی اثاثوں کی چوری اگر رک جائے اور لوٹی ہوئی قومی دولت خزانے میں واپس آ جائے تو یہ ایک عہد ساز تبدیلی ہو گی۔ ایک سنگ میل ہو گا۔ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے دولت مند ٹیکس نہ ادا کریں اور ملکی دولت کا رخ بیرون ملک کے بجائے اندرون ملک کی طرف نہ ہو جائے۔ عقل مند چور کی نسبت وہ جھلاّ بہتر ہوتا ہے جو دیانت دار ہو! حماقت کا توڑ موجود ہے مگر رہزنی کا توڑ کوئی نہیں! ؎ اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز ۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •