جب استاد دامن کے گھر سے بم برآمد ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر ایوب مرزا ترقی پسند ادب اور انقلابی سیاست کا ایک گرانقدر نام ہے۔ وہ طالب علم رہنما اور پاکستان کی ابتدائی سیاسی تحریکوں کے روح رواں تھے۔ اس دوران جیل کاٹی۔ 1953 میں جب ترقی پسند قوتوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، تو لندن چلے گئے۔

جب فیض احمد فیض 1962 میں لینن انعام وصول کرنے ماسکو جا رہے تھے تو راستے میں لندن کے قیام کے دوران انہوں نے ڈاکٹر ایوب مرزا سے واپس آکر سیاسی کام کرنے کی درخواست کی۔ پاکستان آکر انہوں نے پاک چائنا فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ وہ فیض صاحب کے انتہائی قریبی ساتھی تھے اور وہ اکثر راولپنڈی میں اُن کے کے گھر قیام کیا کرتے تھے۔

ان کی ایک کتاب ”ہم کہ ٹھہرے اجنبی“ فیض صاحب کی سوانح حیات ہے جو کہ سیاسی اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہے۔

اس کتاب میں وہ فیض صاحب کے زیر صدارت مری میں ہونے والے ایک مشاعرہ کی روداد دبیان کرتے ہیں۔

”اگلی شام فیض صاحب نے یاد فرمایا۔ ہم پہنچے۔۔۔۔ فیض صاحب زیر لب عجب انداز سے مسکرا رہے تھے۔۔۔ پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگے وہاں بڑے بڑے شاعر تھے۔ ہم بھی تھے۔ سب اڑ گئے۔ مشاعرہ تو استاد دامن لوٹ لے گیا۔ کیا داد ملی اسے۔۔۔ فیض صاحب تو مجسم EXCITEMENT تھے۔۔۔کہا یہ تو اس کی نظم تھی۔ اس نظم کا مضمون تھا اور پھر استاد دامن کی طرز ِ ادا تھی۔ میں نے پوچھا اس نظم کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ کہنے لگے ہاں۔ اور شروع ہو گئے۔”تو کی کری جاندا ایں۔“ (یہ تم کیا کرتے جا رہے ہو؟)

ہم دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ اچھو آرہے تھے اور فیض صاحب استاد دامن کی نظم کا ہر شعر اور اس پر ملنے والی داد کی روداد مزے لے لے کر سنائے جا رہے تھے۔ بھئی وہاں کون شاعر ٹھہر سکتا تھا۔ ہم لوگوں کو کسی نے پوچھا تک نہیں۔ کوہسار مری میں دامن دامن ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔

میں یکبارگی پکارا۔ فیض صاحب استاد دامن خطرے میں ہے۔ آپ کچھ کریں ایسا نہ ہو، استاد دامن مارا جائے۔ فیض صاحب کی زیر لب مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ بولے نہیں بھئی ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس حکومت میں باذوق اور با مذاق لوگ بھی ہیں۔ ایسا نہیں ہو گا۔

کچھ دن بعد استاد دامن کے گھر سے اسلحہ بر آمد ہوگیا۔۔۔۔ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے، میں لاہور جا رہا ہوں، پرسوں واپس آ جاؤں گا۔ ان کم بختوں کو کچھ اور نہیں سوجھا۔ استاد دامن کے گھر سے اسلحہ؟ کون مانے گا، کچھ بوتلیں یا نظمیں نکال لیتے تو خیر بات سمجھ میں آتی۔“

واضھ رہے کہ یہ بھٹو صاحب کی حکومت کے ابتدائی برس تھے۔

اسی کتاب میں ایک اور جگہ پر ڈاکٹر ایوب مرزا اس کہانی کو مکمل کرتے ہوے لکھتے ہیں، ”فیض صاحب بات اسلحہ اور جنگ کی ہو رہی ہے، یہ بیچارے استاد دامن کے گھر سے اسلحہ نکلا، اس کے پیچھے کون سے عوام تھے؟ فیض کہنے لگے، بکو مت۔ سگریٹ کا لمبا کش لیا۔ بھئی استاد دامن بڑا استاد ہے۔ لاہور میں طالب علموں اور نوجوانوں کا مشاعرہ تھا، ہمیں صدارت کرنی تھی۔ منتظمین نے ہم سے کہا کہ ہم استاد دامن کو نہیں بلائیں گے۔۔۔۔ ہم پہنچے تو ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بڑی تعداد میں سامعین موجود تھے اور ان میں استاد دامن بھی۔

منتظمیں نے مجھے سرگوشی سے بتایاکہ استاد دامن آ گیا ہے، اب کیا کیا جائے؟ میں نے انہیں تسلی دی اور استاد دامن سے کچھ نہ پڑھنے کا کہا۔ استاد دامن نے کہا، ”فیض جی ٹھیک اے۔ جس طرح تہاڈا (تمہارا) حکم۔ اج کل تے ساڈے تے حکم ای چل دا اے۔“ (اج کل تو ہم پہ حکم ہی چل رہا ہے)

مشاعرہ شروع ہوا تو ہال سے آوازیں آنا شروع ہوئیں، استاد دامن، استاد دامن! پھر یہ آوازیں طوفانی شور میں تبدیل ہو گئیں۔ میرے لئے کوئی چارہ نہ تھا۔ دامن کوسٹیج پر بلوایا اور ان سے کہا،”استاد جی ذرا دھیان نال، اک شعر پڑھو تے ٹر جاؤ۔“ (استاد جی ذرا اپنا خیال رکھنا، ایک شعر پڑھیں اور چلتے بنیں)۔ استاد دامن نے کہا،”فیض جی، جس طرح تہاڈا (آپ کا) حکم۔“ اس نیک بخت نے مائیک پر جا کر صرف ایک قطعہ ہی پڑھا جس کا آخری شعرکچھ اس طرح تھا،

نہ کڑی، نہ چرس، نہ شراب دامن

تے شاعر دے گھر چوں بم نکلے

استاد دامن نے شعر پڑھا اور سٹیج سے نیچے اتر گیا۔ سامعین کا مزاج اور ہنگامہ ہاؤ ہُو سٹیج تو درکنار چھت پھاڑ کر لاہور کی فضاؤں میں گونج چکا تھا۔“

مخالفین پر 11 اگست 1947 سے شروع ہونے والا ریاستی جبر اور دباؤ پاکستان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ اس میں ہر جمہوری اور غیر جمہوری حکومت نے اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا۔ مارشل لاء تو چلتا ہی ریاستی دہشت گردی کے سہارے پر ہے لیکن عوامی حکومتیں بھی اپنے مخالفین اور حواریوں کو پولیس،عدلیہ اور سول ایجنسیوں کی مدد سے ڈراتی دھمکاتی رہی ہیں۔ حکومتوں میں باذوق اور با مذاق لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر کی خباثتوں سے فیض صاحب جیسے سادہ لوح دھوکا کھا جاتے ہیں۔ حکمران مخالفت میں اِس حد تک گرجاتے ہیں کہ سوچتے ہی نہیں کہ کس پر کونسا الزام سجے گا۔ الزام لگاتے وقت یہ توسوچ لیں کہ الزام حالات، واقعات اور ملزم کی شخصیت سے میل بھی کھاتا ہے کہ نہیں۔ شاعر پہ الزام شراب، چرس یا لڑکی کے عشق کا لگنا چاہیے۔

مصطفےٰ زیدی قتل ہوگیا، الزام عوام نے قبول کر لیا۔

 فیض نے کہا تھا۔

دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے

اے جان جاں، یہ حرف تیرا نام ہی تو ہے

زرداری جاگیر دار ہے۔ اس کی شخصیت پر بدمعاشی،دھونس اوراسلحہ کا الزام سجتا ہے۔ وہ بم ٹانگ کے ساتھ باندھ کر اپنی بات زبردستی منوانے کی جرات کر سکتا ہے، اس نے اس الزام کو مسکراہٹ سے ٹال دیا۔ نواز شریف سرمایہ دار ہے، لوگوں کو ڈرا نہیں سکتا، خرید سکتا ہے، الزام لگے، لوگ مان بھی گئے۔

صادق اور امین کہلانے والے سیاست دان پر بھی بہت سے الزامات ہیں اوراس کی پلے بوائے شخصیت کے عین مطابق ہیں، وہ بھی کبھی منکر نہیں ہوا، ٹال دیتا ہے۔ لمبے بالوں والے منسٹر اور شرجیل میمن پر شہد بھری لمبی اور معشوق کی پتلی کمر جیسی بوتلوں کا الزام لگا۔ انہوں نے مذاق بنا لیا۔

رانا ثنا اللہ پر بھی الزام اس کی شخصیت کے مطابق لگنا چاہیے تھا۔ چھانگا مانگا مہم عروج پر ہے، گھوڑوں کی خریداری شروع ہے، چاہیے تھا کہ اس کی گاڑی سے اسلحہ، مخالف پارٹی کے دو چارممبران، زندہ یا مردہ اورکالے دھن کے صندوق برآمد ہوتے۔ آج کل وہ چیخوں کی بات کر رہا تھا، بہتر ہوتا کہ اس کی گاڑی سے جنسی مواد پر مبنی سی ڈیز اور جیب سے حکیمی ادویات برآمد کر لی جاتیں۔ لوگ یقین کر لیتے۔

کمال کے بدذوق حکمران ہیں۔ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے، ان کی موجودگی میں، 15 کلو ہیرویئن برامد کر لی۔ کیہ کری جانا ایں؟ کیہ کری جانا ایں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •