پاس کر یا برداشت کر!

عاصمہ شیرازی - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند برس پہلے پی ٹی آئی کا مشہور و معروف نغمہ ‘تبدیلی آئی رے’ ریلیز ہوتے ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ گیا۔

اس گانے کے بول شروع ہوتے ہیں ‘پارلیمنٹرینز، درباری اینڈ جیالاز ۔۔۔۔نیکسٹ اسٹاپ اڈیالہ’۔

کسی کو یقین نہ تھا کہ سال 2017 میں تخلیق کیے گئے گانے کے بول حرف بہ حرف درست ثابت ہوں گے۔ نغمہ نگار نے چُن چُن کر الفاظ تحریر کیے اور سکرپٹ رائٹر حرف بہ حرف بولوں کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔

گذشتہ برس قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینئیر رکن اسمبلی سید نوید قمر نے تقریر میں نہایت اہم بات کی جسے محض چند سرخیوں اور نیوز بلیٹنز میں ہنسی مذاق میں اُڑا دیا گیا۔

سنجیدہ اور نرم طبیعت کے حامل نوید قمر صاحب نے نشاندہی کی کہ جس طرح گرفتاریاں ہو رہی ہیں لگتا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس اڈیالہ جیل میں منتقل نہ ہو جائے۔

گذشتہ روز جب رانا ثنا اللہ کی گرفتاری ‘معلوم’ وجوہات کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے تو نوید قمر کا کہا سچ معلوم ہو رہا ہے۔

اس وقت سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر اور رکن قومی اسمبلی آصف زرداری، نون لیگ کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق، اُن کے بھائی اور رکن صوبائی اسمبلی خواجہ سلمان رفیق جیل میں ہیں۔

نیب ٹرائل کے ساتھ ساتھ میڈیا ٹرائل بھی زور و شور سے جاری ہے۔

پاکستان
شہباز شریف جیل سے ہو کر آ گئے ہیں جبکہ نواز شریف اس وقت جیل میں ہیں

مریم نواز، شہباز شریف جیل یاترا کر آئے ہیں۔ دو سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتے ہیں۔

آج ٹرکوں پر لکھی ساری عبارتیں یاد آ رہی ہیں۔ جس رفتار سے حکومت اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کر رہی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپوزیشن سے مخاطب ہو کہ ‘ سپیڈ میری جوانی، اوور ٹیک میرا نخرہ۔۔۔۔’

اسلام آباد سے اڈیالہ جیل کا قریب ترین راستہ راولپنڈی سے ہی نکلتا ہے۔

تحریک انصاف نے اس علامتی استعارے کو احتساب کے عمل سے تشبیہ دے کر عوامی رائے عامہ کو نہ صرف ہموار کیا بلکہ بے رحمانہ احتساب کے لیے ذہنی طور پر آمادہ بھی کیا اور اقتدار میں آتے ہی نتائج سے بے پروا عملدرآمد شروع کر دیا۔

چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی صداؤں میں آزاد اور غیر جانبدار احتساب کہیں کھو ہی گیا۔

پاکستان
سابق صدر اور رکن قومی اسمبلی آصف زرداری اسلام آباد ہائی کورٹ سے نکلتے ہوئے

لہٰذا اخلاقی پچ پر کمزور اپوزیشن کے لیے ‘پاس کر یا برداشت کر’ کی صورت حال ہے اور سرکار اپوزیشن کو ترغیب دیتی دکھائی دیتی ہے کہ ‘محنت کر حسد نہ کر۔’ تحریک انصاف کیوں نہ اپنے منشور پر عمل کرے؟

آخر بجٹ کی منظوری میں ٹف ٹائم دینے کا دعویٰ کرنے والی اپوزیشن کے دیکھتے ہی دیکھتے حکومت نے نہ صرف بجٹ منظور کیا بلکہ اُلٹا تاریخ میں پہلی بار حکومتی بنچوں سے ہلڑ بازی کی گئی اور اپوزیشن کے خلاف احتجاج بھی کیا۔اپوزیشن تا حال ‘ہارن نہیں دے سکی کہ راستہ لے سکے۔’

اب اپوزیشن چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد لانا چاہتی ہے اور اُدھر تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کے مبینہ ناراض اراکین کو حصار میں لے لیا ہے۔

پاکستان
حکومت نے نہ صرف بجٹ منظور کیا بلکہ اُلٹا تاریخ میں پہلی بار حکومتی بنچوں سے ہلڑ بازی کی گئی

گھیراؤ کرنے کی دھمکی دینے والے رانا ثنا اللہ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اپوزیشن کی راہبر کمیٹی چئیرمین سینٹ کے کسی ایک نام پر متفق ہو پاتی ہے یا پھر ‘ساڈا کی اے اللہ ہی اللہ’ کا راگ الا پتی ہے۔

پنجابی میں ایک محاورہ ہے ‘جدھی بوجھی وچ دانے، اودے کملے وی سیانے’ یعنی جس کے پاس اختیار اور دولت ہو اس کے نالائق اور نااہل بھی سیانے ہو جاتے ہیں۔

سمجھنے والوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ اس اپوزیشن کی جیب میں نہ دانے ہیں نہ کارڈ مگر معاشی بحران کے شکار خستہ حال عوام کب تک پیٹ پر پتھر باندھ سکتے ہیں؟

دن بہ دن ٹریڈ یونینز، کلرک، مزدور، کسان سڑکوں پر نکل رہے ہیں، احتجاج اور ہیجان بڑھ رہا ہے۔

ہارن آہستہ دو کہ قوم سو رہی ہے کا آسرا دینے والے فاصلہ رکھیں کہ کہیں حادثہ نہ ہو جائے۔۔۔ جناب نظر رکھیے کہ عوام کی جیب میں دانے نہ ہوئے تو سیانے ہوا ہوتے دکھائی دے سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •