بچے ہماری کیوں سنیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں سے بہترین سلوک کریں اور اُنہیں کامیاب ہو تا دیکھیں۔
لیکن کیا تمام والدین عملی طور پر ایسا کر پاتے ہیں۔ ؟
تھری سی 3 C فلاسفی کے تحت جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ والدین ایسا کرنے میں ناکام کیوں ہوتے ہیں :

1: Control کنٹرول: تابع رہنا:

زیادہ تر والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی کے ہر عمل کو کنٹرول کریں۔ اُن کی تعلیم، دوستی، نوکری، ازدواجی زندگی، لائف سٹائل بلکہ کچھ والدین اپنے بچوں کی پسند نا پسند اور خیالات اور سوچ پر بھی اپنا کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے اکثر والدین یہ بھول جاتے ہیں ؛ بیشک بچے اُن کی اُولاد اور سرمایہ ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ آزاد انسان، منفرد شخصیت اور خالق کی خلق کی ہوئی انفرادی مخلوق ہیں جس کا مالک خُداہے، انسان نہیں، والدین بچوں کی ذمہ داری میں دیے گئے ہیں اُن کی تحویل میں نہیں۔ انسان ہمیشہ سے آزادہے اور آزادمرضی اُس کی پہچان ہے۔ بچے جب با اختیار اور خود کفیل ہوجاتے ہیں تو والدین کا اُن پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔

2: Care کئیر: دیکھ بھال کرنا:

قدرتی طور پر انسان کے اندر احساس کی صفت پائی جاتی ہے۔ والدین کیونکہ بچوں کواس دُنیا میں لانے کا ذریعہ بنتے ہیں، اس لئے بچوں کی تمام دیکھ بھال، ضروریات کا خیال رکھنا، والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ اکثر ہمارے معاشرے میں والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کی خواہشات اورضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ اکثر والدین ان ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں پر احسان کررہے ہیں اوروہ اپنے بچوں کو اس بات کا طعنہ بھی دیتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لئے اتنی مشکلات برداشت کی ہیں۔ یاد رکھیں!

والدین نے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری اپنی ”آزاد مرضی“ اور ”باہمی رضا مندی“ سے قبول کی تھی۔

”آپ میں سے کتنے لوگ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی؛اسی طرح اُن کے بچے بھی اُن کی ضرورت کے وقت اُسی طرح دیکھ بھال کریں گے۔ ؟ “

3: Confidence: کونفیڈنس: اعتماد:

جووالدین سب سے پہلے خُدا کی ذات، اپنے آپ اور اپنے بچوں پر بھروسا اور اعتماد کرتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ بچے سب سے بہترین اور انمول تحفہ، جو وہ اپنے والدین سے حاصل کرتے ہیں وہ اپنے آپ پراعتماد کرنا ہے۔ ذرسوچیں! جس بچے پر اُس کے اپنے والدین ہی (جنہوں نے اُسے پیدا کیا) بھروسا نہ کریں ؛ اُسے دُنیا میں اپنے آپ کو منووانے کے لئے کتنی جدوجہد کرنا پڑے گی اور اُس بچے کی شخصیت کس قدر متاثر ہو گی۔ با اعتماد، باشعوراور با وقار بچے ہی والدین کے لئے فخر اور افتخار کا باعث بنتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آپ کے لئے مسرت اورشادمانی کا سبب ہوں، تواُنہیں اپنی ذات پر اعتماد کرنا سکھائیں۔ اُنہیں آزادی سے وہ بننے دیں جو وہ بننا چاہتے ہیں۔ اُن کے محسن بنیں محکوم نہیں۔ وہ آپ کے بچے ہیں اگر آپ کو اپنی تربیت اور پرورش پر اعتماد ہے تو یادرکھیں آپ کے بچے کی شناخت بن جائیں گے۔

والدین کی یہ خواہش اورکوشش ہوتی ہے کہ اُن کی اولاد اُن سے بہتراور خوشحال زندگی بسر کر ے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ خوب محنت و مشقت کرتے اور قربانی دیتے ہیں۔

وافر مقدار میں جائیداد، دولت، گھراور خطیر رقم جمع کرتے ہیں کہ اُن کے بچوں کو معیاری زندگی بسر کرنے میں کوئی دقعت پیش نہ آئے۔

شاید اکثر والدین یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ یہ تمام ضروریاتِ زندگی کی اشیاء بچے اپنی محنت، قابلیت، خُدا دادصلاحیتوں سے حاصل کر ہی لیتے ہیں ؛ اس کی ایک مثال ہم اپنی زندگی میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم میں سے اکثریت کا معیار زندگی ہمارے والد ین کی نسبت بہتر ہے۔

جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ والدین کی عملی زندگی کا نمونہ، تربیت اور کردار (Character) ہے جو اولاد کے لئے حقیقی ورثہ ہوتا ہے جس پر بچے ساری زندگی خوشی سے فخر کرسکتے ہیں۔

بچے والدین کے Lifestyle سے متاثر ہوتے ہیں Life Status سے نہیں۔

بچے اپنے والدین کے کردار اور رویے (Attitude) سے سیکھتے ہیں کہ زندگی میں مال ودولت ہی نہیں انسان کا کردار، دوسرے انسانوں سے رویہ اور انسانیت کی بہتری کے لئے ویلیو ایڈیشن ہی حقیقی سرمایہ (Real Assets) ہو تا ہے۔ جس پر والدین اور اُولاد دونوں بلکہ دُنیا بھی رشک کرتی ہے۔

اکثر جب والدین میرے پاس کونسلنگ کے لئے آتے ہیں تو اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ اُن کے بچے، سوشل میڈیا کی ایڈکشن کا شکار، اسمارٹ فون کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں، ایک تو وہ بالکل بھی ڈسیپلنڈ نہیں اور نہ ہی پڑھائی پر توجہ دیتے ہیں بلکہ کتابوں کو تو ہاتھ تک بھی لگا نا پسند نہیں کرتے۔

میں اُن کے سوالوں کے جواب میں جواب دینے کی بجائے اپنا سوال پیش کرتا ہوں کہ آپ خود کتنے گھنٹے فون، ٹی وی اور لیپ ٹوپ استعمال کرتے ہیں؟

آپ بچوں کے سامنے کتنا وقت فون استعمال کرتے ہیں؟
اپنا کتنا وقت اپنے بچوں کے ساتھ اُن کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں؟
کیا آپ کے گھر میں اخبار آتا ہے؟
کیا آپ کے گھر میں بچوں کی کہانیوں پر مبنی مواد یا چائلڈ لڑیچر موجود ہے؟

کیا آپ کے گھر میں مذہبی کتب، میگزینز یا موویز موجود ہیں؟
کیا آپ کے فون، لیپ ٹوپ میں ایجوکیشن ایپس موجود ہیں؟
کیا آپ کبھی اپنے بچوں کو تحفہ کے طور پر کتابیں دیتے ہیں؟

والدین اتنے سوالوں کے بعد میری شکل دیکھ کرکہتے ہیں کہ
آپ کون سی دُنیا میں رہتے ہیں؟ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔

میں بھی مسکرا کر کہہ دیتا ہوں کہ پھر آپ اپنے بچوں سے کیوں عملی زندگی میں کتابی باتوں پر عمل کرنے کی توقع رکھتے ہیں؟
مقدس اگسٹین کا قول ہے۔ ”والدین کی زندگی وہ کتاب ہے جو بچے پڑھتے ہیں۔ “ ذرا سوچیں اگر آج ہم کسی کی بات کو سننے کے لئے تیار نہیں تو کل کوہمارے بچے کسی کی کیسے سنیں گے۔ ؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ایاز مورس کی دیگر تحریریں
ایاز مورس کی دیگر تحریریں