ورلڈ کپ: شارجہ، سٹہ، میں اور جھوٹی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبد القادر چیف سلیکٹر تھے۔ یونس خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان۔ یاد نہیں رہا، ٹی 20 ورلڈ کپ 2009ء کا وہ کون سا میچ تھا، جس میں پاکستان کو شکست ہوئی تھی، اور یونس خان کے ٹی 20 کھلائے جانے پر اعتراضات بڑھ گئے تھے۔ نیز عبد القادر کی ٹیم سلیکشن پر تنقید ہوئی تھی۔ اس وقت ہم پری میچ کمنٹری کے لیے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے تھے، کہ عبد القادر کے استعفے کی خبر آ گئی۔ آصف اقبال نے مجھے ہدایت دی کہ پروگرام میں جاوید کا بیپر لو۔ آن لائن جانے سے پہلے کی افراتفری تھی۔ میاں داد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ پی سی بی میں یہ عہدہ بعد ازاں پی سی بی چیئر مین (سابق) نجم سیٹھی نے ختم کر دیا تھا۔

میں نے جاوید میاں داد سے بات کی، آصف اقبال کا پیغام پہنچایا کہ وہ آپ کو لائیو لینا چاہ رہے ہیں۔ آصف اقبال کا نام سن کے میاں داد نے یہ مہر بانی کی، کہ جھجکتے ہوئے انکار کر دیا، وہ میڈیا سے بات نہیں کر سکتے۔ بورڈ کی طرف سے پا بندی ہے۔ جاوید ہولڈ پہ تھے، میں نے پش بٹن دبا کے اسٹوڈیو میں بیٹھے آصف اقبال سے کہا، میاں داد پی سی بی کی عائد کی گئی پا بندی کا جواز پیش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا، میری بات کرواو۔ کال سوئچ اوور کر دی گئی۔ اب جاوید میاں داد کی آواز اسٹوڈیو میں گونج رہی تھی۔
’’جاوید!‘‘ آصف اقبال نے نرم (یا سرد) لہجے میں مخاطب کیا۔
’’جی آصف بھائی، جی آصف بھائی۔‘‘ میاں داد کی آواز سے گھبراہٹ مترشح تھی، جیسے اپنے بزرگ کو انکار کرنے سے پہلے ہو سکتی ہے۔
’’یار تم اتنی بات کر لو، جس پر بورڈ کو اعتراض نہ ہو۔‘‘
’’نہیں آصف بھائی، ہمیں بالکل بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘

مزید دو چار جملوں کا تبادلہ ہوا. آصف اقبال نے قطعی اصرار نہیں کیا۔ اس سے ان کی اصول پسندی واضح تھی۔ جاوید میاں داد کا آصف اقبال سے ایسے دب کے بات کرنا، اور آصف اقبال اسی مخصوص نرمی سے کلام کرنا، میرے لیے حیران کن تھا۔ وہ لمحہ مجھے سب ایسی فلموں کی یاد دلا گیا، جن میں مافیا ڈان آرام دہ حالت میں بیٹھا، دھیمے لہجے میں بات کرتا ہے۔ حالاں کہ وہ بہت سفاک شخص ہے۔ لیکن یہ کوئی فلمی کردار نہیں، جیتا جاگتا آصف اقبال تھا، جسے میں جان رہا تھا، انتہائی مہر بان شخص۔

شارجہ میں کرکٹ پہنچانے کا اعزاز جہاں عبد الرحمان بخاطر کے سر ہے، وہیں ان کے ساتھ آصف اقبال، عبد الرزاق یعقوب اور داود ابراہیم کا نام لیا جاتا ہے۔ ایک افواہ یہ ہے کہ سَٹَے کے معاملات ممبئی کے داود ابراہیم اور حاجی عبد الرزاق یعقوب کے ہاتھ میں تھے۔ مجھے تجسس تو تھا، ایک دن سوال بھی کر دیا۔ انھوں نے جو بتایا، وہ مجھے یاد نہیں۔ ہر بات یاد رکھنا ضروری بھی نہیں ہوتی۔ میری یہ جرات کبھی نہ ہوئی کہ پوچھتا، شارجہ میں کرکٹ پہ سَٹَا لگتا تھا تو کیا سب میچ فِکس ہوتے تھے؟ یہ ہمیں معلوم تھا، کہ آصف اقبال ڈیفینس ہاوسنگ سوسائٹی کی اس کوٹھی میں ٹھیرے ہیں، جس کے بارے میں شہر بھر کہتا ہے، کہ یہ چھوٹے شکیل کا بنگلا ہے۔ لیکن میری اس بات کا، بھلا اُس ساری بات سے کیا تعلق!؟

کیری پیکر کے ذکر پہ، آصف اقبال نے فخریہ بتایا، کہ ان سب (کیری پیکر میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں) کو میں لے کر گیا تھا۔ ان کے معاہدے میں نے کروائے تھے۔ آصف اقبال کو میں نے وہ راز بتایا، کہ میں نے کرکٹ کو فالو کرنا کیوں چھوڑا۔ وہ سر جھکائے اپنے دھیان میں بیٹھے رہے۔ اتنا گہرا شخص میں نے زندگی بھر نہیں دیکھا۔

کیری پیکر اور شارجہ کا ذکر ساتھ ساتھ اس لیے بھی ہو گیا، کہ یہ ذکر کروں، اے آر وائے چینل کا قیام کیوں کیسے عمل میں آیا۔ کیری پیکر نے اپنا اسپورٹس چینل بھی متعارف کروایا تھا۔ آصف اقبال کو وہ تجربہ یاد تھا۔ شارجہ کرکٹ میلہ جب متنازِع ہونے لگا، تو ان چار نے اپنا اسپورٹس چینل لانے کا منصوبہ بنایا۔ ٹی وی چینل کا لائسینس حاصل کر لیا گیا، جو شارجہ کرکٹ گراونڈ سے براہ راست نشریات پیش کرتا۔ اس دوران میں آئی سی سی کے قوانین سخت سے سخت ہوتے چلے گئے۔ غیر اعلانیہ طور پہ شارجہ میں کرکٹ میلہ منعقد کرنے پر پا بندی لگا دی گئی۔ مبینہ طور پہ آئی سی سی نے شارجہ میں میچ فِکسنگ کے نا قابل تردید شواہد دیے تھے، جس میں ملکی کرکٹ بورڈ بھی ملوث تھے۔ اس اسپورٹس چینل کا منصوبہ تو کہیں بیچ میں رہ گیا، ناظرین اے آر وائے ڈیجیٹل کے نام سے ایک نئے پاکستانی ٹی وی چینل سے متعارف ہوئے، جس کا اولین دفتر ایک بنگلے میں قائم ہوا۔ اے آر وائے ون ورلڈ، جو بعد ازاں اے آر وائے نیوز ہوا، اس سے اگلا قدم تھا۔ قدرت کا کھیل ملاحظہ ہو، اسی اے آر وائے نیوز نے آگے چل کر ’’کرپٹ سیاست دانوں‘‘ کو بے نقاب کرنے کا فریضہ سر انجام دینا تھا۔

(جاری)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 287 posts and counting.See all posts by zeffer-imran