’ہم سب ‘ گھرانہ: بڑا ہے درد کا رشتہ۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوشگوار موسم گرما کی بھیگی ہوئی شام، پروا کے جھونکے، جلتی ہوئی لکڑیوں سے اٹھتےسرخ شعلوں کی گرم جوشی، گہرا نیلا آسمان، دوستوں کا ساتھ اور تازہ نظم کے اشعار۔

“زرد پھولوں سےاٹےاس رستے کے آخر میں

جب بائیں ہاتھ پر مڑو گی

تو تمہیں خواب دھندلاے ہوئے ملیں گے

مگر تم انہیں پار کرلینآ

جنگلوں سے الجھتی ان پگڈنڈیوں پر

جہاں اسکے قدموں کے نشانات گم ہو جاتے ہیں

اور سرخ بیروں کے موسم تمہیں گھیر لیتے ہیں

جنکی حاملہ شاخوں کی خوشبو تمہیں اپنے پاس بلاتی تو ہے

لیکن جب تم اسے لپٹنے کو اپنی با ہیں پھیلاتی ہو

وہ تمہاری یادوں کو لہو لہان کرتی ہے

تم ان لہو لہان کرتی یادوں کو اپنے ماتھے کا جھومر بنا لینا

ندی جہاں شور کرتی تمہاری نیندوں سے ٹکرائے گی

کشتی بان کے اس گیت پر دھیان مت دینا

نہ پیچھے کے طرف مڑ کر دیکھنا

کہ وہ جال تمہارے لیے پھیلایا گیا ہے

یہ تھے حسن مجتبٰی، معروف کالم نگار اور شاعر، نام اور کام سے تو ہم واقف تھے مگر روبرو پہلی ملاقات تھی۔

ڈاکٹر آمنہ نے ہمارا تعارف کروایا جس میں ہماری ڈاکٹری کے علاوہ “ہم سب” سے تعلق بھی شامل تھا۔ حسن مجتبٰی بھی “ہم سب”کے قلم کاروں میں شامل ہیں۔ بیرون ملک مقیم ہو کے بھی قلم اور ادب سے رشتہ اسی طرح بندھا ہے۔

“اوہ میں سوچ رہا تھا کہ شکل کچھ جانی پہچانی ہے پر آپ تو اس تصویر سے بہت مختلف ہیں ” حسن بولے

“ہم سب پہ میری پہلی تصویر” ہم مسکرائے ” اس تصویر کی ایک کہانی ہے اور وہ آپ کو بعد میں سنائی جائے گی “

اور ابھی تک کی داستان کچھ یوں ہے کہ ہماری زندگی میں بہت رشتے وجود رکھتے تھے۔ خون کے، محبت کے، درد کے، احساس کے اور قانون کے !

ہر رشتہ اپنی جگہ نگینے کی طرح تھا۔ زندگی مکمل محسوس ہوتی تھی۔ راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔نہ انتظار کی گھڑیاں تھیں تھا اور نہ ہی کرب کے لمحے !

رواں سال زندگی نے پلٹا کھایا۔ ان رشتوں میں سے ایک سب سے قریبی اور اٹوٹ رشتے سے جدائی ہوئی۔

جانے کچھ کھونے کا غم تھا یا چوٹ گہری تھی کہ زندگی بہلاوا مانگتی تھی۔ بے خواب راتوں اور زخمی دنوں میں سہارا ملا قلم اور کاغذ سے۔ ایک آتش فشاں تھا جو پھوٹ پڑا یا ایک دھیمی آنچ دیتی ہوئی آگ فروزاں ہوئی جو روح کو، دل کو ہولے ہولے سلگاتی تھی۔

لفظوں کو روپ ملا، مجسم ہوۓ اور پھر آشنائی ہوئی “ہم سب”سے اور کیا خوب ہوئی، اپنا لیا گیا یا اسیر کیا گیا۔

اپنا تو وہ حال تھا، ایلس ان ونڈر لینڈ!

 یوں ایک نئے رشتے سے آگہی ہوئی اور وہ تھا قلم کا رشتہ ! تعلق بنا قاری سے اور ہم عصر قلم کاروں سے۔ وہ سب جنہیں کل تک پڑھا کرتے تھے، آج انہوں نے بڑھ کر خوش آمدید کہا تو کچھ یقین نہیں آیا۔ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی !

قلم اور قاری سے بندھا، یہ ایک اور ہی جہاں تھا جہاں قلم کار ایک دوجے سے لفظوں کی تار سے بندھے تھے اور آزادانہ پرواز تھی ” ہم سب”کے آسمان پر۔

اور حسن مجتبیٰ “ہم سب”کے حو الے سے ملنے والے پہلے لکھاری تھے۔

ابھی ہم پہلی شام کے ہی خمار میں تھے کہ اطلاع ملی معروف شاعرہ عشرت آفریں بھی شہر میں موجود ہیں۔ عشرت جن کے لئے عصمت چغتائی نے کہا تھا “صد آفریں، عشرت آفریں” ۔ عشرت کی شاعری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ قاری کو کبھی تو صحرا کی باد نسیم یاد کراتی ہے اور کبھی ویرانے میں میں چپکے سے آنے والی بہار۔

عشرت بھی “ہم سب” کے لکھاریوں میں شامل ہیں، سو ملاقات کی ٹھانی۔عشرت کی ہونہار آرٹسٹ صاحبزادی کے فن پاروں کی نمائش تھی سو و ہیں ملنے کا وقت طے ہوا۔ عشرت کی ملنساری اور گرم جوشی نے دل موہ لیا۔ گو ہم نے کلام شاعر بزبان شاعر تو نہ سنا لیکن آپ کو کچھ اشعار پیش کیے دیتے ہیں۔

‎ہاں کسی کی آنکھ اور کسی کے کان بند ہیں

‎نکل چلو کہ اس گلی کے سب مکان بند ہیں

‎لٹک رہی ہیں سولیوں پہ دور تک سماعتیں

‎سنا ہے اب کے نے نواز و قصہ خوان بند ہیں

‎وہ چاشنی جو تھی بیان و حرف میں ،نہیں رہی

‎وہ سلسلے جو تھے دلوں کے درمیان بند ہیں

‎محبتوں کے شہر اب کے بار تجھ کو کیا ہوا

‎کہ در کھلے ہوئے ہیں دل کے اور مکان بند ہیں

“ہم سب”سے تعلق بننے کے بعد ہمیں اپنا سمجھنے کے مراحل میں وہ پہلی ادیبہ جنہوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لئے محبت بھرا پیغام بھیجا وہ تھیں گوہر تاج۔ ہمارے کالمز پہ گوہر کے الفت بھرے کمنٹس شدید سنگ باری کے ہجوم میں وہ جھونکا تھے جن سے بیمار کو بے وجہ قرار آ جاتا ہے۔ گوہر سے بات ہونا شروع ہوئی، آشنائی بڑھتی گئی اور پھر ہم نے آدھی ملاقات کو مجسم روپ دینے کا سوچا۔

نیویارک سے ڈیٹرائٹ کا سفر گویا گھڑیاں گننے میں گزرا۔ پھر ملاقات تھی یا دبستاں کھل گیا۔ دو عورتیں اور دونوں ہی بولنے کی شوقین، رات گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ اگلے دن ہم رواں دواں تھے نیاگرا آبشار کی طرف جہاں گوہر ہمیں ڈرائیو کر کے لے جا رہی تھیں۔

اس سے پہلے کہ میں آپ کو نیاگرا تک پہنچاؤں، اس سے پہلے کی کتھا کہنا ضروری ہے۔

“ہم سب”کے قارئین کےآل ٹائم فیورٹ ڈاکٹر خالد سہیل سے ای میل پہ رابطہ ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر خالد کی ذرہ نوازی تھی کہ وہ خواہاں تھے کہ ہم ٹورنٹو یاترا کریں اور لذت کام و دہن کے ساتھ مکالمہ بھی ٹھہرے۔

 تنگئ وقت دامن سے لپٹے تھی سو بہت ادب سے معذرت طلب کی۔

لیکن دوسری طرف “ہم سب” کی نوآموز لکھاری کو خوش آمدید کہنے کا خلوص اس قدر تھا کہ ڈاکٹر خالد سہیل اور فرحت زہرا نے تین گھنٹے کی مسافت کو خواہش کے راستے میں معمولی سمجھا۔ اور اب ہم اگلے دن ملنے والے تھے ان مہربانوں سے۔

فرحت زہرا بھی “ ہم سب”فورم پہ جلوہ گر ہوتی رہتی ہیں اور وہ مشہور محقق، ادیب اور دانشور سید محمد مظاہر کی صاحبزادی ہیں۔

نیاگرا پہنچے، رات قیام کیا، اگلے دن واپسی تھی مگر اس سے پہلے وہ ملاقات جس کے لئے دو لکھاری صبح نو بجے ٹورونٹو سے روانہ ہو چکے تھے۔

ہم اس ملاقات کی دو مزے دار باتیں آپ کو سنائیں گے اور وہ بھی ڈاکٹر صاحب کی زبانی۔ وہ کہتے ہیں

” میں نے اپنے ادبی حلقے کے دوستوں سے اس سفر کا ذکر کیا تو کچھ لوگوں نے نہایت استجاب سے پوچھا، ان خاتون سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں جو بہت تند تیز لہجے اور ترش الفاظ کی مالک ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کسی ہتھوڑا گروپ سے تعلق ہے۔ میں نے کہا، مل کے دیکھتے ہیں۔ شاید طوفان کے پیچھے قوس قزح کے رنگ ہوں”

دوسرا واقعہ ڈاکٹر صاحب کی ذاتی زندگی سے تھا۔ ان کی ایک صاحب طرز پھوپھی کا نام طاہرہ تھا جنہوں نے بہت سال پہلے معاشرے کی ان بوسیدہ قدروں کو ماننے سے انکار کر دیا تھا جن کی چھبن تو سب ہی محسوس کرتے ہیں لیکن انکار و اظہار کی صلیب کچھ ایقان والے ہی اٹھا پاتے ہیں۔ خارزار رستوں پہ چلنا تیشہ فرہاد رکھنے والے دیوانوں کے لئے ہی ممکن ہوا کرتا ہے۔ سو ماضی کی کوئی رمق تھی جو ڈاکٹرخالد کو کسی مماثلت کا شائبہ دیتی تھی۔ ان کی نیاگرا پہ موجودگی اسی تجسس کا نتیجہ تھی۔

 مکالمہ تھا ایک ادیب اور نفسیاتی معالج کا، ترش الفاظ اور تیز وتند لہجے کی مالک نوآموز لکھاری سے جو اس راستے کی مسافر ابھی بنی ہے اور کھٹن راہ کی صعوبتوں سے نا آشنا۔ بات کرنا چاہتی ہے ان تمام تجربات اور مشاہدات کی جو اس کے اندر شور مچاتے ہیں۔

پہلا سوال یہی تھا کہ اب تک آپ کس دنیا کی باسی تھیں اور ایک دوسری دنیا میں کیسے آمد ہوئی۔ جواب میں ایک لمبی کہانی تھی اور کہانی کہنے کا ہمیں ویسے ہی بہت شوق ہے۔ خوب باتیں ہوئیں اور باتوں کے رنگ اور خوشبو بادل بن کے نیاگرا پہ تیرتے پھرتے تھے۔

“باتوں کی تہہ میں ذرا ناز وانداز کی چاشنی”

تنگئ وقت کا شکوہ مہمان کو بھی تھا اور میزبانوں کو بھی۔ یادوں کا البم سج چکا تھا اور ہم نیاگرا سے رخصت ہونے کو تھے۔

نیویارک سے واپسی قریب آ چکی تھی کہ ایک اور نوید ملی۔ ملالہ یوسف زئی کے والدین شہر میں تھے۔ ضیا الدین یوسفزئی اپنی کتاب “ let her fly” کی تعارفی تقریب کے لئے نیویارک کی مشہور کتابوں کی دوکان سٹرینڈ پہ تشریف لا رہے تھے۔ یوسفزئی بھی “ ہم سب” کے ستاروں میں شامل ہیں۔

چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں جو حیرانی سے ہمیں تکتی تھیں اور اس شام ایک اجنبی سرزمین کی کہانیاں سنتی تھیں۔ ان لوگوں کے آدرشوں کی داستان جو زندگی پہ سب کا حق سمجھتے تھے اور پدرسری سسٹم کو چیلنج کرتے تھے۔ اس آگ کی پرواہ کیے بغیر جو خوابوں کے ساتھ ساتھ خواب دیکھنے والوں کے جسم و جان کو بھی راکھ کر دیا کرتی ہے

“ جب میں نے اسے دیکھا تو مجھے لگا، میں اسی کا انتظار کر رہا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ میں کیوں ایک پدرسری معاشرے میں بیٹی کی خواہش رکھتا تھا۔ جواب سیدھا سا تھا میں نے جب بھی ایک بیٹی کا باپ ہونے کے بارے میں سوچا، میں نے تصور میں اپنے آپ کو معاشرے میں پاۓ جانے والے بیٹیوں کے باپ سے مختلف دیکھا۔ یہ بات میرے اندر تب بھی تھی، جب میں شعور کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ مجھے اپنی بیٹی کو برابری کے احساس سے پروان چڑھانا تھا تاکہ وہ کسی پرندے کی طرح آزادی سے پرواز کر سکے”

یوسفزئی اپنی کتاب سے اقتباس پڑھ کے سنا رہے تھے۔ سننے والوں میں بہت سی قومیتوں کے لوگ موجود تھے۔ سوال و جواب کے وقفے میں ملالہ کی والدہ سے بھی سوال پوچھے گئے جن کا انہوں نے پشتو میں جواب دیا اور پھر انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔

ہماری پردیس آوارگی ختم ہونے کو تھی اور ہم اپنے دامن میں بہت سی یادیں سمیٹ چکے تھے۔ ہماری نئی شناخت سے جڑی یادیں۔ ویرانے میں بہار آ چکی تھی۔

اب یادوں کے دیپ جلیں گے اور وہ تمام لمحے امر ہوں گے جب قلم کے رشتے نے ہمیں عزت بخشی۔

“ہم سب “ بہت شکریہ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •