تہذیب کو چولی پہنانا میرا کام نہیں


\"aalia منٹو نے فرمایا تھا: اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ نا قابل برداشت ہے…. میں تہذیب و تمدن اور سو سائیٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی….! میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں، درزیوں کا ہے۔

ایک ادنی لکھاری ہونے کے ناتے یہ میرے بس کی بات نہیں کہ میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کے لئے خوبصورت سی چولی تیار کروں تا کہ اس کے بد نما داغ چھپ سکیں۔ خودکش بمبار اور خیالی جنت کے حوالے سے لکھے گئے میرے پچھلے کالم پر جس طریقے سے یلغار ہوئی اسے دیکھ کر دل کو یک گونہ سکون حاصل ہوا کہ پڑھنے اور توجہ دے کر پڑھنے والے ابھی ناپید نہیں ہوئے۔ ان تمام فتووں، دشنام طرازیوں، اور الزام تراشیوں کے لئے بے حد شکریہ جن کی بدولت مجھے، آپ کو اور بہت سے دیگر قارئین کو اس موضوع پر پھر سے سر کھپائی کا موقع مل گیا۔ چلئیے اتنی صلواتوں کے عوض چند اچھے نکات ہاتھ لگ گئے۔

وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

پڑھنے والوں نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ ایک واقعے کو قلم بند کرنے کا مقصد دراصل اس فرقے کو بدنام کرنا ہے۔ اس فرقے کا ذکر تو ایک بار بھی نہیں کیا گیا۔ پھر فرقے یا اس کے بانی تک بات کیسے چلی گئی۔ اس شخصیت سے منسلک ایک واقعہ (جو جھوٹا بھی ہو سکتا ہے اور سچا بھی) کے ذکر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ اس شخصیت میں دیگر خوبیاں ناپید تھیں۔ اس بات سے کس نے انکار کیا کہ حسن بن صباح یقینی طور پر ایک مفکر، فلسفی، زیرک سیاستدان، اور ذہین منتظم بھی تھے۔ اگر ہم امام غزالی، رومی، یا اقبال کی کسی بات سے اتفاق نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ ہم ان کی تمام خوبیوں اور اچھائیوں کو رد کررہے ہیں۔ یا ان کے مداحین کی سوچ کو غلط کہہ رہے ہیں۔ اصل کہانی اس خودکش بمبار بچے کی تھی جو حالات کا مجرم ہے۔ اس قدر حساس معاملے کو رد کر کے یا نظر انداز کر کے قارئین ایک ہی جست میں ناک کی سیدھ میں کالم کے آخری حصے پر پہنچے، جہاں ایک تاریخی واقعہ لفظ ( شاید کی تشکیک) کے ساتھ درج کیا گیا تھا۔ اور تاریخی واقعے کو ایک عقیدے سے زبردستی جوڑ کر متنازع بنا دیا گیا۔ اگر لکھنے والے کا مقصد کسی فرقے کی جگ ہنسائی ہوتا تو تحریر کا آغاز ہی اس واقعہ سے کیا جاتا۔ تاریخ کو مذہب بنانا کوئی ہم سے سیکھے۔

میرے اس کالم پرسوشل میڈیا کے کئی صفحات پر قارئین نے مجھے حسن بن صباح اور متعلقہ تاریخ کے حوالے سے کچھ کتابوں کے نام بتائے جن کو پڑھ کر میری کم عقلی کے عقلمندی میں تبدیل ہونے کے قوی امکانات تھے بلکہ قریب تھا کہ نئے حقائق جان کر میرٰی شخصیت ہی یکسر بدل جاتی۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس کالم پر دو طرح کے لوگوں نے کامنٹ کیا۔ ایک وہ جن کو اس تاریخی واقعے کی حقانیت سے اختلاف تھا اور ایک وہ جو اس تاریخی واقعے کی سچائی کے حامی تھے۔ فریقین نے مجھے دو مختلف طرح کی کتب کے نام بتائے ۔ اب میرے پاس اس واقعے کی حمایت اور مخالفت میں کتابوں کا ایک ڈھیر جمع ہو چکا ہے ۔

 جن دلائل کے ساتھ قارئین نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ میرے ناکافی مطالعے اور کم علمی کا نتیجہ ہے کہ میں نے ایسی بے سروپا افسانوی باتیں تاریخ سے جوڑ دیں اور ان کو سچ تسلیم کیا۔ انہی دلائل کی بنیاد پر وہ تمام اعتقادات، صدیوں پرانے واقعات اور روایات غلط ثابت ہو جاتی ہیں جوہماری کئی نسلیں سینے سے لگائے ایمان افروز خیالات میں غلطاں و پیچاں رہیں۔

ازمنہ قدیم سے لے کر ماضی قریب کے تاریخی واقعات تک، ہر دو طرح کی کتب دستیاب ہیں جن میں تاریخی واقعات اور شخصیات کی سچائی کی قسمیں کھائی گئی ہیں تو ساتھ ہی ساتھ ایسی کتب بھی موجود ہیں جن میں بے شمار تاریخی واقعات کو جھوٹ کا پلندہ بتایا گیا ہے۔ دور نہیں جاتے قریب کی مثال لے لیتے ہیں۔ ایک عرصے تک ہیر رانجھا ، سسی پنوں، سوہنی مہینوال کی داستانوں اور کرداروں کو حقیقی مانا جاتا رہا۔ آج کا دور یہ کہتا ہے کہ یہ وارث شاہ کے فرضی کردار ہیں۔ انارکلی کو دیوار میں چنوایا گیا یا وہ جناح لائبریری کے نیچے دفن ہے۔ ابھی تک اسی بات کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ وہ حقیقی کردار ہے بھی یا نہیں۔ احرام مصر غلاموں نے تعمیر کیا یا جنات نے، اس پر تحقیق ابھی تک جاری ہے اور ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ تو پھر صدیوں پہلے کے واقعے کی تصدیق کیسے ہو گی؟ آپ کہیں گے ریسرچ سے، اچھے تاریخ نگار کو پڑھنے سے۔۔۔ اچھا اور سچا تاریخ نگار کون ہے؟ اس کو پرکھنے، ناپنے اور تولنے کا پیمانہ کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ ایک صدی آگے جا کر قدیم تاریخی واقعات کو جن کو ہم حقائق تصور کرتے ہیں، انسان سراسر رد کر دے۔

اگر ہم یہ مان لیں کہ گیارہویں صدی کے یہ واقعات ایک جھوٹ کا شاخسانہ ہیں، اور میں نے مان بھی لیا کہ خیالی جنت کے حوالے سے جو لکھا گیا غلط ہے۔ تو اس حقیر مصنف کی اس عظیم غلطی نے آپ کے سوچنے کو ایک نیا نکتہ اٹھا دیا ہے کہ گیارہویں صدی سے قبل کی جو تاریخ ہم تک پہنچی ہے اس میں مصنفین نے کیا کیا حاشیہ آرائیاں نہ کی ہوں گی۔ انسانی تاریخ کا بیشتر حصہ زبانی روایات پر ہی چلا ا رہا ہے. کیا اس بنیاد پر اسے بھی رد کر دیا جائے؟

اگر یہ واقعہ درحقیقت من گھڑت ہے تو پھر آپ کون سے واقعے کی سچائی ثابت کر پائیں گے۔ کیا ہمیں ماضی کے تمام واقعات اور تاریخی شخصیات کو شک کی نظر سے دیکھنا ہو گا کہ ان کے مصنفین نے بھی ہو سکتا ہے عبدلحلیم شرر اور نسیم حجازی کی طرح افسانہ طرازیاں کی ہوں اور تاریخی واقعات اور شخصیات کی حقیقت شاید اس طرح نہ ہو۔ جنہیں شیطان بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے، ممکن ہے وہ اصل میں شیطان نہ ہوں۔

 اگر آپ غور فرمائیں تو اس حقیر پر تقصیر کی تحریروں کا محور ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانا اور بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اسماعیلی دوست دلی طور پر پسند کرنے کے لائق ہوتے ہیں کیونکہ وہ حقیقی معنوں میں امن پسند، انسان دوست اور تعلیم یافتہ، ترقی کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کو مذہب اور فرقے کی عینک لگا کر دیکھنے کی بجائے تحقیق کی نظر سے دیکھا جاتا تو اس تنقید کا فائدہ ہوتا۔ آپ نے ہمارے لکھنے کے لئے چھوڑا ہی کیا؟

قندیل بلوچ پر لکھیں تو ہم دیسی لبرل کہلائیں

احمدی جماعت کے اچھے کاموں کو غلطی سے اجاگر کر دیں تو فتوی حاضر

اہل تشیع کے قتل کے خلاف آواز بلند کریں تو تکفیریوں کے نزدیک واجب القتل ٹھہریں۔

خواتین کے حقوق کی بات کریں تو ہمیں این جی اوز کا آلہ کار پکارا جائے۔

بلوچوں کے حقوق کی بات کریں تو غداری کا میڈل مل جاتا ہے۔

فوج کی تعریف کردیں تو بوٹ پالشیا کہلائیں۔

جمہوریت کا نعرہ لگائیں تو جیلیں بھگتیں، کوڑے کھائیں

امریکہ برطانیہ کے نظام حکومت کی تعریف کردیں تو سیکولر کہلائیں

مذہب پر قلم اٹھائیں  تو ملحد قرار پائیں۔

کسی سیاسی جماعت کے خلاف خامہ فرسائی کریں تو دھمکیاں شروع

کالعدم تنظیموں پر غلطی سے کچھ لکھ دیا جائے تو جان کے لالے پڑ جائیں۔

اور جو تاریخ کا کوئی ورق الٹ دیں تو کم علمی، جہالت اور فرقہ واریت کا الزام لگا دیا جائے۔

باقی کیا راستہ بچتا ہے؟ تہذیب کو چولی پہنائی جائے؟ مشکل یہ ہے کہ لکھنے والا کا کام تہذیب کی ملمع کاری نہیں، لکھنے والے کا کام سوال اٹھانا ہے۔

Facebook Comments HS

عالیہ شاہ

On Twitter Aliya Shah Can be Contacted at @AaliyaShah1

alia-shah has 45 posts and counting.See all posts by alia-shah

2 thoughts on “تہذیب کو چولی پہنانا میرا کام نہیں

  • 07/09/2016 at 9:46 صبح
    Permalink

    بہترین تحریر۔ مگر افسوس آپ پر تنقیدکرنے والے اس تحریر کو بھی سطحی نگاہوں سے ہی دیکھیں گےاور اصل مطلب سمجھ نہیں سکیں کے۔ کم عقل وہ ہیں آپ نہیں۔

    • 08/09/2016 at 12:48 شام
      Permalink

      مجھے تک اس تحریر کا جو مطلب پہنچا بڑا سیدھا سادھا ہے۔ اگر گیارویں صدی کے حسن بن صباح کی مختصر سی تاریخ ہم تک جس شکل میں پہنچی ہے اس پر اگر سو اعتراض ہو سکتے ہیں تو ڈیڑھ دو ہزار سال یا اس سے پرانی تاریخ کو ہم مستند کیسے مانتے ہیں اور اپنا ایمان کا مسئلہ کیسے بنا سکتے ہیں۔
      دراصل ہم سب راوی کی کہانی پر ہی ایمان لے آۓ ہیں جس پر آج ہمارے دوست جمشید اقبال نے خوب لکھا ہے۔ زرا اسکو بھی دیکھ لیں کہ حسن بن صباح کے جنت کی اس کہانی کو معافی کون دے گا؟
      http://www.humsub.com.pk/25234/jamshed-iqbal-18/

Comments are closed.