کیا بھارت کی شکست 2009 چیمپئنز ٹرافی کا بدلہ تھی؟۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ کے ہاتھوں  بھارت کی شکست سے 2009 چیمپئنز ٹرافی کے مناظر تازہ ہو گئے۔

پارلیمنٹ لاجز میں شراب کی خالی بوتلیں جمع کرنے سے رزق حلال کمانے نیز گدھا گاڑی وغیرہ چلانے والے جمشید دستی نے تب چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے کھیل کا منصب سنبھال رکھا تھا۔ اس وقت جمشید دستی نے کہا تھا پاکستان نے بھارت کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر آسٹریلیا سے میچ ہارا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھا رت کےکرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ سے لیگ میچ ہارنے کو پاکستان کے 2009 میں جنوبی افریقا میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی کا بدلہ سمجھا جا رہا ہے، جب پاکستان کرکٹ ٹیم پر یہ الزامات لگائے گئے تھے کہ ا س نے جان بوجھ کر دو میچ ہارے۔ کرکٹ ماہرین کو یقین ہے کہ اتوار کے روز بھارت کی انگلینڈ کے ہاتھوں 31 رنز سے شکست کا مقصد جان بوجھ کر پاکستان کو ورلڈ کپ 2019 سے باہر کرنا ہے۔

پاکستان، جنوبی افریقا، انگلینڈ یہاں تک کے آسٹریلیا کے سابق کرکٹرز بھی یہ کہتے رہے کہ بھارت نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق میچ نہیں کھیلا۔ 2009 چیمپئنز ٹرافی میں اسی طرح کی صورت حال میں پاکستان کے ایک رکن پارلیمنٹ جمشید دستی، جو کہ اس وقت چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے کھیل تھے، نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اپنے روایتی حریف بھارت کو چیمپئنز ٹرافی سے باہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر آسٹریلیا سے میچ ہارا ہے۔

اس انٹرویو کا حوالہ سی این این نے بھی دیا تھا۔ ٹورنامنٹ کے گروپ اے میں پاکستان، آسٹریلیا، بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں شامل تھیں۔ 30 ستمبر 2009 کو پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے آخری بال پر ہدف پورا کر کے میچ دو وکٹوں سے جیتا تھا، جس کے بعد پاکستان اور آسٹریلیا سیمی فائنل میں پہنچ گئے تھے اور بھارت کی امیدوں پر پانی پھر گیا تھا۔

گزشتہ اتوار بھارت اور انگلینڈ کے میچ سے کچھ دیر قبل انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اب تک ہم نے ایجبسٹس میں انگلینڈ کے 86 مداح دیکھے ہیں ، جس میں ٹیم اور انتظامیہ کے ارکان بھی شامل ہیں ۔جب کہ مائیکل وان نے دوسرے ٹوئٹ میں کہا کہ اتوار کے روز بھارت کے لیے 50 اوورز میں ایک چھکا، منگل کے روز ایک مختلف بھارتی ٹیم۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •