قانون کو سب کے لئے برابر بنانے کی حکومتی لگن اور اپوزیشن لیڈر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے خبر نہیں کہ قومی اسمبلی کا اجلاس اب کب ہونا ہے۔ قیافہ ہے کہ طویل بجٹ اجلاس کے بعد حکومت کم از کم ایک ماہ کا وقفہ ضرور چاہے گی۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ (نون) کے شاہد خاقان عباسی جیسے تین سے چار سرکردہ رہ نما احتساب بیورو کے ہاتھوں باقاعدہ گرفتار بھی ہوسکتے ہیں۔ شنید تو یہ بھی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے وارنٹ گرفتاری بھی تیار ہیں۔ یہ مگر کوئی بتا نہیں رہا کہ چیئرمین نیب ان پر دستخط کرنے میں دیر کیوں لگارہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کی قیادت احتساب بیورو کے ہاتھوں گرفتاری سے زیادہ پریشان اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ قومی اسمبلی کے ضوابط کار کے مطابق اس ایوان کے زیر تفتیش یا جیل بھیجے گئے کسی رکن کو سپیکر پروڈکشن آرڈر کے ذریعے اسمبلی سیشن کے دوران طلب کرسکتا ہے۔ ایسا ہی حکم ایوان کی کسی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھی جاری ہونے کی روایت موجود ہے۔

شہباز شریف صاحب قائدِ حزب اختلاف منتخب ہونے کے بعد اسی سہولت کی بدولت قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرتے رہے۔ بعدازاں وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی منتخب ہوگئے۔ بطور قائدِ حزب اختلاف انہیں اسلام آباد کے ”وزیر آباد“ میں ایک گھر بھی رہائش کے لئے الاٹ ہوا۔ وہ نیب کے ”زیرحراست“ ہوتے ہوئے بھی وہاں بیٹھے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس تواتر سے بلاتے رہے۔ ”چوروں اور لٹیروں“ کی دل وجان سے دشمن تحریک انصاف کے سرگرم کارکنوں اور پُرجوش حمایتوں کو شہباز شریف کو میسر سہولتوں سے بہت دُکھ پہنچا۔

فواد چودھری بطور وزیر اطلاعات اور سابق وزیر صحت عامر کیانی ٹی وی سکرینوں پر ان کے خلاف دہائی مچاتے رہے۔ مجھ ایسے سادہ لوح نے فرض کرلیا کہ تحریک انصاف کے پُرجوش حمایتوں کے دلوں میں اُبلتے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ وزراء ”بیڈ کاپ“ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سپیکر اسد قیصر، پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی ”ایوان کا وقار“ بحال رکھنے کی خاطر ”گڈ کاپ“ نظر آتے رہے۔ یہ سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ ”فواد کے پردے میں“ عمران خان بول رہے تھے۔

اپنی حکومت کا پہلا بجٹ منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم نے جو تقریرکی اس میں دُکھی دل کے ساتھ سپیکر سے گلہ کیا کہ منی لانڈرنگ جیسے ”سنگین جرائم“ میں گرفتار آصف علی زرداری اور شہباز شریف جیسے سیاست دان کا روپ دھارے عادی مجرم ایک منتخب شدہ معزز ایوان میں پروڈکشن آرڈر کی بدولت رونما ہوجاتے ہیں۔ اپنی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کو دردبھری آواز میں بھاشن دیتے ہوئے انہیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ بجٹ منظوری کے فوری بعد ہوئی تقریر سے وزیر اعظم نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ نیب کی حراست یا جیل سے سپیکر کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈر کی بدولت قومی اسمبلی کے رکن کو میسر سہولت سے خوش نہیں۔

اس روایت کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ میری دانست میں ان کی مذکورہ خواہش پر عملد رآمد اب ضروری ہوگیا ہے۔ آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق شاید اس کی وجہ سے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ بجٹ اجلاس میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب ہوئے اراکین کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہوئے تھے۔ نصابی اعتبار سے سوچیں تو ان دو اراکین کی بجٹ اجلاس سے عدم موجودگی نے ایک پریسیڈنٹ یا نظیر طے کردی ہے۔

اس نظیر کی روشنی میں قانون کو ”سب کے لئے برابر“ دکھانے کے لئے آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے لئے بھی پروڈکشن جاری نہ کرنے میں اسد قیصر کو آسانی ہوگی۔ بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی مسلسل تین دنوں تک تحریک انصاف کے اراکین نے ”چورچور“ کا شور مچاتے ہوئے شہباز شریف کو بطور قائدِ حزب اختلاف پارلیمانی روایت کے مطابق ایک تقریر کے ذریعے بجٹ پر عمومی بحث کا آغاز کرنے کی مہلت نہیں دی تھی۔ ان تین دنوں کے شور شرابے کی بدولت تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی یہ دریافت کر چکے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کو اجتماعی طورپر تقریباً 130 اراکین کی موجودگی کے باوجود ”آنے والی تھاں“ پر کیسے رکھنا ہے۔

فرض کیا بلاول بھٹو زرداری، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور احسن اقبال بھی قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے تو اپوزیشن اراکین یقینی طورپر خود کو شکست خوردہ محسوس کریں گے۔ سپیکر اسد قیصر پرگرفتار شدہ اراکین قومی اسمبلی کی ایوان کے اجلاس میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے قابل ذکر دباؤ ڈال نہیں پائیں گے۔ سرجھکائے ایوان میں آئیں گے۔ اپنی حاضری لگاکر ڈیلی الاؤنس وصول کریں گے اور شام ڈھلتے ہی کسی نہ کسی ٹی وی ٹاک شو میں مدعو کیے جانے کا انتظار کریں گے۔

ٹی وی اینکروں کے پاس اپوزیشن اراکین کا ”مکوٹھپنے“ کے لئے اب عثمان ڈار اور علی اعوان جیسے ”نئے چہرے“ بھی ہمہ وقت میسر ہیں۔ فیاض الحسن چوہان صاحب بھی چند ماہ کی خاموش گوشہ نشینی کے بعد اپنی گرجدار آواز میں اپوزیشن کے نمائندوں سے حساب برابرکرنے کے لئے دستیاب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ”چوروں اور لٹیروں“ سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت والی سہولت ایمان داری کی بات ہے ہماری مڈل کلاس کی اکثریت کو بھی پسند نہیں ا ٓتی۔ وہ قانون کو سب کے لئے برابر دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوال تواب یہ بھی اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اربوں روپے بدعنوانی کے ذریعے جمع کرکے اسے لانڈر کرکے بیرون ملک جائیدادیں خریدنے والوں کو عدالتوں سے سزا یافتہ ہونے کے بعد جیل میں وی وی آئی پی سہولتیں کیوں دی جارہی ہیں۔

جیل میں موجود اے، بی اور سی والی تقسیم بھی ہضم نہیں ہو پارہی۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو بھی یہ تقسیم اپنے ”دو نہیں ایک پاکستان“ والے نعرے کی نفی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ”عادی مجرموں“ کو عبرت کے نشان بنانے کے خواہاں افراد مسلسل دہائی مچارے ہیں کہ نواز شریف جیسے سپریم کورٹ اور احتساب عدالتوں سے سزا یافتہ ”مجرم“ کے ساتھ وی آئی پی سلوک کیوں ہورہا ہے۔ اصولی طور پر انہیں سزا یافتہ قیدیوں والے کپڑے پہناکر عام قیدیوں والی بیرک میں رکھنا چاہیے۔

انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انہیں وہی کھانا دیا جائے جو عام مجرموں کو نصیب ہوتا ہے۔ آج سے تین صدی قبل فرانس میں ایک ”انقلاب“ آیا تھا۔ اس دور کے شاہی خاندان اور اشرافیہ کو چن چن کر چوکوں میں پارسائی اور مساوی حقوق کے طلب گار ہجوم کے روبرو گلوٹین کے چُھرے کے نیچے سررکھنے کو مجبور کیا گیا تھا۔ فرانس میں اس کے بعد ”جمہوریت اور برابری“ کا بول بالا ہوگیا۔ یہ بات مگر کوئی آپ کو بتائے گا نہیں کہ اس ”انقلاب“ کے باوجود ایک نہیں دو نپولین بدترین آمروں کی طرح فرانس پر کئی دہائیوں تک مسلط رہے۔

فرانس کے صدر کے پاس ان دنوں بھی ”شاہی اختیارات“ ہیں۔ اشرافیہ ان دنوں بھی وہاں راج کررہی ہے اور گزشتہ کئی ہفتوں سے وہاں پیلی جیکٹوں والے مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ ان پر قابو پانے کے لئے فرانس کی پولیس نے اب بندوقوں میں ویسے ہی چھرے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں جو بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو بینائی سے محروم کرنے کے لئے استعمال کیے تھے۔ فرانس جیسے ”تہذیب کی علامت“ مانے ملک میں جاری اس واردات کا مگر مقامی یا عالمی میڈیا میں ذکر ہی نہیں ہورہا۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ انقلاب فرانس کے خونی مناظر دیکھے بغیر ہی وطنِ عزیز میں قانون کو سب کے لئے برابر بنانے کے قابل ہوگئے۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •