اصل نشانہ سیاست ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رانا ثناءاللہ منشیات کیس میں دھر لیے گئے۔ اس سے یہ پیغام تو واضح ہو گیا کہ اب کسی کو کسی بھی کیس میں پکڑا جا سکتا ہے۔ پچھلے چند روز سے جو کچھ ہورہا ہے یہ خالصتاً پوسٹ پول رگنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ ن لیگ سے لوٹے نکال لیے گئے، سندھ میں پیپلز پارٹی پر کام جاری ہے۔ ایک بار پھر مشرف دور کی طرح ”پیٹریاٹ“ گروپ بنانے کا مشن پورا کیا جارہا ہے۔ یہ جو کچھ کیا جارہا ہے اس کا بنیادی ہدف ملک کو سیاست اور مقبول سیاستدانوں سے پاک کرنا ہے۔

پچھلے کچھ برسوں سے محسوس کیا جارہا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ باریاں لگا کر چلتے رہے تو غیر سیاسی عناصر کی ملکی وسائل اور معاملات پر آہنی گرفت دھیرے دھیرے کمزور پڑتی جائے گی۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو آﺅٹ کرنے کا منصوبہ 1990 ءکی دہائی میں ہی بن گیا تھا مگر 1999 ءمیں مشرف مارشل لاءکے باوجود عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ جنرل مشرف کو بے نظیر بھٹو سے معاہدہ کرنا پڑا ،نواز شریف بھی نہ صرف وطن بلکہ سیاست میں پوری آب و تاب سے لوٹ آئے اورتیسری دفعہ وزیراعظم بننے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔

اپنے پہلے دو ادوار کے برعکس تیسری ٹرم میں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے متعلق اپنا رویہ قدرے تبدیل کیا مگر مسلسل حملوں کی زد میں رہے۔ مخصوص میڈیا چینلوں کے ذریعے ان کے پورے خاندان کے متعلق وہ زبان استعمال کی جاتی رہی جس کا ہمارے معاشرے میں کوئی مہذب شخص تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پے در پے دھرنے کرائے گئے، پارٹی توڑنے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کی مہم چلی، پانامہ آیا، اس سے اقامہ نکلا ،پھر نواز شریف وزیراعظم سے مجرم بن کر جیل چلے گئے، ملک کے ہر وزیراعظم کی طرح نواز شریف تیسری بار بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔ اس مرتبہ طریق کار کچھ مختلف تھا، فیصلے عدالتوں سے آئے، الیکشن 2018 ءسے پہلے مخصوص میڈیا کیساتھ کئی اور عناصر بھی حرکت میں آئے، اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے لیڈنگ رول ادا کرتے ہوئے حکومتی امور کو معطل کر کے رکھ دیا۔ اہم لیگی رہنما توہین عدالت پر نااہل قرار پائے، مسلم لیگ کے تقریباً تمام سرکردہ رہنما اوپر تلے عدالتوں اور نیب کے چکر کاٹتے نظر آئے۔ اس دوران جو کچھ ہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے، 2018 ءکے عام انتخابات کیسے مینج کیے گئے یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کی کوشش یقینا این آر او کی ہی تھی اور ہے،آثار سے واضح ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری ایک حد سے آگے جا کر شرائط ماننے پر تیار نہیں ہورہے اور مستقبل میں بھی اس کا امکان کم ہے۔ اسی لیے جیلوں، حوالاتوں میں مختلف طریقوں سے دباﺅ بڑھایا جارہا ہے۔عام انتخابات سے قبل اپنی شدید بیمار اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن گئے نواز شریف کو واپس آنے سے روکا گیا۔ ذرائع تو آج بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم آج ملک اور سیاست چھوڑ کر چلے جائیں تو ن لیگ کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ اسی طرح اگر آصف زرداری اپنی ہمشیرہ سمیت ملک اور سیاست چھوڑ دیں تو سندھ حکومت بچ سکتی ہے۔ ن لیگ کے حوالے سے شہباز شریف کسی ڈیل یا ڈھیل کیلئے متحرک رہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کو مگر اس بات کا پختہ یقین تھا اور ہے کہ اگر کسی موقع پر نواز شریف اور مریم سیاست سے دستبردار بھی ہو جائیں تو شہباز اینڈ کمپنی کو کچھ نہیں ملنے والا، اسی طرح آصف زرداری کی کسی ممکنہ رضا کارانہ فراغت کے بعد بلاول سے ہاتھ ہونا ہی ہونا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے گھاگ رہنماﺅں کو پوری طرح سے علم ہے کہ سیاست میں اس کا اصل مقابلہ کس کے ساتھ ہے۔

مسئلہ یہ رہا کہ خصوصا ًمسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے کسی حد تک دو عملی اختیار کی اور اپنے ہم خیال و جمہوری طبقات کو کنفیوژ رکھا۔ 2018 ءکے عام انتخابات کے وقت جو کھیل بلوچستان اسمبلی میں کھیلا گیا وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا، پھر چیئرمین سینیٹ کا الیکشن بھی اسی کا ری پلے تھا۔ متنازعہ ترین عام انتخابات کے بعد صدر، وزیراعظم، سپیکر، ڈپٹی سپیکر کے الیکشن میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے ایک دوسرے کی کبھی براہ راست ،کبھی بالواسطہ مدد کی۔اس سارے منظر میں ٹرننگ پوائنٹ مولانا فضل الرحمن کی وہ تجویز تھی جو الیکشن نتائج کے فوری بعد پیش کی گئی، تحریک انصاف کے سوا ملک بھر کی سیاسی جماعتیں دھاندلی کا شور مچارہی تھیں بلکہ سیخ پا تھیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان اسمبلیوں میں جانے کی ضرورت نہیں، احتجاج شروع کرتے ہوئے اسمبلیوں کا گھیراﺅ کر لیا جائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت اس تجویز پر عمل کر لیا جاتا تو اسٹیبلشمنٹ سے بہت بہتر شرائط پر بات ہو سکتی تھی اور اگر کسی بڑی تحریک کے نتیجے میں خدانخواستہ نظام لپیٹاجاتا تو اپوزیشن جماعتوں کیساتھ یہی کچھ ہونا تھا جو اب ہورہا ہے یا پھر چند لوگ محترمہ بےنظیر بھٹو کی طرح مارے جاتے اور تاریخ میں شہید کا درجہ پاتے، اس سے آگے اور کچھ نہیں تھا۔

ظاہر ہے پیپلز پارٹی تو سرے سے مولانا کی تجویز ماننے پر تیار تھی ہی نہیں، ن لیگ میں موجود فاختاﺅں نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا اور یہ موقع ضائع ہو گیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ سی پیک کے معاملے پر نواز شریف عالمی اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر آچکے تھے۔ مغربی ممالک کے سفیر اس معاملے پر اپنی سخت ناراضگی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے تھے، اس دوران ایک اور اہم پیش رفت امریکہ میں ٹرمپ کے صدر بن جانے کے بعد ہوئی، ٹرمپ سے پہلے امریکی انتظامیہ دوست یا طفیلی ممالک کے ساتھ بیک وقت گاجر اور چھڑی کی پالیسی اختیار کرتی آرہی تھی، ٹرمپ نے آکر واضح کیا کہ کسی کو کوئی پیسہ نہیں ملے گا، الٹا ہم رقوم وصول کرینگے۔

پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت بنائی گئی تو درست معاشی حکمت عملی اپنانے میں مسلسل ناکام رہی، ن لیگ کی پچھلی حکومت ساڑھے اٹھارہ ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر، بجلی سمیت توانائی کی ضرورت کے منصوبے مکمل اور تاریخ کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر چھوڑ کر گئی تھی، ناقص اقتصادی پالیسیوں نے محض چند ماہ میں ملک میں معاشی ابتری کے بدترین حالات پیدا کر دئیے ۔5.8 گروتھ ریٹ 3سے بھی کم ہو گیا۔ عالمی ادارے بتارہے ہیں کہ اگلے سال اس سے بھی کم ہو گا، امریکی امداد کی مکمل بندش اور دوست خلیجی ممالک کی امداد کے اعلانات پر امریکی دباﺅ کے بعد کئی چیزیں آگے پیچھے ہورہی ہیں،ہماری معیشت اب مکمل طور پر آئی ایم ایف کے ہاتھ جا چکی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی سے پاس کرائے گئے بجٹ کی حتمی منظوری بھی آئی ایم ایف سے ہی لینا ہو گی۔ مہنگائی کے مارے عوام چیخ رہے ہیں مگر انہیں طفل تسلیاں دی جارہی ہیں۔ بے روزگاری ابھی اور بڑھے گی، ایسے میں محسوس کیا جارہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیاستدانوں کو فکس کرکے 1947 ءسے چلنے والا وہی روایتی غدار، کرپٹ، نااہل وغیرہ کا ڈرامہ کر کے لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا جائے۔

ملکی خزانہ خالی ہو چکا، اخراجات پہلے سے کہیں بڑھ گئے، ریاستی اداروں اور شخصیات کے ٹھاٹھ باٹھ میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے، ساری وصولیاں عوام سے کرنی ہیں۔ ایسے میں ”پرامن“ ماحول وقت کی ضرورت ہے، ایسا نہیں کہ سیاسی رہنماﺅں کو صورت حال کا پوری طرح ادراک نہیں، وہ سب جانتے ہیں ۔پاکستانی عوام کی غالب اکثریت بھی اس پورے سکرپٹ کو سمجھ چکی، اسی لیے میڈیا کی شامت آئی ہوئی ہے۔ سیاسی رہنماﺅں کی سب سے بڑی غلطی ایک ہی ہے، بیانیہ کا واضح اور استقامت نہ ہونا۔ ہر گز ضروری نہیں کہ آپ کی اپنی جماعت کے لوگ ہی آپ سے متفق ہوں، آپ ایک بیانیہ پر قائم رہیں تو ہر شعبے، ہر طبقے سے سپورٹ ملنے کے بعد اتنی توانا آواز بنتی ہے کہ کوئی سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔

 اگر سیاسی رہنما خود تذبذب میں مبتلا رہیں گے تو ان کے حامی بھی ادھر ادھر بھٹکتے رہیں گے۔ وکیل رہنما مرحومہ عاصمہ جہانگیر مکمل طور پر عدم تشدد کی حامی تھیں اور تمام عمر یہی پرچار کیا، نواز شریف کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو انہوں نے یہ کہہ کر دریا کو کوزے میں بند کر دیا ”انصاف اب سڑکوں پر آنے سے ہی ملے گا“ ایسا بھی نہیں کہ کوئی سر پھرا جلد بازی کرتے ہوئے لوہے کی دیوار سے ٹکرا کر خود کو زخمی کر لے، اصل بات تو یہ ہے کہ اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے راستہ بنایا جاتا۔ سیاست راستے بنانے کا نام ضرور ہے مگر موقف بدلنے کا نہیں۔ ارکان اسمبلی پر مشتمل لوٹوں کی کوئی اہمیت نہیں، اصل چیز کارکنوں اور ووٹروں کا پیغام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تحریک ایسے ہی بنتی ہے، شاید جلد یا بدیر پاکستان میں بھی وہ وقت آنے والا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •