شوبز ڈائری: خواتین کے لیے ‘تضحیک آمیز’ فلم کبیر سنگھ اتنی کامیاب کیوں؟

نصرت جہاں - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ دو ہفتوں میں دو فلمیں ریلیز ہوئیں، ایک شاہد کپور کی ’کبیر سنگھ‘ اور دوسری آیوشمان کُھرانہ کی ’آرٹیکل 15‘۔

دونوں فلمیں مختلف ژانر اور کلاس سے تعلق رکھتی ہیں۔ کبیر سنگھ باکس آفس پر دوڑتے ہوئے 200 کروڑ بنا چکی ہے جبکہ انوبھو سنھا کی فلم آرٹیکل 15 بھی 30 کروڑ کا ہندسہ پار کر چکی ہے۔

آرٹیکل 15 لوگوں کے ساتھ ساتھ نقادوں کو بھی پسند آئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی لوگوں کے ذہن میں ہے کہ دونوں فلموں کی ستائش اور کمائی میں اتنا فرق کیوں ہے۔

جہاں تک کبیر سنگھ کا تعلق ہے تو سوشل میڈیا پر فلم کو خواتین کے لیے تضحیک آمیز اور جنسی امتیاز پر مبنی قرار دیتے ہوئے یہ تنقید بھی ہو رہی ہے کہ اِس میں مردانگی کو زہریلے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ملے جلے تبصروں کے باوجود یہ فلم مسلسل سنیما ہالوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی طرح کا آرٹ اس کے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور کہیں نہ کہیں اس کا اثر بھی دیکھنے میں آتا ہے۔

آرٹیکل 15 کے ڈائریکٹر انوبھو سنھا کہتے ہیں کہ فلموں سے معاشرے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے ذریعے ان بڑے اور اہم موضوعات پر بات یا بحث کا آغاز ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔

اب جہاں کچھ لوگ ایک اہم سماجی موضوع پر بنائی جانے والی ایک بامقصد فلم آرٹیکل 15 کی ستائش کر رہے ہیں تو وہیں بہت سے لوگ خواتین کے لیے تضحیک آمیز اور جنسی امتیاز پر مبنی قرار دی جانے والی فلم کبیر سنگھ پسند کر رہے ہیں۔

باکس آفس پر ان دونوں فلموں کی کامیابی میں اتنا فرق معاشرے کے مزاج پر کئی طرح کے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔

انوبھو سنھا

Getty Images
آرٹیکل 15 کے ڈائریکٹر انوبھو سنھا 26 جون کو ممبئی میں فلم کی اسکریننگ کے موقع پر۔

’کبیر سنگھ سے کئی جگہ گھِن آئی‘

اس ہفتے سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ‘ملال’ ریلیز ہوئی ہے جس میں سنجے لیلا بھنسالی کی بھانجی شرمین سیگل اور جاوید جعفری کے بیٹے میزان جعفری مرکزی کردار میں ہیں۔

لگتا ہے کہ شرمین بھی شاہد کپور کی فلم کبیر سنگھ سے متاثر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں انھیں شاہد کپور اچھے لگے مگر انھیں فلم کی کہانی پسند نہیں آئی اور کئی جگہ انہیں ’گِھن سی’ محسوس ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب انڈیا میں عورتیں اپنا ایک مقام بنانے یا بااختیار ہونے کی جدو جہد کر رہی ہیں تو وہاں جنسی امتیاز کی ایسی مثال ان کی سمجھ سے باہر ہے۔

شرمین کو کہانی پر اعتراض اور حیرانی ہے لیکن کچھ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ وہ کون لوگ ہوں گے جن کی وجہ سے فلم 200 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کر چکی ہے۔

’کنگنا کا نام بھے لے لیتے تو کیا جاتا‘

کنگنا رناوت کی فلم ‘مینٹل ہے کیا’ اب ‘ججمینٹل ہے کیا’ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ سینسر بورڈ کے کہنے پر فلم کے نام میں تھوڑی تبدیلی کی گئی ہے اور ساتھ ہی فلم کا ٹریلر بھی ریلیز کیا گیا۔

اب ٹریلر جاری ہوگا تو لوگ رائے بھی دیں گے اور اگر یہ رائے کنگنا اور ان کی بہن رنگولی کو پسند نہ آئے تو بس اس کی خیر نہیں۔ ایسا ہی کچھ تاپسی پنو اور ورون دھون کے ساتھ ہوا۔

ورون نے ٹوئٹر پر ٹریلر کی تعریف کرتے ہوئے فلم میں کنگنا کے ساتھی راج کمار رائے کو مخاطب کیا۔

 

ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے کنگنا کا نام نہیں لکھا جو رنگولی کو برداشت نہیں ہوا اور انھوں نے جھٹ ورون کو لکھا کہ کنگنا کا نام بھے لے لیتے تو کیا جاتا اس نے بھی محنت کی ہے۔

رہی بات تاپسی پنو کی تو انھوں نے بھی کنگنا کا نام لیے بغیر ٹریلر کی تعریف کر ڈالی کہ بھائی ٹریلر تو شاندار ہے اور انھیں اسی طرح کی امید تھی۔

جواب میں ٹوئٹر پر رنگولی نے بھنا ہوا جواب دیا ‘کہ کچھ لوگ کنگنا کی نقل کر کے ہی اپنی دکان چلا رہے ہیں اور میں نے سنا ہے کہ تاپسی نے کہا تھا کہ کنگنا کو ڈبل فلٹر لگانے کی ضرورت ہے۔ دراصل تاپسی کو کنگنا کی سستی نقل بننے سے پرہیز کرنا چاہیے۔’

رنگولی نے ٹوئٹر پر جس طرح ان دونوں کی دھلائی کی ہے اس کے بعد فلم کے ٹریلر کے بارے میں بات کرنے کی ہمت کسی نے نہیں کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10361 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp