کمسن رحمت بلوچ اور ریاست مدینہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ موسم گرما کی ایک شام کی کہانی ہے۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے تمام طلبا اپنے پیپرز ختم کرکے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ میں بھی یونیورسٹی سے اپنی کلاسسز مکمل کرکے گھر پہنچا۔ بچپن کے سارے دوست گرمیوں کی چھٹیاں کسی صحت افزا مقام پر گزارنے کے بارے میں صلاح و مشورے کرنے لگے۔ سب دوستوں سے مشاورت کے بعد ہم نے اتوار کے دن صوبہ بلوچستان کے قبائلی خوبصورت مقامات درگ، تنگی سر اور موسی خیل جانے کا منصوبہ بنا لیا۔ سیاحت کے لئے صوبہ بلوچستان کے ان علاقوں کے انتخاب کی ایک وجہ موسمی پھل گرگول اور پیلو کا کھانا تھا۔ اتوار کی صبح ہم تمام دوست پکنک منانے کے لئے براستہ تونسہ موسی خیل روڈ بلوچستان کے لئے روانہ ہوئے۔

موسم گرما میں سفر کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر آپ پیارے اور ہنس مکھ دوستوں کے ساتھ سفر کر رہے ہوں تو سفر کی گرمی و تھکاوٹ کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ گاڑی میں موجود تمام دوست گاڑی میں لگے میوزک سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اسی دوران سامنے والی پہاڑی سے ہم نے تین بچوں کو بڑی تیزی سے سڑک کی طرف آتے ہوئے دیکھا۔ ایک لمحے کے لئے یوں محسوس ہوا جیسے یہ بچے بھی ان پہاڑوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ پکنک منانے کے لئے آئے ہوں گے۔

لیکن جب ہم ان بچوں کے بالکل قریب پہنچے تو تینوں بچوں کے ہاتھوں میں ٹورے ہمیں نظر آئے۔ ان ٹوروں میں ایک پھل پیلو موجود تھا۔ واضح رہے ٹورا گول ٹوکری نما ہوتا ہے۔ جس میں پیلو کے پھل ڈالے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ پھل راستے میں ہی مل گیا جس کے کھانے کے لئے ہم بلوچستان کی طرف منزل طے کر رہے تھے۔ تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسے محسوس ہوا کہ شکاری کو اپنا شکار آسانی سے مل گیا ہے ہمارے سامنے کھڑے تینوں بچے ہم سے فریاد کر رہے تھے کہ یہ پیلو ہم نے درختوں سے ابھی تازہ اتارے ہیں آپ یہ سب لے لیں۔ ان بچوں کے ہاتھوں میں ٹوٹل پانچ ٹورے تھے اور وہ ہم سے ان کی قیمت سو روپے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ہمارا ایک دوست ذرا شرارتی مزاج کا تھا اس نے بچوں سے کہا کہ اگر آپ یہ بیچنے کے لئے لائے ہیں تو اسی روپے ان کی جائز قیمت ہے۔ اگر آپ اسی روپے میں دینا چاہتے ہیں تو ست بسم اللہ ورنہ ہم آگے جا کر خود پیلو اتار کر کھائیں گے۔ اس بات کو سنتے ہوئے ان تینوں میں سب سے بڑا بچہ جن کی عمر تقریبا 12 سال کے قریب ہو گی بڑے معصومانہ انداز میں فریاد کی کہ ان پانچ ٹوروں میں سے تین ٹورے میرے ہیں۔ اگر آپ سو روپے میں ہم سے یہ سب خرید لیں گے تو آج میں اپنے دونوں بہنوں کو گھر جا کر بیس بیس روپے دوں گا۔

یہ سنتے ہی میں ایک لمحے کے لئے خاموش ہو گیا کہ چھوٹا بارہ سال کا بچہ جو اپنی بہنوں کو پیسے دینے کا سوچ رہا ہے حالانکہ عموماً اس عمر میں بچے خود والدین سے پیسے مانگ رہے ہوتے ہیں۔ میں نے اس بچے سے اس کے نام کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی چاہا کہ کیا آپ کے والدین نہیں ہیں۔ اس بچے نے اپنا نام رحمت بلوچ بتایا۔

رحمت بلوچ نے بڑے اداس اور غمگین لہجے میں ہچکچاتے ہوئے مجھے جواب دیا کہ میری ماں زچگی کیس میں چھ سال پہلے فوت ہوچکی ہے۔ اور میرے ابو دو سال پہلے ملتان میں ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر ہم سے بچھڑ چکے ہیں۔ اب میں اور میری بہنیں چچا کے گھر میں رہتے ہیں۔ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن میں نے صرف تین جماعتیں پڑھ لی ہیں۔ ابو کی وفات کے بعد میں نے مالی حالات کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دی۔ اور اب میں صبح اٹھ کر کبھی بکریاں چرانے اوپر والے پہاڑ پر لے جاتا ہوں تو کبھی یہی پیلو درختوں سے اتار کر بیچتا ہوں۔ رحمت بلوچ کی یہ باتیں میرے دل کو ایسے لگیں کہ ایک دم میں زمین پر بیٹھ گیا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ کیسا ملک ہے کہ جہاں پر امیر شہر کے گھوڑوں اور کتوں کے لئے روزانہ کروڑوں کا خرچہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اسی دیس کے بچوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں۔

ہم دوستوں نے پانچوں ٹورے سو روپے میں بچوں سے خریدے اور اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔ رحمت بلوچ کی باتیں سننے کے بعد میرے ذہن میں عمران خان کی وہ باتیں بار بار گھومتی رہیں۔ جو خان صاحب ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے کے لئے کرتے ہیں۔ میں بس خان صاحب کو یہی مشورہ دینا چاہوں گا کہ یہ ملک اُس وقت ریاست مدینہ میں تبدیل ہوگا جب آپ کے بیٹوں سلمان اور قاسم اور رحمت بلوچ کے لئے ملک میں انصاف کا نظام ایک ہو گا۔ سلمان اور قاسم لندن کے ہسپتالوں میں علاج کروانے کے بحائے پاکستان کے اسی ہسپتال میں اپنا علاج کرانا گوارہ سمجھیں جہاں رحمت بلوچ کا علاج ہوگا۔

سیاستدان ویسے بھی بہت ظالم ہوتے ہیں۔ ان کی ساری زندگی بڑے محلوں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں گزرتی ہے۔ ان کو رحمت بلوچ کی محرومیوں کا خاک اندازہ ہوگا۔ اس ملک میں سیکنڑوں رحمت بلوچ جیسے بچے سڑکوں پر رُلتے ہوئے آپ کو ملیں گے جہنوں نے مجبوریوں کی وجہ سے اپنی پڑھائی چھوڑدی ہوگی۔ جس معاشرے میں شرح خواندگی کم ہو وہاں پر شعور کی کمی کی وجہ سے ہمیشہ ڈاکو، چور اور بد دیانت انسان پیدا ہوتے ہیں۔ خان صاحب آپ ملک کے چوروں کو پکڑنے کے ساتھ ساتھ نئے نوجوانوں کو بنیادی ضروریات بھی میسر کریں تاکہ معاشرے میں ملک لوٹنے والے جڑ سے پیدا ہی نہ ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •