تاریخ فہمی اور عام فکری مغالطے


انسانی تاریخ میں یا تو انسانوں نے اپنے ارد گرد کے حالات کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کی یا پھر اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔ دونوں صورتیں زندگی گزارنے کے لیے ہی ہیں لیکن معنی کے اعتبار سے انتہائی مختلف۔ یہ جاننے والے دوسرے راستے کو پہلے راستے پر ترجیح دیتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کوئی مقدس صحیفہ نہیں ہوتی کہ جس کو یقین کامل کے ساتھ ایمان کا ایک لازمی جزو مان لیا جا‌ئے اور یہ بھی ایک عام فکری مغالطہ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے۔ تاریخ حقیقی معنوں میں نہ ہی تو اپنے آپ کو دھراتی ہے ‎‌اور نہ ہی کوئی مقدس صحیفہ ہے۔ بلکہ یہ پرپیچ دائروں پر مشتمل آگے بڑھتا ہوا متضاد عوامل کا مجموعہ ہے جو ہمیشہ آگے کی جانب محو سفر ریٹا ہے ہاں البتہ اس تسلسل کی ہر اکائی اپنے سے گزشتہ اور آئیندہ اکائیوں سے باہم منسلک ہوتی ہے۔ جو واقعات کو ان کے اصل تناظر میں سمجھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ ‎

دیانتداری کا تقاضہ ہے کہ تاریخ کو اس کے اصل تناظر میں پڑھا اور سمجھا جائے تاکہ یہ عمل ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنے میں معاون و مددگار ثابت ہو نہ کہ اپنی مرضی کی تشریحات کر کے مسخ شدہ تاریخ کے چہرے کو مذید کالک زدہ کیا جائے۔ یہ عمل معض پیچیدگیاں پیدا کرنے کی ایک سعئی لا حاصل تو ہو سکتا ہے لیکن اصل اہداف کی طرف جانے والے رستے کو سہل نہیں بنا سکتا۔

تاریخ کو سمجھنے میں ایک زیادتی اس وقت کی جاتی ہے۔ جب تاریخی حقائق کو زمان و مکاں کے دائروں سے الگ کر کے اپنی مرضی و منشا کے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ دانستہ طور پر ایک منفی عمل ہے کیونکہ جب تک تاریخی حقائق کو کسی خاص زمانے اور حالات کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ درست نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ زمان و مکاں دونوں کے زیر اثر ہوتی ہے اور کسی مخصوص دور کے واقعات کی تشریح اس وقت تک غیر جقیقی ہوتی ہے جب تک کہ ان مخصوص جالات کا ادراک نہ ہو۔

اس لئے کہ اور بہت ساری سچائیوں کے ساتھ تاریخی سچائیاں بھی کوئی ابدی یا حتمی نہیں ہوتی بلکہ وقتی اور علاقائی ہوتی ہیں اس لیے حتمی سچائی کو کسی ایک تاریخی واقعے میں تلاش کرنا سعئی لا حاصل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہاں البتہ بہت ساری وقتی اور علاقائی سچائیوں کے بکھرے ٹکڑوں کو باھم جوڑ کر ”سچ“ یعنی معاشی ’سیاسی‘ فکری یا نظری حقیقت کے قریب ترین پہنچا جا سکتا ہے۔

تا ریخی حقائق کو جاننے کے عمل میں ایک خطرناک رجحان یہ بھی پایا جاتا ہے کہ تاریخ کو تعصب کی عینک لگا کر اپنی مرضی کے کردار تخلیق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو کہ علمی، سائنسی، حقیقی اور مادی نقطہء نظر سے انتہائی نا مناسب رویہ ہے۔ اس عمل سے نہ صرف یہ کہ تاریخی کرداروں کی اصلیت مشکوک ہو جاتی ہے بلکہ یہ عمل علمی بددیانتی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ جس کے سبب سچائی کی تلاش کا سفر مذید کٹھن ہو جاتا ہے۔ دوسرا رجحان جو زیادہ خطرناک ہے وہ یہ ہے کہ تاریخ میں حقائق کو سمجھنے کے بجائے اس نقطے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے کہ اصل حقائق کو جھٹلایا کیسے جائے جو نہ صرف سائنسی اعتبار سے غلط ہے بلکہ اخلاقی گراوٹ کا بھی مظہر ہے۔

آگے بڑھنے کے لیے عہد حاضر کی سچائیوں کو جاننا اور تعصب کی عینک کو اتار کر ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ضروری ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ جب عہد حاضر کے چیلنجز کا سامنا ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے تو ہم ماضی کے کسی من گھڑت قصے کہانی کو اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے کر استعمال کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب کے حقیقت یہ ہے کہ جو اقوام صرف ماضی کے گرداب میں الجھ کر رہ جاتی ہیں وہ لمحہ موجود کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

اگر رکھتی بھی ہیں تو بھی ان کی توانائیاں عہد موجود پر صرف ہونے کے بجائے عہد رفتہ اور عہد حاضر میں منقسم ہونے کی وجہ سے باقی اقوام کے مقابلے میں کمزور ہو جاتی ہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ گاڑی چلاتے وقت ڈرائیور کی توجہ کا بڑا مرکز سامنے والا رستہ اور ونڈ اسکرین ہوتی ہے۔ اور بیک میرر اور سائیڈ میرر صرف ضرورت کے وقت استعمال ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح مستقبل پر نظر رکھنے والی اقوام بھی ونڈ اسکرین (آگے کی طرف) پرنظر رکھتی ہیں۔ اس لیے کہ بیک میرر (ماضی) پر لگاتار توجہ مرکوزرکھنے کا مطلب ایکسیڈنٹ ہوتا ہے۔

وہ نفطہ جس کی طرف دھیان دینا سب سے ضروری ہے وہ ہے درباری تاریخ اور حقیقی تاریخ میں فرق کرنے کا ہنر۔ ہر عہد میں بالادست طبقات اور اشرافیہ کے درباری مورخین کی ایک فوج پل رہی ہوتی ہے جو ریاستی جبر کا شکار ہو کر یا پھر چند نقرئی سکوں کے عوض متاع لوح و قلم بیچنے پر مجبور ہو جاتی ہے یا بکنے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ عمل تاریخ کا چہرہ مسخ کرنے کا موجب بنتا ہے اور ظالم اشرافیہ کو آنیوالی نسلوں تک ایک ہیرو کی شکل میں پہنچانے کا گھناونا کھیل

انسانی معاشرے کی سماجی تقسیم کی طرح تاریخ کی تشریح بھی تقسیم ہے۔ بالادست طبقات کا تاریخی وژن محلات کے جھوٹے قصیدوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حقیقی مادی تاریخ طبقاتی کشمکش کے ایک لا متناعی سلسلے کا نام ہے اور یہ کشمکش شروع سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پیداواری عمل کے نتیجے میں ذخیرہ اندوز دولت کو مساویانہ انداز میں تقسیم کر کے ’استحصالی نظام کا خاتمہ اور غیر طبقاتی سماج کا قیام عمل میں نہیں آجاتا۔

تاریخ میں موجود طبقاتی کشمکش کے محرکات کے تانے بانے ہر عہد میں بالا دست طبقے کے بنا ئے گے استحصالی نظام سے جڑتے ہیں۔ برابری اور سماجی انصاف کے حصول کی جنگ کو ہر عہد کے حکمرانوں نے اپنے طبقاتی مفاد کی خاطر ریاستی طاقت کے بل بوتے پر کُچلنے کی کوشش کی۔ اس عمل میں درباری ملاؤں، پنٌڈتوں اور پادریوں نے ہر عہد میں اپنے مذہبی رتبے کو بادشاہ وقت کے استحصالی نظام کو درست ثابت کرنے کے لیے زیردست طبقے کے خلاف استعمال کیا۔ اور یہ روش آج کے عہد میں بھی جاری ہے۔

اس فکری بحث کا ہر گز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہمیں بحثیت انسان تاریخ کی ملکیت کا دعویدار بن کر ماضی کے مزاروں کو کھود کر ہڈیوں کے ڈھانچوں کو اپنی پسند کا شاہکار بنانے کی ناکام سعئی کرنے والا گھورکن بن جانا چاہیے۔ بلکہ تاریخی کرداروں کو مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے ان کی اصلیت کے ساتھ پہچاننا اور جاننا ضروری ہوتا ہے۔ تاریخ کے غلط کرداروں کا دفاع ایک اور فکری مغالطے کو جنم دبتا ہے اگر ہم اپنی تعفن ذدہ غیر حقیقی تاریخ کی ملکیت کے حق سے دست بردار ہو جائیں اور اُسے قابل یقین سائنسی طریقہ کار کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں تو نہ صرف ہمارے بہت سے عقلی و فکری مسائل حل ہو سکتے ہیں بلکہ ہم اپنے مستقبل کی بہتر تشکیل کر سکتے ہیں۔ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ کام انسانوں کے اُن گروہوں کے لئے اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جن کی تاریخ کے دھارے ایک سے زیا دہ تاریخوں سے جُڑے ہوتے ہیں

کہا جاتا ہے کہ تاریخ آئینے کا کام کرتی ہے۔ تو صاجب ‌حب آئینہ پہلے ہی اتنا دھندلا ہو، اوپر سے چہرے بھی مسخ کر دیے جائیں تو ایسا مبہم شاہکار تراشنے سے بھلا کیا حاصل؟


صفحات: 1 2