ایران، ایک نیا میدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی سطح پہ معاملات جس تیزی کے ساتھ بدلتے جا رہے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکی چوہدراہٹ کا بت بھی ٹھیک اُسی طرح پاش پاش ہو جائے جس طرح سابق سوویت یونین کا حال ہوا۔ ایسا ہونا مستقبل قریب میں تو ناممکن دکھائی دیتا ہے لیکن مستقبل بعید میں ایسا ہو جانا اچھنبے کی بات اس لیے بھی نہیں کہ پوری دنیا میں معاملات تیزی کے ساتھ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ شام میں اپنی مرضی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکنا، عراق میں ایک عرصے سے موجودگی کے باوجود وہاں کے منظر نامے پہ مکمل گرفت کے حصول میں مشکلات، افغانستان میں نائن الیون کے بعد حملے کے جواز کے بعد سے لے کر اب تک معاملات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پہ آ چکا ہے۔

اور جن کو کل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا ان کے ساتھ ایک میز پہ بیٹھنا اچھا لگ رہا ہے۔ یمن (حواری کے لیے ) گلے کی ایسی ہڈی بنتا جا رہا ہے جسے نے نگلا جا سکتا ہے نہ اُگلا جانا ممکن لگ رہا ہے۔ سعودی عرب یمن تنازعے میں ایک فریق ہے اور ائیرپورٹس پہ حالیہ حملے اس بات کی دلیل ہیں کہ معاملات اتنے سادہ ہیں نہیں جتنے نظر آ رہے ہیں۔ خطے میں جہاں سعودی عرب اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے تو دوسری جانب ایران اپنی سرداری چھوڑنے کو تیار نہیں۔

اور شام، عراق، یمن میں ایران کا روس کے ساتھ گٹھ جوڑ کسی بھی طرح امریکہ و سعودی عرب کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ قطر کا ناطقہ سعودی عرب نے بند کیا خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کے تو ایران نہ صرف مدد کو آیا بلکہ قطر کو ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔ اندریں حالات یہ کہ خطہ ء خلیج اس وقت مکمل طور پہ عالمی طاقتوں کی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ اور جیسے جیسے وقت سرکتا جا رہا ہے اس تجربہ گاہ کا رقبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اور تازہ ترین صورت حال کے مطابق نیا میدان ایران میں تیار ہو رہا ہے۔ اور صف بندیاں جاری ہیں۔

یمن، شام، عراق، افغانستان مکمل طور پر ایک الگ پس منظر رکھتے تھے۔ یمن قدرے غیر مستحکم ملک تھا تو عراق و شام بھی ایک عرصے سے ریشہ دوانیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے، محاذ آرائی آسان تھی۔ فیصلہ سازوں کو زیادہ سوچنا بھی نہیں پڑا ہو گا۔ افغانستان تو کئی دہائیوں سے زمانہء امن کم دیکھ پایا ہے۔ اور محدودے چند سال جو امن کے ملے نائن الیون کا ناسور وہ بھی کھا گیا۔ اور موجودہ حالت یہ ہے کہ حکومت کابل تک محدود ہے۔

اور امریکی وہاں سے جان چھڑانے کو بے تاب ہوئے جاتے ہیں۔ لیکن معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ ترکی خطے میں پہلے ہی اپنا جھکاؤ روس کی طرف دکھا رہا ہے۔ اور ایف 35 کے معاملے پہ امریکہ کے ساتھ معاملات سرد مہری کا شکار ہیں۔ میزائل ڈیفنس سسٹم کا امریکہ کے علاوہ کسی ملک سے حصول بھی ایک اہم پیش رفت ہو گی۔ ان تمام حالات میں ایران کے خلاف کوئی محاذ آرائی کیا رخ اختیار کرئے گی، بتانا قبل از وقت ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دلدل میں پاؤں دھنستے ہوئے معلوم تب ہوتا ہے جب گردن تک دبتے چلے جائیں۔

امریکہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازعے میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تو ایران بھی سخت موقف میں مستقل مزاجی اپنائے ہوئے ہے۔ امریکی ڈرون کو گرانا جہاں ایک طرف امریکی پالیسی سازوں کو غصہ دلا گیا ہے تو دوسری جانب ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ اگر اتنی جدید ٹیکنالوجی کا حامل ڈرون ایران گرا سکتا ہے تو روایتی جنگ میں نقصان کا تناسب کیا ہو گا۔ عالمی طاقت کے حوالے سے یقینی طور پہ ایران و امریکہ کا مقابلہ نہیں لیکن ایران شاید افغانستان بھی ثابت نہ ہو۔

پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے۔ ایران کے خلاف کسی محاذ آرائی میں پاکستان ایک دوراہے پہ کھڑا ہے۔ امریکہ کا ساتھ دے تو برادر اسلامی ملک سے تعلقات طویل عرصے تک خراب ہو سکتے ہیں۔ جو پہلے ہی سرد مہری کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں مسائل، بھارت کے ساتھ ایران کی دوستی کی پینگیں، اسی تلخی کی کڑیاں ہیں۔ دوسری جانب پاکستان ایران کی حمایت کر کے امریکہ کی ناراضگی بھی کسی صورت مول نہیں لے سکتا۔ غیر جانبدار رہنا بظاہر ناممکن نظرآتا ہے لیکن اس معاملے میں بھی یمن پہ اپنائے جانے والے اپنے موقف کو دوبارہ اپنایا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں پارلیمان کا سہارا بھی لیا جانا بہترحل ہے۔ چین اور امریکہ آمنے سامنے ہیں۔ چینی ٹیکنالوجی کمپنی پہ پابندی نے اس محاذ آرائی کو ہوا دے دی ہے۔ چین ون بیلٹ ون روڈ پہ کی گئی سرمایہ کاری کسی صورت ضائع نہیں ہونے دے گا۔ افغانستان میں طالبان کے ساتھ معاملات بہتر کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایران اور طالبان کے معاملات بھی بہتری کی جانب آ رہے ہیں کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد ایران اپنا کردار بڑھانا چاہ رہا ہے۔

بھارت الگ سے خطے میں ایران کے ساتھ قرابت داری اپنائے ہوئے ہے۔ ان حالات میں ایران کے خلاف روایتی جنگ لڑنا دیوانے کی بڑھک تو ہو سکتی ہے عقلمندی نہیں۔ تر نوالہ ایران اس لیے بھی نہیں کہ عالمی پابندیوں کے دوران یقینی طور پہ ایران نے اپنی بقاء کے نئے راستے تلاش کیے ہوں گے۔ اور اتنے عرصے تک عالمی دنیا کے ساتھ رابطہ استوار کیے ہوئے، سپر پاور سے مخاصمت میں لہجہ سخت کیے رکھنا آسان کام نہیں تھا۔ روحانی پیشوا کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں نیا قدم ہے جو امریکہ نے ایران پہ دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا ہے۔ اب ایران کس قدر جھکتا ہے، آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

حالات گواہی دے رہے ہیں کہ ایران اس وقت عالمی طاقتوں کے لیے ایک نیا میدان ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ میدان نہ عراق جیسا شورش زدہ ملک ہے، نہ ہی شام جیسا کمزور ملک، نہ تو افغانستان جیسا جنگ زدہ ملک ہے نہ ہی یمن جیسا دوسروں پہ انحصار کرنے والا ملک۔ ایران معاشی مسائل کا شکار ہے، مذہبی رجحانات و جدت پسندی میں کشمکش بھی جاری ہے لیکن حیران کن طور پر عوام کی اکثریت امریکی محاذ آرائی کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی معاملے پہ مرگ بر امریکہ کا نعرہ سب مل کے لگا رہے ہیں۔

ایران اس وقت عالمی طاقتوں کے لیے مستقبل کی فیصلہ سازی کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ چین، روس، ترکی جھکاؤ ایران کی طرف دکھا رہے تو یورپی طاقتیں امریکہ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ لیکن حیران کن پہلو یہ ہے کہ یورپی طاقتیں نیوکلیئر ڈیل پہ امریکہ جیسا سخت موقف نہیں اپنا رہیں۔ سعودی عرب کی ایران سے مخالفت ڈھکی چھپی نہیں۔ خلیجی ریاستیں بھی اُس کی ہمنوا ہیں۔ لیکن ایران کے پڑوس کے دیگر ممالک قدرے مختلف رجحان اپنائے ہوئے ہیں۔

بھارت بھی حیران کن طور پر ایران کے قریب آ رہا ہے۔ عالمی سطح پہ حالات کو چوں چوں کا مربہ کہیں تو غلط نہیں ہو گا کہ اس وقت مفادات کا کھیل مکمل طور پر عروج پائے ہوئے ہے۔ چین تجارتی جنگ میں امریکہ کو پریشان کر رہا ہے، ترکی طیب اردوان کی قیادت میں نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، روس دوبارہ سے اپنے عروج کی گمشدہ داستان پانے کی تگ و دو میں ہے اور یہ سب امریکی عزائم کے خلاف ہے۔ امریکہ کسی بھی صورت چین کو دنیا کی معیشت پہ راج کرنے نہیں دینا چاہتا جب کہ چین بناء کسی بڑی محاذآرائی کے مقاصد حاصل کر رہا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ مکمل ہو گیا تو امریکہ کی اجارہ داری کو ویسے ہی خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ روس بھولا کچھ نہیں، وقت کی گرد اٹھ رہی ہے۔ بدلے کی آگ کا الاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

ایران میں جو میدان تیار ہے۔ وہ عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کو بھی ایک نئی جہت دے گا۔ آنے والے وقت میں نئے اتحاد بنتے نظرآرہے ہیں جس میں روس، چین، ترکی اولین صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ بھارت کا جھکاؤ کس جانب ہو گا ابھی واضح نہیں۔ پاکستان نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، مکمل طور پہ امریکہ کی نائن الیون جیسی حمایت شاید اب ممکن نہ ہو۔ سعودی عرب موقع پاتے ہوئے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرئے گا۔

ایران یمن کی صورت حال کو مزید اپنے لیے استعمال کرئے گا۔ شام و عراق میں بھی بھینسوں کی لڑائی میں چیونٹیاں مسلی جائیں گی۔ جنگ کا میدان سجتا ہے تو زمین سے اٹھنے والی دھول بہت کچھ اپنی اوٹ میں چھپا لیتی ہے۔ سرسبز میدان ویرانے بن جاتے ہیں۔ شفاف دریا گدلے ہو جاتے ہیں۔ ایران و امریکہ کی مخاصمت کیا گل کھلائے گی، معلوم نہیں۔ لیکن یہ کھلا راز ہے کہ دنیا کے امن کے لیے فائدہ مند نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •