آئن سٹائن کے ابنارمل دماغ کی چوری سے حاصل شدہ معلومات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تصور کلاسیکی نظریہِ اضافت کہلاتا ہے۔ آئن سٹائن نے خصوصی نظریہ اضافت بھی دیا اس قبل آپ یہ جان لیجیے کہ روشنی وہ واحد شے ہے کہ جس کی رفتار یکساں رہتی ہے، روشنی کہ رفتار ہے 299 792 458 m / s یعنی تقریباً تیس کروڑ میٹر فی سیکنڈ، یعنی 299,792 کلو میٹر فی سیکنڈ۔ اگر آپ ارجنٹینا کے شہر روزاریو سے چین کے شہر زنگوا کا سفر ماپیں تو یہ اس کا فاصلہ ہے 19966 کلومیٹر ہے جب کہ روشنی دو لاکھ نناوے ہزار سات سو بانوے کلو میٹر فی سکینڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔

کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز نہیں ہے۔ اب اسی روشنی کی رفتار کو پہلی دی گئی مثال میں گینٖد سے بدلیں تو بس کے اندر بھی روشنی کی وہی رفتار ہوگی جو بس کے باہر ہے یعنی تقریباً تیس کروڑ میٹر فی سیکنڈ۔ اب یہاں کلاسیکی نظریہ اضافت اور خصوصی نظریہ اضافت میں رفتار یا حرکت سے متعلق ایک نزع کی کیفیت ہوگئی سابقہ اصول کے مطابق اب روشنی کی رفتار میں بس کی رفتار شامل ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوتا روشنی بس کے اندر اور باہر ایک جیسی رفتار رکھتی ہے۔

رفتار برابر ہے فاصلہ اور وقت کے۔ روشنی اور گیند کی امثال میں طے کردہ فاصلہ تو ایک ہی ہے تاہم وقت مختلف ہوجاتا ہے۔ گویا اس مساوات کو حل کرنے کے لیے وقت کو ہی تبدیل کرنا پڑے گا۔ یہاں آئن سٹائن نے خصوصی نظریہ اضافت دیا جس کے مطابق اگر کوئی جسم حرکت میں ہے تو اس کے لیے وقت مختلف ہوگا بہ نسبتاً اس شخص کے جو رُکا ہُوا ہے۔ اسے یوں سمجھیے کہ اگر آپ کسی انتہائی تیز رفتار خلائی جہاز میں بیٹھ کر خلا میں چلے جائیں اور ایک سال خلا میں گزار کر آئیں تو زمین پر کئی سال بیت چکے ہوں گے۔

چونکہ دنیا کی رفتار آپ کے خلائی جہاز کی رفتار سے بہت کم ہے۔ اس کو ثابت کرنے کے لیے سائنس دانوں نے دو ایٹمی گھڑیاں لیں ایک کو زمین پر رکھا جب کہ دوسری کو ایک تیز رفتار جہاز میں اور پھر اسے گھمایا گیا جب کہ دونوں گھڑیوں کو اکٹھا رکھا گیا تو جہاز والی گھڑی کا وقت مختلف تھا۔ اور وقت اتنا ہی مختلف تھا جتنا کہ آئن سٹائن نے پیش بین کیا تھا، یعنی گریوٹی (کششِ ثقل) نے وقت کی رفتار میں کمی بیشی کے سلسلے میں اپنا کردارادا کیا۔

۔ لہٰذا یہ ثابت ہُوا کہ وقت Relative ہے، اگر فریم آف ریفرنس بہت تیزی سے حرکت کررہا ہے تو وقت آہستہ رو ہوجائے گا اور اگر فریم آف ریفرنس آہستہ سے حرکت کررہا ہے تو وقت تیز ہوجائے گا۔ ایسے ہی دنیا کے اس ذہین ترین سائنس دان کا ایک انچ کے فارمولے E = mc 2 نے دنیا کے تصورِ طاقت کو ہی بدل کے رکھ دیا۔ [یہ فارمولا ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے کہ کیسے اس نے نہ صرف سائنسی نظریات میں تبدیلی لائی بلکہ سماجی سائنس اور ادبیات پر اس نے کیا اثرات مرتب کیے ]۔

آئن سٹائن ایک ایسا عظیم سائنس دان تھا جس نے نیوٹونین فزکس کو رد کر دیا [کلی طور پر نہیں ]، خاص کر اس بات کو کہ تمام اجسام ایک دوسرے کی طرف باہمی کشش رکھتے ہیں۔ آئن سٹائن نے کہا کہ کوئی بھی دواجسام ایک دوسرے کی طرف باہمی کشش نہیں رکھتے بلکہ وہ اسپیس ٹائم کو اپنے گرد ”طاری“ کرلیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسپیس اجسام کو دوسرے اجسام کی طرف دھکیلتی ہے جس کی وجہ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اجسام کے درمیان باہمی کشش ہے۔

ایک لحاظ سے نیوٹن اور آئن سٹائن اس مد میں ایک جیسا ہی سوچ رہے تھے تاہم آئن سٹائن کا تصورزیادہ درست تھا بلکہ عین درست تھا۔ بہر حال آئن سٹائن کی تحقیق نے کائنات کی بہت سی گھتیوں کو سلجھایا۔ آئن سٹائن کی اس غیر معمولی صلاحیت کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے اس پر سے راز اس کی موت کے بہت بعد میں اٹھا۔ ڈاکٹر ہاروی کو سماجی سائنس کے معیارات پر پرکھیں تو اس نے ایک غیر اخلاقی حرکت کی اور اس کی اس حرکت کی مذمت کی جانی چاہیے اور اسے چور کے نام سے یاد رکھا جانا چاہیے دوسری طرف اُس کی اِس چوری نے آئن سٹائن جیسے عظیم سائنس دان کے دماغ سے متعلق کچھ ایسی معلومات دیں جن کو جان کر ہم قدرت کی پروگرامنگ سے انکار نہیں کرسکتے۔

آئن سٹائن کے دماغ کو ہاروی نے 240 مختلف ٹکڑوں میں محفوظ رکھا بعد ازاں اس کا موازنہ 47 سے 80 برس کی عمر کے 1 مختلف انسانی دماغوں سے کیا گیا۔ آئن سٹائن کے دماغ میں ان دماغوں کی نسبت ایک Abnormality تھی۔ آئن سٹائن کے دماغ میں ایک عام انسان کی نسبت 17 فی صد زیادہ نیورانز تھے۔ گویا دماغی خلیات کے جوڑ زیادہ تھے جو اس کے دماغ میں زیادہ دماغی پیغام رسانی کرتے تھے۔ ایک بات اور کہ اس کے دماغ میں ایکparietal operculum کی تہہ کم تھی یاد رہے کہ parietal operculum انسان کو ریاضیاتی اور شماریاتی حسابات کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس تہہ کی لاموجودگی سے اس کے دماغ میں parietal lobeکے لیے بیس فی صد زیادہ جگہ بن گئی۔ یہ حصہ بھی ریاضیاتی حسابات کے لیے کام آتا ہے لیکن ایک بات اور اہم کے یہ تخیل سازی بھی کرتا ہے۔ آئن سٹائن کا ایک مشہور قول ہے کہ تخیل علم سے کہیں اہم ہے۔ البتہ ایک امریکی سائنس دان میرین ڈائئمنڈ اس بات کی انکاری ہیں کہ آئن سٹائن کا دماغ عام انسانوں سے مختلف تھا۔ کچھ لوگوں کا ماننا یہ بھی ہے آئن سٹائن ریاضیاتی معاملات میں نالائق تھا، کلاس روم میں بھی اسے ایک درمیانی صلاحیت کا طالب علم سمجھا جاتا تھا، اور بعد ازں [ابتدائی دنوں میں ] اسے ملازمت کے سلسلے میں بھی کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی۔

آئن سٹائن کے دماغ کی یہ ابنارملٹی اسے قدرت کی طرف سے تحفے میں ملی تھی۔ جہاں سائنس دان عجیب و غریب خیالات میں گھرے رہتے ہیں وہیں وہ کچھ نیاسوچنے اور کرنے میں جُت جاتے ہیں۔ آئن سٹائن جب مر رہا تھاتو ہسپتال میں اُس نے اپنے آخری الفاظ ادا کیے جو وہاں پر موجود نرس نے سُنے لیکن نرس چونکہ صرف انگریزی جانتی تھی وہ آئن سٹائن کے جرمن زبان میں کہے گئے الفاظ کو سمجھ نہ پائی اور آج تک یہ راز راز ہی رہا کہ آئن سٹائن جیسے عظیم سائنس دان، جس نے دنیا کی شکل ہی تبدیل کردی تھی آخر کار اُس ازلی حقیقت کو پاگیا جسے پانے کے لیے موت کی دہلیز پر قدم رکھنا پڑتے ہیں۔

امریکی ایک دل چسپ قوم ہیں 1932 میں جب اُس وقت تک آئن سٹائن نے امریکہ کی شہریت اختیار نہیں کی تھی امریکی ایجنسیوں نے اس کے خلاف ایک فائل تیار کر رکھی تھی۔ اس فائل میں اُس کی موت تک 1124 صفحات اس سے متعلق تحقیقات اور شکوک و شبہات پر مبنی نتھی تھے جویقینا اُس کی موت کے ساتھ ہی بند ہوگئی۔ یاد رہے کہ آئن سٹائن کے بارے میں ایجنسیوں کا ماننا تھا کہ وہ کمیونسٹ نظریات کا حامل ہے جو امریکہ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ آئن سٹائن کی بطور جاسوس بھی تحقیقات ہوتی رہیں۔ البتہ اس سائنس دان کو اتنا معلوم تھا کہ نازی ایٹم بم بنا رہے ہیں لہٰذا اُس نے امریکیوں کو بھی ایٹم بم بنانے پر اکسایا خاص کر امریکی صدر روز ویلٹ کو خط لکھ کر آئن سٹائن نے امریکہ کو نازیوں کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ البتہ جب 1945 میں امریکیوں نے ایٹم بم کے ذریعے جاپان میں دو شہر دنیا کے نقشے سے ختم کردیے تو آئن سٹائن اپنے اس خط پر بہت نادم ہُواجو اس نے روز ویلٹ کو تحریر کیا تھا۔

عین ممکن ہے کبھی یہ معمہ بھی حل ہو کہ ڈاکٹر ہاروی بھی امریکی ایجنسیوں کا ایجنٹ تھا اور جوآئن سٹائن کے دماغ کو حاصل کرکے کچھ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کل کلاں دنیا کے کسی بڑے ملک میں تمام بڑے لوگوں کے دماغ شیشے کے مرتبانوں میں پڑے مل جائیں عین ممکن ہے کہ اسامہ بن لادن کا دماغ بھی کسی امریکی لیبارٹری کی زینت بنا ہُوا ہو اور امریکی سائنس دان اُس کے دماغ سے دہشت گردی پیدا کرنے والے خلیات کی کھوج لگانے کی کوشش میں مگن ہوں۔ اور حیرت کی بات یہ ہوگی کہ وہ اس میں کامیاب بھی ہوجائیں گے۔

ٌنوٹ: اس مضمون میں درج معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کردہ ہیں جو عام دستیاب ہیں تاہم طلب کرنے پر ریفرنسز دیے جا سکتے ہیں (مصنف)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •