آئن سٹائن کے ابنارمل دماغ کی چوری سے حاصل شدہ معلومات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئن سٹائن 14 مارچ 1879 کو جرمنی میں ایک سیکولیر یہودی خاندان میں پیدا ہُوا جب کہ اس کی موت 18 اپریل 1955 کو امریکی ریاست نیو جرسی میں ہوئی جہاں وہ 1933 میں گیا بعد ازاں وہ بطورتارکِ وطن کے طور پر رہا۔ بعد ازاں اسے 1940 میں امریکی شہریت مل گئی۔ اس سے قبل سولہ برس کی عمر میں آئن سٹائن اپنے والدین کے ہم راہ اٹلی چلا گیا۔ سترہ برس کی عمر میں دیگر نوجوانوں کی طرح آئن سٹائن کو بھی لازمی فوجی سروس سر انجام دینا تھی جس سے اس نے انکار کیا اور اس کی ڈزرشن رول نکال دی گئی اور اسے بھگوڑا نامزد کردیا گیا۔

نازی اس سے اتنے نالاں تھے انہوں نے آئن سٹائن کی ساری کتب جلا دیں۔ نازیوں نے بھگوڑے آئن سٹائن کے سر کی قیمت پانچ ہزار ڈالر رکھی اور اشتہار کا عنوان رکھا کہ ”وہ شخص جسے ابھی تک پھانسی نہیں دی گئی“۔ آئن سٹائن نے نازیوں کا جواب یوں دیا کہ ایسا نازیوں کی جلد بازی کا ثبوت ہے اور وہ فکری آزادی سے ڈرتے ہیں۔ بعد ازاں آئن سٹائن نے سوئٹزر لینڈ کی شہریت اختیار کی۔ 1940 میں آئن سٹائن کو امریکی شہریت دی گئی جہاں وہ اپنی موت تک رہا۔

آئن سٹائن تمباکو نوشی کرتا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ تمباکونوشی منطقی فیصلہ سازی میں بنیادی کردار اداکرتی ہے، ساتھ ہی ساتھ آئن سٹائن کو موسیقی پسند تھی خاص کر وائلن بجانا۔ جب کبھی وہ کسی مسئلے میں الجھ جاتا تو وائلن بجاتا تھا۔ آئن سٹائن نے اپنے طرزِ لباس اور انداز سے فلمی ستاروں سے زیادہ شہرت کمائی۔ ہ اپنے بال مخصوص انداز میں بکھرے ہوئے رکھتا تھا اسے موزے پہننے سے سخت الجھن ہوتی تھی اس کے نزدیک موزے ایک فضول ایجاد ہیں جو انسان کو محض کوفت یا آزار فراہم کرتے ہیں، [حالانکہ اس کے پیر کا ایک انگوٹھا کچھ بڑا تھا جس کی وجہ سے اس کے موزے شکستہ ہوجاتے تھے لہٰذا اس نے ان کا استعمال ہی ترک کردیا]۔

حتیٰ کہ جب وہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر روز ویلٹ سے مل رہا تھا تو بھی اس نے جرابیں نہیں پہنی ہوئی تھیں۔ 73 برس کی عمر میں جب آئن سٹائن امریکہ میں تھا تو اسے اسرائیل کا صدر بننے کی پیش کش کی گئی کیونکہ اسرائیلی سمجھتے تھے کہ آئن سٹائن ایک کٹر یہودی ہے شاید اس کی وجہ اس کے ہٹلر سے اختلافات تھے، یا ایک یہودی خاندان میں پیدائش یاپھر جرمنی کی شہریت کو ترک کرنا۔ زیادہ تر لوگ اسے ملحد سمجھتے تھے لیکن آئن سٹائن خدا کا قائل تھا البتہ اس کا تصورِ خدا عیسائیت اور یہودیت سے مختلف تھا[شاید اس کا اپنا اختراع کردہ، بہر حال وہ خدا کی موجودگی کا قائل تھا]۔

اسرائیل کی جانب سے صدارت کی پیش کش کو آئن سٹائن نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ لوگوں سے میل جول اور بات چیت کو زیادہ پسند نہیں کرتا اور وہ اس فن میں کم زور ہے۔ موت سے قبل آئن سٹائن نے اپنے جسم پر تحقیق سے منع کردیا تھا، دراصل وہ چاہتا تھا کہ اس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ کو مختلف جگہوں میں خاموشی سے فضا میں اُڑا دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آئن سٹائن کو اپنے جسم کے کسی عضو کے بارے میں کسی عیب کا علم تھا بلکہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے جسم کو محفوظ نہ کر لیا جائے اور لوگ اسے دیوتا کی طرح پوجنا نہ شروع کردیں۔

لیکن جب 1955 میں پرنسٹن ہسپتال امریکہ میں جہاں آئن سٹائن زیرِ علاج تھا، کی موت ہوئی تو اس وقت وہاں ڈیوٹی پر تعنیات ڈاکٹر ہاروی کو آئن سٹائن کی لاش کے معائنے کے لیے کہا گیا۔ ڈاکٹر ہاروی بھی سائنس، تحقیق اور تجربات پر یقین رکھتا تھا، اُس نے آئن سٹائن کی وصیت کے برعکس اور آئن سٹائن کے خاندان سے اجازت کے بغیر ہی اس کا سر کھولا اور اُس میں سے اپنے عہد کے سب سے بڑے اورنوبیل انعام یافتہ سائنس دان کا دماغ چوری کر لیا۔

جب آئن سٹائن کے دماغ کی چوری کی خبر عام ہوئی تو ڈاکٹر ہاروی کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا، تاہم ڈاکٹر نے آئن سٹائن کے بیٹے ہینس البرٹ سے درخواست کی کہ وہ اسے معاف کردے کہ اُس نے اُس کے والد کا دماغ چوری کیا، آئن سٹائن کی آنکھیں بھی نکال لی گئیں جو اس کی آنکھوں کے ڈاکٹر ہنری ابراہم کو ملیں اور آج تک یہ آنکھیں نیویارک میں کہیں محفوظ رکھی گئی ہیں۔ ڈاکٹر ہاروی نے آئن سٹائن کے بیٹے سے کہا کہ دراصل وہ آئن سٹائن کے غیر معمولی دماغ کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے تاکہ دنیا کو آئن سٹائن کے غیر معمولی دماغ کے متعلق معلومات حاصل ہوسکیں جو یقینا آئن سٹائن کی زندگی میں ممکن نہ تھیں۔

آئن سٹائن ایک موڈی قسم کا انسان تھا اگرچہ موسیقی اس کا شوق تھا باوجودیکہ وہ اپنی دھن کا پکا تھا، جس بات پر اڑ جاتا اُس پر قائم رہتا۔ آئن سٹائن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنی ضد پر اڑا نہ رہتا تو مزید زندہ رہ سکتا تھا، جب ڈاکٹرز نے خون کی ایک نالی کو مصنوعی طریقے سے درست کرنے کا مشورہ دیا تو اس نے جو کہا وہ صرف آئن سٹائن ہی کہہ سکتا تھا، اس نے ان الفاظ میں ڈاکٹرز کا مشورہ ماننے سے انکار کردیا ”زندگی کو مصنوعی طریقے سے بڑھانا ایک بے ذائقہ عمل ہے، میں نے اپنے حصے کا کردار ادا کردیا ہے اور اب اختتام کو بھی شان دار طریقے سے سر انجام دینا چاہوں گا“۔

آئن سٹائن بچپن سے ہی غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک تھا۔ اگرچہ عام بچے کی نسبت اس عظیم سائنس دان نے دیر سے بولنا شروع کیا یہاں تک کہ اس کے والدین اس کے بارے میں تشویش میں مبتلا رہنے لگے مباداکہ یہ کسی ذہنی بیماری کا شکار نہ ہو[درحقیقت آئن سٹائن لسانی ساختوں کو ذہن میں جوڑتا رہتا لیکن ان کا اظہار اس نے قدرے دیر سے کیا]۔ ایک رات کھانے کی میز پر آئن سٹائن نے پہلی مرتبہ جو الفاظ بولے وہ تھے کہ ”یہ سوپ بہت گرم ہے“۔

اس کے والدین حیران ہوئے کہ ان کا بچہ روانی سے بول سکتا ہے تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم پہلے کیوں نہیں بولے؟ تو آئن سٹائن نے جواب دیا کہ اس سے قبل سب ٹھیک چل رہا تھا۔ پانچویں سال گرہ پر آئن سٹائن کے والد نے اسے ایک مقناطیسی کمپاس تحفے میں دی تب اس میں سائنس سے دل چپسی پیدا ہوئی۔ وہ سوچتا رہتا کہ وہ کون سے طاقت ہے جو مقناطیسی سوئی پر اپنا اثر قائم رکھتی ہے؟ سترہ برس کی عمر میں آئن سٹائن نے پولی ٹکنیک سکول میں داخلے کا امتحان دیا جہاں وہ ریاضی اور سائنس میں پاس ہوگیا تاہم تاریخ اور جغرافیے میں بری طرح ناکام ہوگیا۔

خیر آئن سٹائن نے نیوٹونین فزکس کے بنیادی قضایا سے اختلاف کیا اور خصوصی نظریہِ اضافت اور بعد ازاں عمومی نظریہِ اضافت پیش کیے جن سے نہ صرف سائنس بلکہ سماجی سائنس کے میدان میں بھی کھلبلی مچ گئی [باوجودیکہ ان کامیابیوں کے آئن سٹائن کو نوبیل انعام 1921 میں فوٹو الیکٹرک اثرات کی دریافت پر دیا گیا]۔ 1905 میں آئن سٹائن کے تحریر کردہ مقالوں نے یوں سمجھ لیجیے کہ دنیا کا تصورِ زمان و مکاں ہی بدل دیا۔ اور مکانی زماں یا زمانی مکاں میں تبدیل کر دیا، یعنی وقت کا جو روایتی تصور تھا کہ یہ ایک مستقل اور یکساں چیز ہے آئن سٹائن نے اس کی نفی کردی۔

سادہ ترین الفاظ میں ریلیٹویٹی/اضافت کو یوں سمجھیے کہ اس نظریے میں حرکت کے متعلق بات کی گئی ہے۔ یعنی کوئی بھی چیز جب حرکت کرتی ہے تو ریلیٹویٹی کا اتباع کرتی ہے۔ ہم کسی چیز کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ وہ رکی ہوئی ہے یا چل رہی ہے جب تک کہ کوئی ریفرنس پوائنٹ نہ ہو یعنی جب تک کسی چیز کا موازنہ دوسری چیز سے نہ ہو ہم اس کی حرکت سے متعلق کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے۔ مثال کے طور پر میرے سامنے سے ایک کار گزری تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں رُکا ہُوا ہوں اور کار چل رہی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص چاند سے منظر دیکھ رہا ہو تو وہ کہے گا کہ [زمین پر] کار حرکت کررہی ہے اور اس کے سامنے میں بھی حرکت کررہا ہوں جب کہ وہ شخص چاند پر رُکا ہُوا ہے، اور ایسے ہی اگر کوئی شخص نظامِ شمسی سے پرے یہ منظر دیکھے تو وہ کہے گا نہ صرف زمین پر کار اور اس کے سامنے شخص حرکت کر رہا ہے، بلکہ چاند بھی حرکت کررہا ہے۔ لہذا جتنا آگے بڑھتے جائیں گے چیزیں مزید حرکت کرتی ہوئی محسوس ہوں گی۔ یاد رہے کہ زمیں 1800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔

اگر آپ ایک بس میں سفر کر رہے ہیں جو کہ پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کررہی ہے اور اس میں بیٹھا آپ کا ایک دوست پچھلی نشست سے گیند دس کلومیٹر کی رفتار سے اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے آپ کی طرف پھینکے گا تو گیند آپ کو دس کلومیٹر کی رفتار سے ہی وصول ہوگی کیونکہ وہ بھی اسی بس میں پچاس ہی کی رفتار سے حرکت کررہا ہے تاہم بس سے باہر راستے میں کھڑے ہوئے شخص کو گیند کی رفتار ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ محسوس ہوگی کیونکہ بس کی رفتار اور گیند کی رفتار جمع ہوگئی ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •