مسکرا کے دیکھتا تھا میں سوئے دار و رسن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پانچ جولائی کی شب ہے، شب بھر تو تیرا چرچا رہنا چاہیے، آمر ضیا الحق نے 5 جولائی 1977 کو مارشل لا لگا کر پاکستان کو جس رستے پر دھکیلا تھا، وہاں سے واپسی کا کوئی راستہ آج 42 سال بعد بھی نظر نہیں آتا، زیرِ نظرتصویر میں یہ وہی شخص ہے جس کی پھانسی پر ایک انگریزی روزنامے نے خبر لگائی تھی کہ ’یہ شخص جو قبر سے پاکستان پر راج کرے گا‘ ۔ پھر ہم نے دوبار بے نظیر کی شکل میں اور ایک بار زرداری کی شکل میں بھٹو کو پاکستان پر راج کرتے دیکھا۔

میں ایک کراچی والا ہوں، کراچی جس کے لیے یہ شخص ایک آسیب ہے، کراچی جو دھیرے دھیرے مررہا ہے تو اس کے بنیاد بھی اسی شخص نے رکھی تھی۔ لیکن میں کیا کروں، پاکستان کی تاریخ میں جمہور کی صفوں میں ایک ہی مرد گزرا ہے اور وہ یہ شخص ہے، یہی ذوالفقار علی بھٹو جس نے پہلے ایوب خان کو ڈیڈی کہا اور پھر اسی ڈیڈی کے منہ پر استعفیٰ دے مارا۔

یہی شخص جسے ملٹری ڈکٹیٹر، سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا کر بھاگ کھڑا ہوا، اس وقت جو فوج کا حال تھا، یہ چاہتا تو کئی سال سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا بیٹھا رہتا، لیکن اس نے ملک کو محض تین سال میں ایک آئین دیا، وہ آئین جو مقدس تھا، پاکستان میں لکھی جانے والی آج تک کی سب سے عظیم دستاویز، آج وہی آئین ہے جو ڈنڈے کے زور پر آنے والوں کو واپسی کا راستہ دکھاتا ہے۔

کچھ مورخین کے نزدیک یہ ایک بدترین شخص تھا، لیکن اسلامی سربراہی کانفرنس اسی کا کارنامہ تھا، پاکستان کو سوشل ویلفئیر اسٹیٹ بنانے کی راہ پر اسی نے قدم رکھا تھا، افسوس جو یہ ملک نہ بن سکا۔

میں نے اپنے شعور کے دنوں میں نواز شریف کا دوسرا دوردیکھا، مشرف کا دور، زرداری اور پھر نواز شریف اور اب عمران خان کا دور دیکھ رہا ہوں۔

ان تمام ادوار میں معاشی طور پر سب سے برا سمجھا جانے والا زرداری کا دور میرے نزدیک سب سے اچھا تھا، وہ کیوں؟ اس پر پھر کبھی بات کریں گے، شکر ہے کہ عمران خان نے وہ چھاپ بھی ہٹادی۔

پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بات سمجھ لینا انتہائی ضروری ہے کہ اپنے تمام تر کرپشن اسکینڈلز کے باوجود اس وقت واحد پیپلز پارٹی ہے اس ملک میں جو شیر کی کچھار میں داخل ہوکر اسے چھیڑنے کی ہمت رکھتی ہے۔ ہم سب اپنی زبانیں بند بھی کرلیں تو ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اصل مسائل کی جڑ کہاں ہے۔

اگر آپ کو فرصت ملے تو ذرا بلاول کی تقاریر سن لیا کریں یقیناً اس کا بات کرنے کا انداز کچھ عجیب ہوگا لیکن وہ نو آموز سیاست داں جو آج کل کہہ رہا ہے، وہ کہنے کے لیے بھٹو سا چٹانوں جیسا عزم، بے نظیر سی ذہانت اور زردادی سی سیاسی بصیرت چاہیے، ان سب نے غلطیاں بھی کی ہیں لیکن اوروں سے کم اور یہ سیکھ بھی جاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کی اے پی سی کے موقع پر ثابت کیا کہ سقوط ڈھاکا کے بعد سے وہ تاریخ میں صحیح سمت پر کھڑے ہونے کا فن جانتے ہیں، اول، مذہب کو سیاست کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، دوئم اسمبلیوں سے استعفے دے کر حکومت کو من مانی نہیں کرنے دیں گے۔ واللہ بزرگی عمر سے نہیں فیصلوں سے آتی ہے اور حالیہ اے پی سی میں فضل الرحمن کے نادر خیالات کسی ایسے جوان کے سے تھے جس کی محبوبہ کو کوئی چھیڑ کر بھاگ گیا ہے اور وہ غصے سے دیوانہ ہو کر مرنے مارنے کی بات کررہا ہے۔

موروثی سیاست ایک وبا ہے لیکن فی الحال ہمیں اس وبا کی ضرورت ہے، بلاول کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے بھٹو آج بھی گڑھی خدا بخش کے مزار سے اس ملک پر حکومت کررہا ہے، بے شک جو تختہ دار کی بلندیوں پر جھول گیا، وہی سر، سربلند ہے۔

آخری میں میری اک غزل کا شعر

مسکرا کے دیکھتا تھا میں سوئے دار ورسن

دیکھ کر روتے تھے مجھ کو دار کے تختے سبھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •