جج ارشد ملک وڈیو کے کردار ناصر بٹ کے خلاف قتل، زنا اور بلوے کا تفصیلی پولیس ریکارڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جج ارشد ملک کی وڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) برطانیہ کے اس رہنما کے خلاف راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں 14 ایف آئی آرز درج ہیں جبکہ وہ شہباز شریف کے ساتھ برطانوی وزارت داخلہ بھی جا چکا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ن لیگی رہنماکے خلاف آخری ایف آئی آر 15 اکتوبر 1996 کو راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں تہرے قتل کے الزام میں درج کی گئی۔ ایف آئی آر نمبر345/1996 کے اندراج کے بعد وہ مبینہ طور پر مفرور ہو گئے اور تقریباً 17 سال مفرور رہے۔ اس دوران وہ بیرون ملک چلے گئے۔ اس مقدمہ میں ناصر بٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بھائیوں اور دیگر ساتھیوں عارف محمود بٹ، شعیب محمود بٹ، ندیم پراچہ، ناصرخان، خالد محمود، جہانزیب بٹ اورعبدالرشید کے ہمراہ چاندنی چوک میں ایک گاڑی پرفائرنگ کی جس سے گاڑی میں سوار دو حقیقی بھائی اکرام الحق ملک اور انوارالحق ملک اور ان کا ڈرائیور جاں بحق ہو گئے۔ اس مقدمہ میں وہ کئی سال تک مفرور رہے۔ ذرائع کے مطابق بعدازاں راضی نامہ کے بعد یہ کیس ختم کر دیا گیا۔

راولپنڈی کے علاقہ ڈھوک رتہ سے تعلق رکھنے والے ناصر محمود بٹ کے خلاف راولپنڈی پولیس کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق سب سے پہلی ایف آئی آر تھانہ مری میں 9 جون 1982 کو زیردفعہ 186 درج ہوئی۔ 15 دسمبر 1986 کو تھانہ صادق آباد میں زیردفعات 382،307/10 حدود و زنا آرڈی ننس کے تحت شکایت درج کی گئی۔ 2 دسمبر1987 کو تھانہ گنج منڈی میں اقدام قتل، ہنگامہ آرائی کی ایف آئی آردرج ہوئی۔ تھانہ آر اے بازار میں 1990 میں اقدام قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ 17 مئی 1993 کو تھانہ وارث خان میں اقدام قتل اور بلوہ کرنے کے الزامات میں ایف آئی آردرج کی گئی۔ 20 مئی 1994 کو ان کے خلاف تھانہ وارث خان میں پولیس مزاحمت، اقدام قتل اور بلوے کی ایف آئی آردرج کی گئی۔

11 جنوری 1996 کو ناصر محمود بٹ کے خلاف تھانہ گوجرخان میں قتل باالسبب کی ایف آئی آر نمبر 16 درج کی گئی۔ مذکورہ 14 مقدمات میں سے  7 مقدمات اقدام قتل، 2 قتل، ایک قتل بالسبب، ایک زنا اور ایک پولیس مزاحمت کے الزام میں درج ہوا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی اثرورسوخ اور حکومتی سرپرستی کے باعث وہ قانون کے شکنجے سے بچتے رہے۔ اور بعد ازاں مسلم لیگ ن کی حکومت میں 2013 میں واپس آئے۔

ایک پرانے پولیس افسر نے کہا کہ ان مقدمات میں ناصر بٹ کی موجودہ پوزیشن کے بارے میں وہ وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ناصر بٹ نے ماضی میں سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کیساتھ برطانوی وزارت داخلہ کا دورہ بھی کیا تھا جس کے بعد کھلبلی مچ گئی تھی کہ دہرے قتل کا ملزم وزارت داخلہ کے دفتر کیسے پہنچا۔ اس وقت برطانوی ہوم سیکرٹری اور موجودہ وزیراعظم تھریسا مے نے ان کے دورے کو سیکورٹی کی شدید خلاف ورزی قرار دیا تھا کیونکہ ناصر بٹ کا نام مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ تاہم بعد ازاں ناصر بٹ کی طرف سے قانونی چارہ جوئی کے بعد برطانوی اخبارات نے اپنی خبر واپس لے لی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •