میری میکسیکو کے ایک ’منشیات کے گروہ’ کے ساتھ گزرے آٹھ ماہ کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ایک بہت اچھی تنخواہ والی مگر پُر خطر ملازمت کا دروازہ کھلا تو اس 28 برس کے نوجوان نے خطرہ مول لے لیا

اِدھ وہردو، 28

میں اگر سچ کہوں تو پہلی مرتبہ مجھے اس وقت پتا چلا کہ میں کن لوگوں کے لیے کام کر رہا ہوں جب میں نے اپنے سینئر ساتھیوں کو نوٹوں کی گڈیاں دفتر لاتے دیکھا۔

یہ روز کا معمول تھا، ہر روز تین بجے دس افراد لاکھوں کی رقوم لے کر دفتر میں آتے جو دفتر کی ایک ملازمہ لے کر بینک جاتی۔ اس بارے میں کبھی کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا۔ ان ہی لمحات میں مجھے لگتا کہ میرا یہ خدشہ درست ہے کہ میں منشیات فروشوں کے کسی گروہ کے لیے کام کر رہا ہوں۔

مجھے بہت کم عمری سے جرائم پیشہ منظم گروہوں کے منشیات فروشی میں ملوث ہونے کے بارے میں علم تھا۔ میکسیکو میں پلنے بڑھنے میں مافیا کی طرز کے جرائم پیشہ گروہوں کا خوف روز مرہ زندگی میں ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ زیادہ تر آپ خون ریز لڑائیوں کی آنے والی مسلسل خبروں اور افواہوں پر دھیان نہیں دیتے لیکن جب یہ میری زندگی میں داخل ہو گئیں تو میرا ان سے بچنا ممکن نہیں رہا۔

میں ایک ایسی جگہ پلا بڑھا تھا جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا تھا اور خبریں بڑی تیزی سے پھیلتی تھیں۔

جب میں 15 برس کا ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ گروہ کتنے خطرناک ہوتےہیں۔ یہ سنہ 2006 تھا جب نئے صدر فلپ کالڈیرون نے اقتدار سنبھالا تھا۔

وہ میکسیکو میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر کے ملک میں قانون کی بلادستی قائم کرنے کے وعدے پر اقتدار میں آئے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ وہ منشیات فروشوں کے خلاف فوج کے ذریعے کارروائی کرنے کے بارے میں وہ بڑے پر عزم تھے۔ وہ سنہ 2012 تک ملک کے صدر رہے لیکن منشیات فروشوں کے خلاف جنگ ان کے اقتدار سے الگ ہو جانے کے بعد بھی جاری رہی۔ منشیات کے خلاف جنگ کے نتیجے میں سنہ 2006 کے بعد سے دو لاکھ افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

منشیات فروشوں کے بڑے گروہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہونے لگے اور اپنے مخصوص علاقوں سے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنے لگے۔

تاریخی طور پر شمالی میکسیکو پر سنالوا نامی گروہ جس کا سرغنہ بدنام زمانہ ال چاپو تھا اور زیادہ تر مشرقی حصہ لوس زیٹاز نامی گروہ جو فوج کے بھگوڑوں پر مشتمل تھا کے زیرِ اثر تھا۔

شہر کے وسط میں ان کی اے کے 47 کلاشنکوفوں سے لڑائی ہوئی۔ میں نے اس طرح کا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان کی لاشیں گلیوں میں ڈال دی جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ نوعمری میں جب شہر کی گلیوں سے گزرتے ہوئے دور کہیں گولیاں چلنے کی آوازیں سنتا تھا تو میرے بدن میں ایک جھری جھری سے آ جاتی تھی۔

میں نے کبھی ہلاکتیں ہوتی نہیں دیکھی تھیں لیکن میں نے لاشیں گلی میں پڑی ہوئی دیکھی تھیں۔ جب میں نے پہلی مرتبہ ایسا ہوتے دیکھا تو یہ اتنا خوفناک تھا کہ میں ہل کر رہ گیا لیکن افسوس کہ یہ سب کچھ بہت جلد ایک معمول بن گیا۔

اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے خوف آتا ہے کہ کس طرح اتنا خوفناک تشدد ہماری زندگیوں کا حصہ بن گیا تھا۔ کچھ لوگوں کو میں جانتا ہوں کہ وہ اپنا کاروبار شروع کرنے سے بھی خوف زدہ تھے کیونکہ ان گروہوں کے کارندے ان سے بھتہ لینے کے لیے آ جائیں گے۔ اگر وہ دیکھیں گے آپ کا کوئی کاروبار ہے جیسا کہ کوئی دکان وغیر وہ آپ کو تحفظ فراہم کرنے کے عوض آپ کے سے حصہ مانگنے آ جائیں گے یا پھر آپ کو قتل کرنے کی دھمکی دیں گے۔

میں انھیں جب بھی دیکھتا جب میں اپنی کم عمری میں اپنے دوستوں ے ساتھ کلب جاتا تھا۔ عام طور پر یہ سونے کی زنجیریں گلے میں ڈالے کوئی لمبا چوڑا شخص ہوتا تھا جس کے اردگرد کئی نوجوان لڑکیاں رہتی تھی۔ میں سوچتا تھا کہ اس شخص میں ایسی کیا خاص بات ہے۔ ایک مرتبہ اس کے ایک چمچے نے مجھے دھمکی دی۔ اس نے مجھے پر الزام لگایا کہ میں نے اس کے باس کی میز سے شراب اٹھائی ہے اور مجھے کہا کہ میں دوبارہ وہاں نظر نہ آؤں۔ میں کلب سے بھاگ آیا اور میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

بچپن میں مجھے آثار قدیمہ کا ماہر بننے کا شوق تھا کیونکہ مجھے قدیم تاریخ میں بہت دلچسپی تھی۔ میرے خیال میں میں انڈیانا جونز سے متاثر تھا۔ لیکن جب پیشہ اختیار کرنے کا وقت آیا تو میں نے مارکٹینگ کا پیشہ اختیار کیا جس میں میرے خیال میں زیادہ پیسے تھے۔ میرے ایک دوست نے مجھے ایک مقامی رسالے میں نوکری دلوائی جس میں میں نے بہت جلد اپنا نام بنا لیا۔

اس کے بعد میرے ایک جاننے والے نے مجھے ایک ایسی کمپنی کے لیے تشہیر کا کام کرنے کی پیشکش کی جو ایک بڑی ایجنسی میں کام کرتا تھا جس کے گاہکوں میں بہت سے ایسے ریسٹورانٹ اور شراب خانے تھے جن کے مالک منشیات پیشہ گروہ تھے۔ جرائم پیشہ گروہوں کو اپنی غیرقانونی ذرائع سے آمدن کو قانونی ظاہر کرنے کے لیے کسی جائز کاروبار کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ میں صرف ہفتے وار چھٹی کے دوران کام کر کے کم از کم ایک ہزار پاؤنڈ کے قریب کما سکتا ہوں تو میں انکار نہ کر سکا۔

پیسے کی لالچ میں میں اس کا شکار ہو گیا۔

میں اس وقت صرف اکیس برس کا تھا اور میں نے ایک ‘راک سٹار’ کی طرح رہنا شروع کر دیا، خوب پارٹیاں شروع کر دیں اور دوستوں کو خوب شراب پلانے لگا۔ لیکن میں نے اپنے والدین کا گھر نہیں چھوڑا۔ میں بہت زیادہ بھی اپنا پیسہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ کہیں لوگ سوال پوچھنا نہ شروع کر دیں۔ اس وقت مجھے کچھ شکوک و شبہات تھے کہ ان لوگوں کے جرائم پیشہ گروہوں سے تعلقات ہیں لیکن میں اپنے آپ کو ان کا حصہ نہیں سمجھتا تھا کیونکہ میں تو صرف ان کے شراب خانوں اور ریسٹورانٹ کی تشہیر میں ان کی مدد کر رہا تھا۔

میرے والدین کو میرے بدلے ہوئے حالات پر تشویش ہونے لگی کہ میں کن لوگوں کے لیے کام کر رہا ہوں۔ انھوں نے مجھے محتاط رہنے کے بارے میں کہا لیکن شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ جرائم پیشہ گروہوں کے کسی رکن سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا میں صرف اپنا کام کرتا تھا اور مجھے اپنا معاوضہ ملا جاتا تھا۔

کچھ ہفتے گزر جانے کے بعد مالکان میں سے ایک شخص دفتر آیا۔ مجھے فوراً احساس ہوا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور اس شخص پر میں اعتماد نہیں کر سکتا۔ وہ بہت مہنگے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور ایک بڑی مہنگی گاڑی میں آیا تھا۔ ان لوگوں کو شوبازی کا بہت شوق ہوتا ہے اور کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فیشن ان لوگوں سے چلتا ہے۔ سنہ 2010 میں جب جرائم پیشہ گروہوں کے کئی کارندے گرفتار ہوئے تو ان سب نے پولو کی شرٹیں پہنی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ہر شخص کو پولو کی شرٹ چاہیے تھی۔

اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے اور کام اور اور پیسہ چاہیں۔اس نے کہا کہ وہ میکسیکو کی لوک موسیقی کے شو شروع کرنا چاہتا ہے اور اسے ان کی تشہیر میں مدد کی ضرورت ہے۔ کبھی کبھی منشیات فروشوں کے سرغنہ شہرت حاصل کرنے کے لیے ان گلوکاروں سے اپنے بارے میں گانے لکھواتے ہیں۔

میکسیکو کے کچھ علاقوں میں منشیات فروشوں کی شان میں گانے گانے پر پابندی ہے۔

وہ منشیات فروشوں کے تشدد کو خوبصورت بنا کر پیش کرتے تھے جیسا کہ ایک گانا تھا جس کے بول کچھ یوں تھے ’اے کے اور بزوکا سے نشانہ لگاتے ہوئے جو بھی راستے میں آئے اس کا سر اڑا دو‘۔ یہ بعض اوقات گلوکاروں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا تھا اور ایک گروہ کی شان میں گانے گانے پر دوسرے گروہ نے ناراض ہو کر گلوکاروں کو قتل بھی کیا ہے۔

اس وقت تک مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ گروہ کنسرٹ کرانے میں کس حد تک شامل ہیں۔ وہ ایک مقامی فارم پر ہوا کرتے تھے جس میں 30 ہزار افراد شریک ہوتے۔ میں نے ان کنسرٹس میں جانا شروع کیا، وہاں بہت بھاری بندوقیں اٹھائے ہوئے لوگوں موجود ہوتے تھے۔ میں نے وہاں کبھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھا۔ وہ پہلا موقع تھا جب میں نے واقعی موت کا خوف محسوس کیا۔ آپ نہیں جانتے کب کسی مخالف گروہ کے لوگ حملہ کر دیں یا پولیس کا چھاپہ پڑ جائے۔ کبھی کچھ ایسا نہیں ہوا لیکن میں نے جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان بالادستی کی لڑائیوں کے واقعات کی خبریں سن رکھی تھیں۔

اس تمام تر سکیورٹی کی وجہ سے مجھے بھی عجیب سے تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔ اگر ذہن سے یہ نکال دیا جائے کہ یہ لوگ کون ہیں تو ان کے ساتھ رہنے میں بھی ایک مزا تھا۔ جب میں نے ان کنسرٹس میں جانا شروع کر دیا تو یہ لوگ مجھے اور میرے دستوں کو مہنگی مہنگی جگہوں پر کھانا کھلانے لے جاتے تھے۔ میرے ذہن میں یہ بھی رہتا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی جب چاہے مجھے گولی مار کر ہلاک کر سکتا ہے۔

ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا اخلاقی سوال مجھے ذہنی دباؤ کا شکار کر رہا تھا۔

میں جتنا زیادہ ان لوگوں کے قریب ہوتا گیا مجھے اتنا زیادہ یقین ہو گیا کہ ان کا تعلق جرائم پیشہ گروہوں سے ہے۔ گو کہ میں نے کبھی انھیں کسی کو ہلاک کرتے یا منشیات بیچتے نہیں دیکھا لیکن مجھے یہ یقین تھا کہ یہ سب کچھ کہیں ہو رہا ہے۔ میں کسی جرائم پیشہ گروہ کا رکن نہیں تھا لیکن پھر بھی میں ملوث تھا کیونکہ مجھے ان کے پیسے سے تنخواہ مل رہی تھی۔ مجھے برا لگ رہا تھا۔ اس وقت تک میں اکثر دفتر جانا شروع ہو گیا تھا اور اب مجھے نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ دفتر آنے والوں کے بارے میں علم ہوا۔

مجھے میرا باس کچھ بنگلوں پر لے گیا جو وہ پہاڑوں میں تعمیر کر رہا تھا۔ وہ بہت عالیشان بنگلے تھے۔ میں اس کے باس یعنی بگ باس سے بھی کئی مرتبہ ملا۔ وہ ان معاملات سے الگ رہتا تھا اور زیادہ تر کاروباری حصے پر اپنے گھر سے ہی نظر رکھتا تھا۔ اس کا ایک پالتو شیر اور ایک حسین و جمیل بیوی تھی۔

میں نے اپنے باس سے صاف صاف پوچھ لیا کہ کیا وہ بھی اس جرائم پیشہ گروہ کے رکن ہیں۔ اس کا جواب مبہم تھا۔ اس نے جواباً مجھ سے پوچھا تم اور کیا معلوم کرنا چاہتے ہو اور کیا یہ ظاہر کرنا چاہتے ہو کہ تمہیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ جس مشکل صورت حال کا مجھے سامنا تھا اس کے بارے میں سوچتے ہوئے میں نے صرف پراعتماد انداز میں اپنے ارگرد نظر ڈالی۔

میں فارم پر ہونے والے کنسرٹ میں کثرت سے جانے لگا لیکن مجھے سکون نہیں آ رہا تھا۔ میں یہ کام کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن مجھے یہ خوف تھا کہ چھوڑنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے مارکٹینگ ایجنسی میں کام کرنے والے اپنے ساتھیوں سے دور رہنا شروع کر دیا۔

ان کی موجودگی میں کبھی میں نے اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کیا اور مجھے علم تھا کہ اگر کبھی میں نے ان سے کسی کام کا کہا تو میں ساری عمر ان کا احسان نہیں اتار سکوں گا۔ میں اس طرح کا انسان نہیں تھا جو کبھی کسی جھگڑے میں الجھے اور میرے لیے اب یہ سب کچھ زیادہ ہی ہو گیا تھا۔ ایک دن باس نے مجھے فون کیا۔

اس نے مجھ سے پوچھا کیا تم ہمارے لیے کام جاری رکھنا چاہتے ہو۔

میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے کہا سچ پوچھیں تو نہیں۔ اس نے جواب دیا ٹھیک ہے الوداع۔

میں نے اسے بتایا کہ میں اپنا کمپیوٹر اور کیمرہ جسے میں ان کی تشہیر کے لیے استعمال کرتا تھا وہ اٹھانے دفتر جاؤں گا۔

اس نے کچھ وقفہ دے کر جواب دیا الوادع۔

مجھ پر پریشانی طاری ہو گئی، میں نے کہا کیا مطلب ہے یہ میری چیزیں ہیں۔ اس نے جواب دیا لیکن یہ میرا دفتر ہے۔

مجھے لگا کہ وہ مجھے دھمکی دے رہا ہے اور اگر میں اپنا سامان لینے گیا تو میرے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا اپنا سامان لینے کے لیے جانا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے تو اپنا سامان لینے نہیں گیا۔ یہ خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا تھا۔

میں نے اپنے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنے تمام ساتھیوں کو بلاک کر دیا اور کچھ دنوں کے لیے شہر سے باہر چلا گیا۔ میں اب کبھی کبھار اپنے شہر اور گھر جاتا ہوں اور ان لوگوں کو اردگرد دیکھ کر پریشان ہوتا ہوں لیکن میں سر جھکا کر گزر جاتا ہوں۔ میں اب بھی اسی نوعیت کا کام کر رہا ہوں لیکن ایسے کاروباریوں کے لیے جن کا تعلق جرائم پیشہ گروہوں سے نہیں ہے۔ کل ملا کر میں نے آٹھ ماہ تک ان کے لیے کام کیا۔

دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو میکسیکو کے لوگ سوشل میڈیا پر اپنی ہمدردیاں ظاہر کرنے میں آگے آگے ہوتے ہیں چاہے یہ پریس میں بم دھماکہ ہو یا لندن ہو یا کہیں اور کوئی واقعہ ہوا ہو۔ لیکن میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ہم اپنے ملک میں نہیں دیکھتے۔ اگر میکسیکو میں کوئی قتل ہو جائے تو لوگوں کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ گلی میں ایک اور لاش پڑی ہے۔ میں میکسیکو سے پیار کرتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت درد ناک بات ہے کہ ہم اس سب کے عادی ہو گئے ہیں۔

کہانی بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو احساس ہو جائے کہ وہاں زندگی کیسی ہے اور کیسے وہاں اتنی خوفناک چیزیں معمول بن گئی ہیں۔ میں خوش ہوں کہ میں اب اس کا حصہ نہیں رہا ہوں۔

اس کہانی میں نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10845 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp