عرفان ملک، کھڑکی بھر سمندر اور گم ہوتے الفاظ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹے شیشوں کی عینک کے پیچھے گہری سوچ میں ڈوبی آنکھیں!

گہرا نیلا پانی، ساحل سے سر پٹختیں بے قرار لہریں، سمندر میں چمکتے سورج کا عکس، ایک پرسکون صبح!

“کیا ہو رہا ہے” میں نے مخاطب کیا

وہ ایک میز کے سامنے بیٹھے تھے، گم سم اور سامنے کاغذ اور قلم!

” نظم لکھنا چاہتا ہوں مگر الفاظ گم ہو گئے ہیں ، ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں “

“وہ میرے اندر ہیں، میں انہیں محسوس کر رہا ہوں۔ ان کو اس صفحے پہ اتارنا چاہتا ہوں مگر، مگر ایک عجیب سا خلا ہے جو میرےالفاظ کو مجھ سے چھین لیتا ہے “

چہرے پہ ایک اضطراب تھا ، دکھ بول رہا تھا ،ان سب باتوں کا جو گمشدہ تھیں لیکن کہیں سے شور مچاتی تھیں۔

چلئے، آپ میری یہ نظم پڑھ کے ریکارڈ کروا دیجیے “ انہوں نے ایک صفحہ میری طرف بڑھایا۔

ڈبی بازار

اوپڑے لوک میرے آل دولے

ایناں نوں پتا نہیں کے میں

ادھا مر گیا واں

( اجنبی لوگ میرے اردگرد، جو نہیں جانتے کہ میں آدھا مر چکا ہوں)

ایہ لوک میرے جیوندے ادھے نوُں

چاواں،

الہی بخش گجر دا گرما گرم دُودھ،

بھا تاج دی ہٹی توں کوکا کولا دیاں بوتلاں،

مولے دی دال، جہانگیر دا فلودہ،

تے صغیر پاناں والے کولوں ملٹھی والا پان

( یہ لوگ میرے آدھے زندہ حصے کو چائے، الہی بخش گجر کا گرم گرم دودھ، بھائی تاج کی دوکان سے کوکا کولا کی بوتل، مولے کی دال، جہانگیر کا فالودہ، صغیر پان والے کا ملیٹھی والا پان)

ایہ اوپڑے لوک منیوں جاندے نئیں

اوہ میرے گل وچ پھُلاں دے ہار پاندے نیں

فیر اوہ منیوں اپنے موڈھیاں تے چکُ لیندے نیں

(یہ اجنبی لوگ مجھے جانتے تو نہیں لیکن میرے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے ہیں اور پھر مجھے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیتے ہیں)

بابو بینڈ اگے اگے اے

پانی دے تلا ٹپ کے ہیرا منڈی، بادشاہی مسجد

حضوری باغ لنگھ کے ہاتھی دروازہ وڑھیا

(بابو بینڈ ہمارے آگے آگے ہے۔ پانی کے تالاب سے ہوتے ہوئے، ہیرا منڈی، بادشاہی مسجد، حضوری باغ سے گزر کے ہاتھی دروازے میں داخل ہوئے)

تے اوپرے لوگ ہوا وچ گھل گئے

بابو بینڈ ہجے وی وج رہیا اے

کجھ ہتھاں نے مینوں

شاہی قلعے دے تہ خانے وِچ

چمگدڑ دی طرح الٹا ٹنگ دتا

(اجنبی لوگ ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ بابو بینڈ ابھی بھی بج رہا ہے۔اور مجھے کچھ ہاتھوں نے شاہی قلعے کے تہہ خانے میں الٹا ٹانگ دیا ہے)

ہم نیویارک میں تھے اور نیویارک میں ویک اینڈ گزارنے کے لئے ڈاکٹر آمنہ اور عرفان ملک سے بہتر کوئی ساتھ نہیں !

عرفان ملک، پنجابی شاعری کا ایک بڑا نام، سات کتابوں کا مصنف اور اب ڈاکٹر آمنہ کی زندگی کا ساتھی !

ڈاکٹر آمنہ، نیویارک یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، شاعرہ، سیاست دان اور سوشل ایکٹیوسٹ !

دونوں فریم میں جڑی ایک تصویر ، اپنے اپنے رنگوں کے ساتھ !

یک جان دو قالب !

ہم میٹرو سٹیشن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میں اور آمنہ باتوں میں خوب مگن کہ دونوں ہی بولنے کی بے انتہا شوقین۔ عرفان ملک بھی ہمارے ساتھ ساتھ۔ ٹکٹ لیے ،اندر داخل ہوئے، سیڑھیاں اترے اور یک لخت آمنہ ٹھٹکیں “عرفان کہاں ہے؟ “

ہم دونوں ادھر ادھر بھاگے اور وہ کہیں نہیں تھے۔ آمنہ واپس سیڑھیوں کی طرف بھاگیں اور میں سٹیشن پہ ہی موجود رہی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ آتی نظر آئیں، وہ فون پہ بات کر رہی تھیں۔ عرفان کسی اور ٹرین پہ چڑھ چکے تھے یکسر فراموش کر کے کہ کوئی اور بھی ان کے ساتھ تھا۔ آمنہ نے انہیں وہیں ٹہرنے کی ہدایت کی اور ہم دوسری ٹرین کے انتظار میں کھڑے ہو گئے۔اور پھر آمنہ نے ہمیں بتایا کہ عرفان ملک بھی الزائمر کا شکار ہو چکے تھے۔

ان کے ذہن میں پہچان اور آگہی کے چراغوں کی لو آہستہ ہو رہی تھی۔ وہ بیماری جو آہستہ آہستہ شخصیت کو تحلیل کرتی ہے، عرفان پہ حملہ آور ہو چکی تھی۔ اور زندگی کے باقی شریک سوائے جی مسوسنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

” ہم دونوں کو اس بات کا احساس ہے کہ زندگی آہستہ آہستہ ہاتھ سے پھسل رہی ہے۔ لیکن ہمارا آج زندہ بھی ہے اور پر لطف بھی۔ عرفان لکھ رہا ہے اور میں اس کی مورل سپورٹ ہوں۔

 مانا کہ الزائمر ڈیمینشیا زندگی کے بہت سے ورق دھندلا دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی کتاب حیات میں کچھ کہی کچھ ان کہی کا فسوں باقی رہتا ہے۔

اور میں سوچتی ہوں کہ بیتے ہوئے دنوں کی دلفریب رمق دکھائی دے رہی ہے تو وہی سہی۔ شیرینئ ایام فردا کے کچھ بچے کھچے گھونٹ ہی سہی”

آمنہ کی باتیں زندگی کا ایک اور رخ دکھاتی ہیں۔ جیسے کچھ دیوانے زہر کو آب حیات سمجھ کے پی لیا کرتے ہیں اور تلخی روز و شب کو سوز محبت سے سہل کرتے ہیں۔

سلیم الرحمن کے کچھ سطریں یاد آ گئیں، آپ بھی سن لیجیے

مختصر خواہشوں کی رات؛ ایک عجیب، مشترک

دکھ میں بٹا ہوا یہ وقت اور ہماری بے تہی

کچھ بھی نہ چاہتے ہوئے جوئے ہوس سے ایک گھونٹ

تھوڑا سا جو ملے کبھی، اس پہ ہی اکتفا سہی

اتنے سے لٹ پٹے مزے یاد رکھیں تو کیوں رکھیں ؟

پاس رہے، یہی بہت، عشق میں غم کی روشنی

سو بات کچھ یوں سمجھ میں آتی ہے کہ الزائمر کو پچھاڑنے اور زندگی کے مفہوم کو ایک دوسرا روپ دینے میں اہم بات یہ ہے کہ شکست نہ مانی جائے، ہتھیار نہ ڈالے جائیں۔ جتنا وقت حاصل ہے اس کا ایک ایک لمحہ کشید کیا جائے اور جب آشنائی کی لو بجھ بھی جائے تو کیا غم ؟

جس نےاس بھرے میلے میں ہاتھ تھام رکھا ہے اس کی پہچان تو سلامت ہے نا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •