شبِ دفاع کے خواب کا ایک حصہ


بس وہی، ڈائیور وہی، وہی کالج کے دن اور وہی نواب پور روڈ۔سب کچھ جیسے دوبارہ زندہ ہوگیا لیکن کچھ تھا جو ویسا نہیں ہے۔ حالات اچھے \"jamshedنہیں رہے۔ ڈرائیور کا چہرہ بتا رہا ہے کہ کوئی خطرہ ہے۔ وہ بار بار بازو چڑھا کر آوازیں نہیں دے رہا۔ کنڈیکٹر بھی نہیں ہے۔ مجھے اس خطرے کا احساس ہے۔ حالات وہ نہیں رہے، ہمیں بچ بچا کے نکلنا ہے۔

’’ ماہرے کوٹ سے کوئی سواری نہیں لینی ‘‘، ڈائیور نے اعلان نہیں کیا لیکن مجھے احساس ہے۔ وہ جس کے دم سے بس زندہ ہوجاتی تھی آج نہیں آئے گی۔ بس اُسی سڑک پر چل رہی ہے جس کے دونوں جانب آم کے باغات ہیں لیکن کبھی کبھی کوئی دوچار گھروں کی بستی آجاتی ہے۔ اکتیس نمبر سٹاپ سے ایک استانی سوار ہوتی تھی وہ آج نہیں آئے گی۔ مجھے احساس ہے۔

نیل کوٹ کے موڑ سے آگے، جہاں میلہ لگتا تھا، اس بار نہیں لگا۔ فرید کی چھت پر گھوڑوں کے ڈھانچے پڑے ہیں۔ وہ اس بار نہیں ناچے گا۔ سڑک کے کنارے لیچی فارم کی نہ دیواریں ہیں اور نہ حقہ پینے والا بابا۔ لیچی کے بال کھلے ہیں۔ اس بار کسی نے اس کے کچے پھل نوچ لئے ہیں۔

 اچانک بس ایک اجنبی موڑ لیتی ہے اور ڈرائیور اُسے ایک کچی سڑک پر لے آتا ہے۔ دونوں جانب کھیت ہیں، کچی سڑک گلے سڑے گھاس کی پگڈنڈی میں بدل جاتی ہے۔ میں بس کی بجائے ویسپا پر سوار ہوں۔ کھیتوں میں بدبو دار پانی ہے۔ اس کی بو سے دماغ پھٹا چارہا ہے۔ چمڑے کا کا رخانہ آگے ہے لیکن اس کا پانی یہاں جمع ہوگیا۔ پانی میں گوشت اور خون ہے۔ مجھے پتہ ہے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ کارخانے والے کچی چمڑی استعمال کر رہے ہیں۔

 ویسپا پھر بس بن گیا ہے اور بس ایک اجنبی سٹاپ پر جاکر رک گئی ہے۔ ڈرائیور معذرت خواہ ہے لیکن میں جانتا ہوں حالات ٹھیک نہیں ہیں اس کا کوئی قصور نہیں۔

اچانک جلال شاہ آجاتا ہے۔ مجھے خوف ہے وہ مجھ سے اکیڈمی کا پوچھے گا تو میں کیا جواب دوں گا۔ وہ بتاتا ہے کہ اُس کے پاس ایک حل ہے۔ وہ سامنے کچی کوٹھڑی کی طرف جاتا ہے۔ کوٹھڑی گیراج ہے، گیراج کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم ایک گودام کے اندر ہیں۔ بہت بڑا گودام۔ جلال کہتا ہے اکیڈمی کا اجلاس ہونا چاہیے۔ شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہ دیکھو گودام میں اسلحہ ہی اسلحہ ہے اور میرے پاس لوگ ہی لوگ۔

مجھے بھی یاد ہے اکیڈمی سے نکل کر جلال شاہ کہاں گیا تھا۔ آخری بار اس نے مجھے اپنی تصاویر دکھائی تھیں۔ وہ مجاہد مکی کے ساتھ کھانا کھارہا تھا اور دیوار کے ساتھ دو کلاشنکوفیں ٹیک لگائے پہرہ دے رہی تھیں۔ اب گودام بھرگیا ہے۔ میں سمجھ جاتا ہوں۔ اکیڈمی سے نکل کر، بیاض پھاڑ کر جلال شاہ بہت آگے تک گیا تھا۔ بہت آگے۔

پھر لاقی آجاتا ہے۔ چہرے پر وہی ہنسی اور ہاتھ میں کرکٹ کا وہی بیٹ۔ سکھ چین کے درخت کے نیچے، کچی زمین پر پانی چھڑکائے، دسترخوان بچھائے اُس کی ماں ہمارا انتظار کررہی ہے۔ کھانے کی مہک اٹھ رہی ہے۔ مٹی کی کٹوری میں پیاز، لیسوے کا اچار اور پیڑے والی لسی۔ میں اس کے ساتھ دو نوالے کھاتا ہوں، لسی کا پیالہ ابھی ہاتھ میں ہے کہ میں اس کے ساتھ کھیت میں بال کرا رہا ہوں۔ غضب کی گرمی ہے۔ سورج سوا نیزے پر ہے۔ لیکن اس پر کھیل کا جنون سوار ہے۔ اس نے قومی ٹیم میں کھیلنا ہے۔ وہ ویسے ہی کھیل رہا ہے جیسے وہ نہیں کھیل رہا بلکہ کھیل اُسے کھیل رہا ہو۔ شام ہوجاتی ہے وہ گھر کی طرف بھاگتے ہوئے مجھے کہتا ہے۔

بھاگو ڈرامہ لگنے والا ہے۔ انگار وادی لگنے والا ہے۔ بھاگو۔

سکھ چین کا درخت سوکھ گیا ہے۔ ماں درخت کے تنے کے ساتھ سو گئی ہے۔ اب وہ کبھی نہیں جاگے گی۔ مٹی کے برتن ٹوٹ گئے ہیں۔ دستر خوان تار تار ہے۔لاقی وادی انگار سے واپس نہیں لوٹا۔ اردگرد فلموں کے جلے کٹے رول پڑے ہیں۔وہ پروڈیوسر ایک فلم رول گلے میں ڈالے رو رہا ہے جس نے مجھے ایک پروڈکشن کی لہورنگ داستان سنائی تھی۔ کوئی حادثے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ اس کا پیسہ ڈوب سکتا ہے۔

اب نہ گودام ہے، نہ سکھ چین۔ ایک بند ہے، کسی بڑے ڈیم کا بند اور میں بند پر چل رہا ہوں۔ بند کے ایک طرف پھول کھلے ہیں اور سبزہ ہے۔ ایک کچے گھر میں ایک چار سالہ بچی اور بچہ مٹی کا گھروندہ بنا رہے ہیں۔ وہ اور ان کا گھروندہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ دُوسری طرف پانی ہی پانی ہے۔ مٹی اور ریت کا پنجند۔ جلے کٹے اکا دُکا درخت۔ چھوٹے چھوٹے ٹینک لڑ رہے ہیں۔ آگ اگل رہے ہیں۔ خوف ہے کہ بند کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ لگتا ہے بچے آخری بچے ہیں۔ یہ نہ بچے تو پھر کوئی بھی نہیں بچے گا۔

لیکن ٹینک بہت چھوٹے ہیں اور بند بہت بڑا ہے۔ یہ ٹینک کبھی بھی اسے عبور نہیں کرپائیں گے، مجھے امید ہے۔ بچوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ان کا گھر سلامت رہے گا۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ کچھ ٹینک بند کے اوپر چڑھ رہے ہیں۔ میں بچوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں، خوف کے مارے میری آواز نہیں نکل پاتی اور پھر آنکھ کھل جاتی ہے۔

شکر ہے یہ سب خواب تھا۔

خواب ٹوٹ گیا لیکن میں کچھ دیر اس خوف میں رہا کہ کہیں بند نہ ٹوٹ گیا ہو۔ ناشتہ کے لئے بیٹھا تو میز پر ایک کارڈ پڑا ملا۔ یہ ایک ٹینک کی تصویر تھی جو کل یومِ دفاع کے موقع پر میری چار سالہ بچی کو سکول نے دیا تھا۔ سکول والوں نے پیشگی خبر پہنچا دی تھی کہ بند ٹوٹ گیا ہے۔

Facebook Comments HS