اعلی تعلیم یافتہ بے روزگار شہزادے اور شہزادیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اکتوبر 2017 کی بات تھی جب ہماری ماسٹر کلاسز کا آغاز ہوا۔  دل میں بہت خوشی اور اطمینان تھا کہ اللہ نے اس منزل تک پہنچایا جہاں تک بہت کم لوگ پہنچ پاتے ہیں۔ تاہم نٸے کلاس فیلوز سے ملاقات ہوٸی ایک دوسرے سے تعارف ہوا۔ اساتذہ کرام بھی تعارفی کلاسز کے لیے کلاسز میں آنے جانے لگے۔  اتنے میں ایک نوجوان استاد کلاس میں داخل ہوٸے اور انہوں نے لڑکوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ آپ شہزادے ہیں اور لڑکیوں کی طرف رخ کرکے کہا کہ آپ شہزادیاں ہیں پہلے پہل تو ہم سمجھے کہ شاید ہمارے حلیے اور لباس کی وجہ سے استاد صاحب نے ہمیں شہزادے اور شہزادیاں کہا۔

ابھی ہم اس لقب کی وجہ سمجھنے کی کوشش ہی کررہے تھے کہ اتنے میں انہوں نے ہم سے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے آپکو شہزادے اور شہزادیاں کیوں کہا۔ سوال تھوڑا سا ٹیڑھا تھا اس لیے پہلے تو ہم جواب دینے سے جھجھکے، ذرا ماحول کھلا تو ہر کوٸی اپنی بساط کے مطابق جواب دیا کسی نے کہا کہ اسٹوڈنٹ تو ہوتے ہی شہزادے اور شہزادیاں ہیں۔ کسی نے پھلجھڑی چھوڑی کہ ہم شکل و صورت کے اتنے حسین ہے کہ آپ ہمیں شہزادے اور شہزادیاں کہہ رہے ہیں۔ ایک اور صاحبہ اٹھیں تو کہنے لگیں کہ آج کالج کا پہلا دن ہے اس لیے نٸے اور صاف ستھرے لباس میں ہم شہزادیاں لگ رہی ہیں۔ ہر جواب ہی ایسا تھا کہ کلاس قہقہوں سے گونج اٹھتی اور استاد محترم کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ آتی۔ کچھ تبصروں کے بعد سر کہنے لگے کہ ہماری بھی یہی حالت تھی جب ہماری پہلی کلاس میں ہماری استاد غالبا ڈاکٹر بشری نے ہمیں شہزادے اور شہزادیاں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو تبصرے آپ نے کیے وہ آپ کی نظر میں درست ہوں گے لیکن میرے نزدیک آپ اس لیے شہزادے اور شہزادیاں ہیں کہ آپ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو تعلیم کے اس زینے یعنی ایم اے میں قدم رکھ رہے ہیں ورنہ آپکے کتنے ہی ہم عمر مالی اور دیگر وساٸل کی کمی کے باعث یہاں تک نہیں پہنچ سکے۔ کچھ نے پراٸمری کر کے چھوڑ دیا اور کچھ مڈل یا میٹرک تک محدود رہے۔ ان میں نے کچھ انٹرمیڈیٹ تک رہے اور کچھ پراٸیویٹ بی اے کر کے صبر شکر کر بیٹھے لیکن آپ جیسے خوش نصیب لوگ اس سطح تک پہنچ پاٸے۔

وہ اپنا کانٹریکٹ مکمل کر کے کالج سے رخصت ہو گٸے ہیں اور آج کل پنجاب یونیورسٹی سے ایم فل کررہے ہیں گویا وہ تو شہزادہ اعظم ہوگٸے لیکن آج میں ان کی اس بات کو سوچتی ہوں تو ان کا بیان ایک جانب تو ٹھیک لگتا ہے مگر جب مارکیٹ میں موجود اعلی تعلیم یافتہ بیروزگاروں کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کیا ہم واقعی شہزادے اور شہزادیاں ہیں؟ کیا شہزادے اور شہزادیاں ڈگری ہاتھوں میں لیے چند ہزار روپے کی نوکری کی خاطر دھکے کھاتے ہیں لیکن پھر ان جیسے ہی کچھ لوگوں کو اسی ڈگری کے ساتھ برسرروزگار دیکھتی ہوں تو حیرانی ہوتی ہے کہ یہ کیسی تفریق ہے۔

آج کل جس طرح تعلیم عام ہوتی جارہی ہے، مارکیٹ میں اعلی تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ صورت حال واقعی پریشان کن ہو چکی ہے۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ تمام ڈگری ہولڈر ہی بیکار پھرتے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو نوکری سے فارغ ہوتے ہی اچھی پوزیشن پر نوکری کرنے لگتے ہیں تو کچھ لوگ اسی ڈگری کے ساتھ گزارے لاٸق نوکری تلاش کر ہی لیتے ہیں۔

 ان اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی بے روزگاری کی وجوہات دیکھی جاٸیں تو ان میں سب سے بڑی وجہ تو بالعموم بیروزگاری ہے۔ لیبر فورس 2017 تا 2018 کی رپورٹ کے اعداد و شمار دیکھیں جاٸیں تو ان کے مطابق 2015-2014 کی نسبت 2017-2018 بیروزگاری میں کمی تو دیکھنے میں آٸی اس کے باوجود بیروزگاری کی شرح 5.8 فیصد رہی۔ خواتین میں بیروزگاری کی شرح 8.3 فیصد جبکہ مردوں میں بیروزگاری کی شرح 5.1 فیصد رہی ہے۔ شہری علاقوں میں بیروزگاری 7.2 فیصد رہی جبکہ دیہی علاقوں میں بیروزگاری کی شرح 5 فیصد رہی۔

دوسری جانب اسی رپورٹ کےمطابق خواتین میں شرح خواندگی 49.6 سے بڑھ کر 51.8 ہوگٸی ہے جبکہ مردوں میں شرح خواندگی 71.6 سے بڑھ کر 72.5 ہوچکی ہے۔ اسی سروے کے مطابق ملک کی کل آبادی 20 کروڑ 66 لاکھ 28 ہزار ہے جبکہ ان میں سے برسرروزگار لوگوں کی تعداد صرف 6 کروڑ 17 لاکھ ہے۔ اس کے علاوہ بھی جو وجوہات اعلی تعلیم یافتہ بےروزگاروں کی بڑھتی ہوٸی تعداد میں اضافےکا باعث ہیں ان میں نصابی مواد کا عملی حقاٸق سے کوسوں دور ہونا ہے اور موجودہ تقاضوں سے بھی ہم آہنگ نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کے زیر نگیں چلنے والا ایم اے ماس کام وہی آوٹ لاٸن پڑھ رہا ہےجو ہمارے سر کے مطابق ان کے اساتذہ نے پڑھی تھی۔ اس طویل عرصے میں صحافت کہاں سے کہاں جا پہنچی مگر ایم اے کی کورس آوٹ لاٸن ہے کہ ٹس سے مس نہ ہوٸی۔ دہاٸیوں پرانی آوٹ لاٸن کے مطابق ترتیب دیا گیا مواد پڑھ کر ایک طالب علم جدید صحافت کے تقاضوں کو کیسےسمجھ سکتا ہے اور جب وہ بنیادی تقاضوں کو ہی نہیں سمجھ پاٸے گا تو ایسے طالب علم کو فارغ التحصیل ہونے پر نوکری کون دے گا۔ کورس آوٹ لاٸن کا دور دور تک فیلڈ سے کوٸی تعلق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ فارغ التحصیل طلبا و طالبات فیلڈ میں جاکر ناکام ہوجاتے ہیں اور اعلی تعلیم یافتہ بےروزگاروں میں نام لکھوا لیتے ہیں۔

المختصر اگر ہمیں ان اعلی تعلیم یافتہ بےروزگاروں کی تعداد میں کمی کرنی ہے تو ضروری ہے کہ حکومت نوکریاں پیدا کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرے۔  طلبہ و طالبات کو زمانہ طالب علمی ہی میں عملی پہلووں سے آشنا کیا جاٸے۔ نصاب کو بہتر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے اس قابل بنایا جائے کہ اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جا سکے نہ کہ اعلی تعلیم یافتہ بےروزگار۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سروش خان کی دیگر تحریریں
سروش خان کی دیگر تحریریں