تیسری جنس ہونے کی اذیت سہتی ایک ہستی کی کہانی
”با! ایک اجازت چاہتا ہوں تجھ سے۔
احسان کریں گی نا اپنے اس بیٹے پر؟
اندرا گاندھی اوپن یونیورسٹی میں کرسپانڈینس کورس کے ذریعہ بورڈ ایگزام میں بیٹھنا چاہتا ہوں، تیرے بیٹے کے روپ میں اپنا نام بھر دوں؟
تو منع کرے گی تو کوئی بات نہیں۔ دکھ بہت ہوگا مگر ہوتا رہے۔ ”
دل چاہ رہا ہے تہذیب یافتہ ہونے کی ساری سندوں کو آگ لگا دوں۔ ۔ ۔ باہر نکل کر پتھر ماروں۔ اپنا بھی تماشا بناوٴں اور ہمارے اس بدبودارسماج کے بھونڈے اور ظالم رویوں کابھی۔ سلیقے، قرینے، تہذیباور نفاست کے بناوٹی چہرے سے نقاب کھرچ کراس جھوٹے پا کھنڈی معاشرے کو اس کی اصل حقیقت دکھاوٴں۔ اتنا چلاوٴں کہ میری آواز دُنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جائے۔ اور ہمارے سڑے ہوئے سماج کے بدبودار نظام کے قانون پہ۔
یہ موٹی موٹی گالیاں چسپاں کر کے چیخ چیخ کر دنیا کو بتاوٴں کہ جھوٹی روایات اور پرم پرا کے فرضی قصے گھڑنے والو۔ ۔ ۔ تمہارا پورا بگلا بھگت، زرد گوش، کینہ توز اورکینہ پرور معاشرہ ننو کے گرد ناچ رہا ہے۔ تمہارے منافق سماج کی اخلاقیات ننو پہ کھڑی ہے۔ اورناشپاتی کے ادھے پہ تمہاری نامراد غیرت کی بدبودار لاش گڑی ہے۔ دو ٹانگوں کے بیچ کھڑا ہے تمہارا الف ننگا سماج۔ وہیں سے شروع، وہیں پر ختم۔ ۔ ۔ تف ہے ایسے سماج پر۔ ننو پہ کھڑے بے حیا سماج۔ ڈوب مر۔
خبریں تو سنتے ہوں گے آپ بھی؟ ٹی وی، اخباراوراب سوشل میڈیا۔ سب کے فون پر لگے کیمروں سے بنی وڈیوز تو پہنچتی ہی ہوں گی آپ تک۔ خواجہ سراوٴں۔ ہیجڑوں۔ اور تیسری جنس۔ کے ساتھ روا رکھے جانے والی المناکیوں کی۔ جسے معمول کی خبر یں سمجھ کر ہمارے احساسات نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ رات رات بھر شرابی کبابی، رکیک جنسی مزے کے لئے انہیں نچاتے ہیں، حیاسوز سلوک کرتے ہیں۔ صبح تک کوئی ہیجڑا بچ جائے تو ٹھیک۔ مر جائے تو بھی کیا؟ اس کے لئے کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔ قانون تو خود ان سے کھلواڑ کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ ان کی کمائیوں کو لوٹتا ہے اورانکو بے عزت کرنا اپنی شان سمجھتا ہے۔ باقی رہ گئے ہم۔ ۔ ۔
ہم معززتماش بین
ہم جھوٹی عزتوں کے رکھوالے
دکھاوے کے غیرت مند
پڑھے لکھے دانشمند
خودساختہ دانشور
ہم جو ”پورے انسان“ ہونے کی سند گلے میں لٹکا ئے، بے غیرت خاموشی کے ساتھ مُردوں والی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم جو خود کو حساس لوگ کہتے ہیں مگر اپنے خول سے باہر نہیں نکل سکتے اورکبوتروں کی طرح آنکھیں بند کیے سب اچھا ہے کا ورد کرتے رہتے ہیں اور مظلوموں پر بیتنے والے ہر قہر پرخاموش رہ کر، حالات کے ساتھ مطابقت کی کوششوں میں، خود بھی ظلم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تیسری جنس اس بے رحم زمانے کی تنہا جنس ہے، ان کے ماں نہ باپ، نہ کوئی بہن نہ بھائی، نہ سماجی انصاف، نہ نوکری، نہ اعلٰی تعلیم کاحق، نہ گھر نہ گھاٹ، نہ آبرومندانہ زندگی کی کوئی امید۔ موت ان کی آزادی کا پروانہ سمجھی جاتی ہے۔ ان کی بے رحم یا بے وقت موت پر کسی آنکھ کا نم ہونا ان لکھا اور ان سنا فسانہ ہے فی الوقت۔
میرے تصور میں، میرے کلفٹن کراچی والے تیسری منزل کے فلیٹ کے نیچے کا بکھرا بازار آ جاتا ہے۔ وہ منظر جو بھلانے سے نہیں بھولتا اور جس کے یاد آنے سے رگوں میں دوڑتے خون کی روانی میں فشار برپا ہوجاتا ہے۔
چہرے پر پھیلتا ہوا بھدا لال گلابی میک اَپ۔ سستے نقلی زیورات کی لپک، شوخ و شنگ رنگوں کے تنگ کپڑوں میں ابھاری ہوئی چھاتیاں نمایاں، آنکھوں میں نیتیں پڑھنے کے سوفٹ وئیر نصب، ہونٹوں پر مجبوری اور ذلت کے بھونڈے رنگوں سے رنگی بھدی آواز میں ہر کس و ناکس کے حسن و جوانی کے تا ابد برقرار رہنے کے مصنوعی تعریفی جملے۔ اور اِردگرد جمع بے شرم مسکراہٹوں اور ننگے اشاروں میں ڈوبی اوباشوں کی ٹولیاں۔
کوئی کولہوں کے قریب، کوئی کھلے گریبان کے اندر گہرائی تک جھانک لینے کے جتن کرتا، تو کوئی کمر کا گوشت نوچ لینے کے لئے بے قرار۔ نہ جانے کیسے کیسے فحش مذاق کرتے ہوں گے کہ ان کے بے حیا قہقہے منظرکی پستی اورسفلے پن کو مذیدعریاں کرتے رات کی تاریکی اورسٹریٹ لائٹس کی روشنی پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر چند روپوں کا سودا کرتی۔ اوہو کرتا۔ ۔ ۔ اتنے میں ایک لفنگا اس کے گال کا گوشت نوچتا ہے، وہ گال چھڑانے کے لئے اس کی کلائی پکڑتا ہے۔
۔ ۔ اور ان سفلوں کے درمیان مائک پکڑے، پاوٴ بھر میک اپ چہرے پر لیپے ایک فیشن ایبل مگرمذہبی حوالوں سے لیس، کسی ٹیلیویژن کی ریٹنگ کو بڑھاوا دینے کے لئے رکھی گئی خاتون رپورٹردندناتی ہوئی آتی ہے اور اس بے مغز بھیڑ میں گھرے ”بے بس تماشے“ سے اس کے جسمانی طور پر مرد ”نہ“ ہونے کا سرٹیفیکٹ طلب کرتی ہے۔ رپورٹر کی آنکھوں میں نفرت اور حقارت کی لپٹوں اور ہونٹوں سے چنگاریاں برساتے لہجے کے سامنے وہ ٹھہر نہیں پاتا/پاتی اورسراسیمہ ہو کر اس بھیڑ سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے مگر کیمرہ مین، رپورٹر اور تماش بین کہاں اس سمے ایسا ناٹک ادھورا چھوڑ سکتے ہیں۔ ماحول کا رنگ مزید چوکھا ہونے لگتا ہے۔
میں، سدا کی بزدل، آگے نہیں دیکھ سکتی۔ کھڑکی بند کر دیتی ہوں۔
مکروہ حرکتوں والے یہ ہوسناک چہرے۔ برتر انسان سمجھے جاتے ہیں کہ ان کی ناف کے پاسچند اِنچ کا سالم ٹکڑا جڑا ہے۔ میری آنکھوں سے آنسو نہیں سوکھتے تھے۔ دو بچے پیدا کر کے تو میں جیتے جی مر گئی تھی۔ میں خود سے بار بار پوچھتی تھی، یہ بچے کیسے رہیں گے اس بے حس، وحشی اور ظالم سماج میں؟ کیا سیکھیں گے؟ کیا اس عقل و خرد سے بے گانہ انبوہ کا حصہ بنیں گے یا اس ظلم و زیادتی کے خلاف لڑیں گے؟ اور لڑیں گے تو کتنی دیر لڑ سکیں گے؟ پھر میں کینیڈا آ گئی ان دونوں کو سینے سے چمٹائے۔ اس ملک میں، جہاں جب بھی کوئی فارم فل کرنے لگتی ہوں تو کئی خانے میرے سامنے کھل جاتے ہیں۔
Man/Woman/Bio/Gay/Other
آپ جس شناخت کے ساتھ جی رہے ہیں، اس پر کراس لگا دیجئے۔ کوئی جینڈر کسی جینڈر سے زیادہ محترم نہیں ہے۔ انسان ہونے کے ناتے آپ کے حقوق یکساں ہیں۔ آپ کے جسم کی مختلف ساخت کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہکوئی خود کو آپ سے برترسمجھے اوراگر کوئی ایسا کرے گاتو قانون اس کے اس عمل کے خلاف حرکت میں آئے گا۔ اس ملک میں کسی کا بیٹا یا بیٹی جسم کے گوشت کی معمولی سی بے ترتیبی کی وجہ سے ماوٴں سے نہیں چھینے جاتے۔ ان کی مائیں ساری زندگی انہیں دیکھنے کو نہیں ترس جاتیں۔
ان معصوم اولادوں کو بے رحمی اور بے حسی سے دھتکاری نسلوں کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ انہیں انسانوں کی سفلی خواہشات کی غلامی کے لئے تیار نہیں کیا جاتا۔ یہاں چمپا بائی نہیں آ سکتی، اس کے رسوم ورواج نہیں پنپ سکتے اور کوئی سردارکسی با کے دیکرے کو عام انسانوں والے کام کرنے سے منع نہیں کر سکتا۔ یہاں کسی بچے کے نچلے دھڑ پر محض ننو لگا ہوا نہ ہونے پر باپ اس کی موت کی خبرنہیں پھیلا سکتے۔ یہاں وہ معاشرے کے معزز شہری ہیں۔ وہ ہر جگہ باعزت کام کرتے ہیں۔ بنکوں میں، آفیسوں میں، دکانوں میں، بزنس میں، ہرجگہ قابل احترام۔ یہاں، میں با کے بیٹوں سے دوستی کرتی ہوں۔ وہ مجھے، مجھ سے، تم سے۔ ہم سب سے زیادہ پیارے لگتے ہیں۔ سچ پوچھو تو وہ دنیا کے مکمل ترین انسان ہیں۔
مگرہندوستان سے احسن ایوبی نے یہ ناول بھیج کر گویا مجھے پھر وہاں بھیج دیا جہاں مری آنول نال گڑی ہے اور اس سے منصوب قصے گڑے ہیں اور میرا ماضی گڑا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چھ اِنچ کے اضافی گوشت والے مکروہ۔ گھناوٴنے کرداروں کے بھیانک چہرے اور ان کی زیادتیوں کی کئی ان لکھی بے درد داستانیں ذہن کی سلیٹ پرنقش ہیں۔
چترامد گل اور احسن ایوبی!
بات یہ ہے کہ ہم اور تم ایک سے ہیں۔ ہم دو کہاں؟ بلکہ یہ ویزے کی دقت نہ لگی ہوتی تو تم آکر دیکھتے، تمہارا اور ہمارا گھر، رسوئی، چھتیں، دیواریں، اسکول، رستے، شہر، دیہات، چلتے پھرتے لوگ، ناچ، گانا، ہنسی مذاق، مٹی، پھول، گندم، پانی، بھوک، ننگ، امارت کا اوج اورغربت کا پاتال، سب کچھ بالکل ایک سا ہے۔ بیہودہ سماج کی فرسودہو غیر منطقیسوچ سے لڑنے کا حوصلہ نہیں جُٹا پائے ہیں ہم دونوں ابھیتک۔ ہم ایک ہی طرح سوچتے ہیں اوربدلنا نہیں چاہتے۔ ہماری معاشرت میں، ہمارے نصاب میں، ہمارے ذہنوں میں، اب تک۔ چھ اِنچ کا لٹکتا گوشت۔ اور آدھی ناشپاتی۔ انسانوں کے نارمل اور ایبنارمل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

