5  جولائی کی سیاہی؟


ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو کتابوں میں جمع کی جاتی ہے دوسری تاریخ آنکھوں دیکھی یا ہڈ بیتی کہی جا سکتی ہے۔ دونوں میں چاہے جتنا بھی فرق ہو، بیان کرنے والے کی اپنی ذہنی استعداد یا ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ ہمارے تجزیہ کار بالعموم چیزوں کو بلیک یا وائٹ بنا کر دکھانے کے عادی ہوتے ہیں حالانکہ بہت سے ایریاز گرے ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ 5 جولائی کی سیاہی بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے مگر چونکہ پوری قوم اسے ہمیشہ کے لیے یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کر چکی ہے اس لیے قومی اجماع سر آنکھوں پر۔ اس امر میں کوئی شائبہ نہیں کہ جنرل ضیاء الحق ایک فوجی ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے نہ صرف یہ کہ آئین شکنی کرتے ہوئے 90 دن کے وعدے پر اقتدار سنبھالا بلکہ مابعد یہ 90 دن گیارہ برس کی طویل تاریک رات میں بدلتے چلے گئے۔ ۔ جس میں انہوں نے ایک پاپولر سیاسی رہنما کو نہ صرف یہ کہ پھانسی پر لٹکایا بلکہ اس کی پارٹی کو محروم اقتدار رکھنے کے لیے ہر ہتھکنڈا اور ہر حربہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ آزمایا۔

ڈکٹیٹر ضیاء کے جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ جس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں جن میں سب سے بڑا جرم مذہب اسلام کے نام پر نہ ختم ہونے والی منافرتوں کا پھیلاؤ ہے بلاشبہ مذہبی منافرتیں پہلے سے موجود تھیں۔ انہی منافرتوں نے جنوبی ایشیا کے اس زرخیز شاداب تہذیبی گہوارے کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی لیکن جنرل ضیاء الحق کا ”کارنامہ“ یہ ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے بربادی میں جو کمی رہ گئی تھی نہ صرف اُسے پورا کر دکھایا بلکہ مذہبی منافرتوں کو بہت سی نئی جہتیں عنایت فرمائیں علاوہ ازیں سیاست اور سیاستدانوں کو اتنا بدنام کیا جیسے وہ سوسائٹی کے قائد و رہنما نہیں رہزن و لیٹرے ہوں۔ آئین اور جمہوریت کو بھی خوب رگیدا۔ پرائیویٹ جہاد کی نہ ختم ہونے والی آبیاری کی جو دہشت گردی کا ناسور بن کر پھیلی۔ ہیروین اور کلاشنکوف کلچر اس قدر پھیلایا کہ آج بھی پوری مہذب دنیا اس کی زخم خوردہ ہے۔۔۔

لیکن ذرا ٹھہریے! ضمیر کی خلش کچھ کہنا چاہ رہی ہے اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔۔۔ روایتی سکہ بند ڈکٹیٹر وہ ہوتے ہیں جو یونیفارم پہنے بندوقیں تھامے خوفناک بوٹوں کی دھمک کے ساتھ براجمان ہوتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ بظاہر سیاسی لبادے میں ملبوس یا بھیڑوں کی کھال پہنے بھیڑیے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ ظاہری حلیے یا انتخابی ڈھونگ سے دھوکا کھانے کے عادی انہیں سیاسی رہنما خیال کر رہے ہوتے ہیں لیکن ذہنی افتاد، ہوس اقتدار اور فکری کجی و کم مائیگی کے ملاپ سے یہ ڈکٹیٹر کسی بوٹوں والے سے کسی طرح کم تر نہیں ہوتے، ان کی زہر آفرینی بعض اوقات بوٹوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ کیا زخمی انسانیت اس قبیل کے سرخیل اڈولف ہٹلر کے ”کارناموں“ کو بھول سکتی ہے پاکستان کے کنٹرولڈ سیاسی سسٹم میں بھی اس کی پوری پوری گنجائش موجود ہے کیونکہ یہاں کی اصل مقتدر قوتیں جنیوئن جمہوری قیادت کو تادیر برداشت نہیں کر سکتیں، عوام کو ایسا بہروپیا دیا جاتا ہے جو بظاہر آئین و جمہوریت کی مالا جپتا ہو لیکن درونِ خانہ رہبری و رہنمائی آستانہ عالیہ سے لیتا ہو۔۔۔

ضیاء الحق مرحوم کو ہم جتنا مرضی برُا کہہ لیں، کہہ سکتے ہیں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ کوئی دو رائے نہیں کہ وہ تو تھا ہی مسلمہ ڈکٹیٹر۔ آئین شکن جمہوریت دشمن مگر ذرا یہ تو بتلائیے کہ اُن کے مدمقابل کھڑے ہمارے جمہوری رہنما جب پہلی مرتبہ وزارت کے سنگھاسن پر براجماں ہوئے تھے کس انتخابی مرحلے سے گزر کر آئے تھے؟ وہ کس برتے پر سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن کر قوم کی گردن پر سوار ہوئے تھے؟ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا وہ 71ء کا منصفانہ انتخاب جیتے تھے یا 77ء کا دھاندلی زدہ؟ متحدہ پاکستان کے انتخابی معرکے میں جس شخصیت نے 300 کے ایوان میں 160 سیٹیں جیتی تھیں کس مہربان نے اُسے جیل کی کال کوٹھری میں بند کر دیا اور محض 81 سیٹیں لینے والے کو جمہوری سنگھاسن پر جلوہ افروز کر دیا؟۔۔۔ اس کے بعد پروپیگنڈہ کرنا کہ بنگالیوں نے ملک توڑ دیا۔ اصل چہروں کو پہچانیں، انصاف کی کوئی لکیر تو رہنے دیں۔

آپ کیسے جمہوری ہیں جو تاشقند میں ختم ہوتی بوڑھی ڈکٹیٹر شپ کو نئی زندگی دینے کے لیے اچھل پڑتے ہیں۔ گھاس کھائیں گے ایٹم بم بنائیں گے اور ہزار سالوں تک جنگ لڑیں گے جیسے نعرے کیا کوئی عوامی درد رکھنے والا امن پسند سیاستدان لگا سکتا ہے؟ کسی ملک کو توڑنا کیا کوئی ایسا معمولی جرم ہوتا ہے جسے بغیر معافی مانگے معاف کر دیا جائے؟ اتنے گھناؤنے جرم کے بعد جب طالع آزماؤں کا مورال عوام کی نظروں میں بھی مٹی میں مل چکا تھا آپ نے عین اس فیصلہ کن مرحلہ پر آمریت کے سامنے مضبوط بند باندھنے کے لیے کونسی کاوش کی؟ آپ نے جسٹس حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو کس برتے پر سرد خانے کی نذر کیا اور قوم سے چھپایا؟ آپ محض اتنا بتا دیں آپ نے اپنی اپوزیشن کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر چھوڑی؟ کیا اس کا بھی آپ کو کسی بوٹوں والے نے آرڈر کر رکھا تھا؟ اتنا تکبر، اتنا گھمنڈ، اپنی اپوزیشن کا جینا آپ نے حرام کر دیا۔ مفتی محمود، ولی خاں، اصغر خاں، میاں طفیل محمد، چوہدری ظہور الہیٰ اور شاہ احمد نورانی جیسے قومی سیاستدانوں کے ساتھ کیا کیا بد سلوکی نہیں کی گئی؟ بلوچ ا ور سندھی قوم پرستوں سے لے کر اپنی پارٹی کے اندر اختلافی نکتہ اٹھانے والوں کو کس کس دلائی کیمپ میں نہیں پہنچایا گیا۔ وقت اور تاریخ جواب مانگتے ہیں؟ آپ کا تختہ الٹنے والے ڈکٹیٹر نے مابعد جتنی مذہبی سیاہیاں بکھیریں کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان سب کی خوفناک بنیادیں خود جناب نے استوار فرمائی تھیں؟

درویش کو آپ سے دلی ہمدردی ہے۔ آپ ایک درد ناک انجام سے دو چار ہوئے۔ آپ کی پرعزم بیٹی نے آپ کے بعد وہ تمام کانٹے چنے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی عظمت کو سلام ہے جو جناح صاحب کے بعد اس بد نصیب مملکت کی غیر متنازع دلِ درد مند رکھنے والی جنیوئن عوامی قائد بن کر ابھریں لیکن افسوس آمریت کے گماشتوں نے عوام کو قوم کی اتنی بڑی محسن اور ہر دلعزیز رہبر سے جلد محروم کر دیا۔ ہمیں فوجی ڈکٹیٹروں یا آمروں کی مذمت ضرور کرنی چاہیے ان کے شب خون کو یوم سیاہ کے طور پر بھی لازماَ منانا چاہیے لیکن جمہوریت اور عوامی رہنمائی کے دعویداروں کو خود بھی ایسا بن کر دکھانا چاہیے جس سے سیاہی اور سپیدی کا فرق واضح ہو سکے۔ جمہوریت کا مطلب میجارٹی کی دھونس نہیں، مینارٹی کے حقوق کا تحفظ بھی اس کا تقاضا ہے۔ شہریوں کے انسانی حقوق سے آگے تو کوئی چیز نہیں ہے، آخر ان کی نگہبانی کون کرے گا؟

Facebook Comments HS