امریکن بورن کنفیوزڈ دیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے بی سی ڈی یعنی امیریکن بورن کنفیوزڈ دیسی کی یہ ٹرم سب سے پہلے ایک انڈین ملیالم فلم میں استعمال ہوئی۔ اس میں امریکہ میں پیدا اور پلنے والے دیسی بچوں کے الجھاؤ کو ہائی لائیٹ کیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹرم عام ہو گئی۔

خیر فلم میں تو کچھ اور قسم کے مسائیل بیان کیے گئے تھے لیکن یہ سچ ہے کہ پردیس میں ان دیسی بچوں کی زندگی آسان نہیں ہے۔ اور یہ صرف امریکہ کے دیسی بچوں کی کہانی ہی نہیں یورپ میں پلنے بڑھنے والے دیسی بچے بھی اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ گھر میں کچھ اور ماحول باہر کچھ اور۔ کچھ ایسا ہی حال ناروے میں بھی ہے۔

پہلی نسل جو نقل مکانی کر کے پردیس آ بسی انہیں اس چیلنج کا سامنا تھا کہ کس طرح اپنے بچوں کو اپنی ثقافت اور تہذیب سے آشنا رکھ سکیں۔ ہمارے اپنے طور طریقے جن پر ہمیں ناز ہے اپنے بچوں کو بھی اس پر فخر کرنا سیکھا دیں۔ خود میں بھی اسی دور سے گزری اور بھرپور کوشش کرتی رہی کہ بچے کہیں بالکل ہی اپنی روایات اور رواج بھول نہ جایں۔ انہیں سکھانے کی اس جدوجہد میں میں نے خود بھی بہت کچھ سیکھ لیا۔ اور یہ بھی جان لیا کہ ہمارے ہاں بھی ”سب اچھا“ نہیں ہے۔ اور یہاں بھی ”سب برا“ نہیں ہے۔

پہلی نسل نے بچوں کی تعلیم پر توجہ دی۔ سب ہی کی خواہش تھی کہ بچہ ڈاکٹر یا انجنیئر بنے۔ اور امیگرنٹ بچوں نے بھی خوب محنت کی اور اسکولوں میں اپنی دھاک جما دی۔ والدین خوش کہ بچے بہت آگے جا رہے ہیں۔

لیکن بچوں پر کیا گزرتی رہی ہے اس کا احساس کسی کو بعد میں اور کئی کو تو کبھی بھی سمجھ نا آسکا۔ بچے دو بالکل ہی مختلف تہذیبوں میں گڑبڑا کر رہ گئے۔ کچھ باغی ہو گئے، کچھ نڈھال اور کچھ نے ہتھیار ہی ڈال دیے۔ کلچر کلیش ایک حقیقت ہے ہمیں اس کے لئے تیار رہنا چاہیے تھا لیکن ہم اپنے اس زعم میں رہے کہ ہم اپنے بچوں کی پرورش اپنی روایتی اقدار سے کرسکتے ہیں۔ اور بچارے بچے دہری زندگی گذارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ بڑوں کے سامنے آنکھیں جھکا کر بات کرو۔ نظریں نیچی رکھو۔ شرم نہیں آتی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہو؟ اور یہاں پہلے دن سے کہا جاتا ہے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرو۔ نظریں نہ ملانا بد تہذیبی ہے۔ دوسرا سبق جو گھر میں بچوں کو دیا جاتا ہے و ہ یہ ہے کہ کچھ بھی ہو جائے تمہیں سب سے آگے نکلنا ہے۔ چاہے تمہیں کسی کو دھکہ ہی دینا پڑے پرکسی کو آگے نہیں نکلنے دینا۔

کسی کو ساتھ لے کر چلنے کی اور کسی کی زیادہ مدد کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اور یہاں کنڈرگاٹن سے ہی بچوں کو ساتھ مل کر رہنا سکھایا جاتا ہے۔ مل جل کر بیٹھنا اور مل بانٹ کر کھلونوں سے کھیلنا۔ اسکولوں میں ابتدائی کلاسوں سے ہی گروپ ورک دیا جاتا ہے۔ کسی موضوع پہ ایک پروجیکٹ بنانا ہوتا ہے اور اس میں گروپ کے سب بچے حصہ ڈالتے ہیں۔ گھر سے کچھ اور سبق ملتا ہے باہر کچھ اور سکھایا جاتا ہے۔

چونکہ ناروے فلاحی ریاست ہے اس لئے یہاں دسویں کلاس تک اسکول بالکل مفت ہے۔ کتابیں، کاپیاں، پنسل، ربر اور کمپیوٹر اسکول کی ذمہ داری ہے۔ اسکول جانا ہر بچے کا حق بھی ہے اور فرض بھی۔ اسکولوں میں دسویں جماعت تک کوئی بچّہ فیل نہیں ہوتا۔ امتحان ہوتے ہیں، گریڈز بھی ملتے ہیں لیکن ہر بچّہ اگلی جماعت میں پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح اس کی سیلف ریسپیکٹ مجروح ہونے سے بچ جاتی ہے۔ تمام اسکولوں میں ایک جیسا نصاب ہے۔ اگر کسی مضمون میں مشکل آ رہی ہے یا بچّہ قدرے پیچھے رہ گیا تو اس کے لئے الگ سے مدد موجود ہے۔

ایکسٹرا کلاسسز دی جاتی ہیں۔ پرایؤیٹ ٹیوشن کا کوئی کون سی پٹ نہیں۔ جو کچھ ہے وہ اسکول میں ہی پڑھایا جاتا ہے یا والدین گھر پر کچھ توجہ دے کر بچّے کو اسکول کا کام کروا دیں۔ کسی بچّے کو سزا نہیں دی جاتی نہ ہی اسے بھری کلاس میں ڈانٹ کر شرمندہ کیا جاتا ہے۔ اگر بچہ دل لگا کر نہیں پڑھ رہا تو یہ اس کا نہیں ٹیچر کا قصور سمجھا جاتا ہے جو بچے کی صلاحیتوں کو ابھار نے میں ناکام رہے۔

۔ اسکول کی حد تک تو والدین مطمین رہے۔ لیکن بچے کے کالج یا ہائی اسکول میں پہنچتے ہی کہانی بدلی بدلی سی نظر آنے لگی۔ کیونکہ دسویں کے بعد آپ اپنی چوائیس سے پڑھتے ہیں۔

بچے عام طور پر بڑی جلدی اپنے نئے ملک کی زبان سیکھ لیتے ہیں اور اسی زبان میں سوچنا شروع کرتے ہیں۔ ‏ لیکن والدین کو دقت ہوتی ہے اور کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ‏ جب بچے پردیس میں پرورش پاتے ہیں وہ دیس جو اُن کے والدین کے لئے نیا ہے تو والدین اور بچوں کے رابطے میں کچھ خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ‏

نئے ملک کی زبان وہاں کا رہن سہن اور سماجی سرگرمیاں، میل جول کے طور طریقے نہ صرف بچوں کی طرزِفکر کو متاثر کرتی ہے بلکہ اُنکے احساسات پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ وہ کسی حد تک الجھ سے جاتے ہیں ‏اور پھر والدین کو اپنے بچوں کے عمل اور ردعمل کو سمجھنے میں مشکل پیش آ تی ہے۔ والدین اپنی ثقافت اور تہذیب کو سنبھالنے کے لئے بچوں کو مقامی بچوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں بچوں کو کافی آزادی میسر ہے اور دیسی والدین کا یہ عام خیال ہے کہ ہمارے بچے ان کے ساتھ رہ کر بگڑ جایں گے۔ کچھ تنگ والدین ذہن مقامی والدین بھی نہیں چاہتے کہ ان کے بچے امیگرنٹ بچوں کے ساتھ میل جول رکھیں۔ یہ ایک اور چیلنج ہے جو بچوں اور دونوں فیس کرنا پڑتا ہے۔

ایک اور الجھاؤ۔ یہاں ابتدا ہی سے بچوں کو سکھا اور بتا دیا جاتا ہے کہ لڑکا لڑکی میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں برابر ہیں۔ جو کام لڑکے کر سکتے ہیں وہ لڑکیاں بھی کر سکتی ہیں۔ یہاں سے دیسی بچوں کا کنفیوژن اور بڑھ جاتا ہے۔ گھر میں ماحول کچھ اور ہی ہے۔ لڑکے گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتے۔ لڑکیوں کی بہ نسبت انہیں آزادی بھی زیادہ ملتی ہے۔ یہاں لڑکے اپنی روایات کا خوب فایئدہ اٹھاتے ہیں۔ لڑکیاں اور بھی کنفیوزد اور دل برداشتہ ہوتی ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ لڑکے گھر کے کام بھی نہیں کرتے اور دیر تک باہر گھوم سکتے ہیں اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گذار سکتے ہیں لیکن ہم پر پابندی ہے۔

اسکول سے ٹرپ کہیں جاتا ہے تو لڑکوں کو باآسانی اجازت مل جاتی ہے لیکن لڑکیوں کو اتنی آسانی سے جانے نہیں دیا جاتا۔ اسکول میں سوئمینگ سکھائی جاتی ہے یہاں بھی لڑکیاں پیچھے رہ جاتی ہیں کیونکہ سوئمینگ کا لباس والدین کو نامناسب لگتا ہے اور پھر لڑکوں کے ساتھ سوئیمنگ تو کسی طرح قابل قبول نہیں۔ کچھ اسکولوں میں اب لڑکیوں کے لئے علیحدہ سوئیمنگ کلاسز رکھ دی گیں ہیں اور لڑکیوں کو بھی سوئیمنگ سیکھنے کا موقعہ ملا۔

گھر میں لڑکے لڑکی کے درمیان فرق رکھنے کا ایک نتیجہ سامنے آیا کہ لڑکیاں لڑکوں کی بہ نسبت پڑھائی میں زیادہ سنجیدہ ہو گیں۔ تعلیم حاصل کرنا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ان کے لئے اور بھی اہم ہو گیا۔ سروے نے ثابت کہ امیگرنٹ والدین کی لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ بہتر گریڈز لارہی ہیں۔ لڑکے اپنی جینڈر برتری کو انجوئے کرتے رہے اور قدرے پیچھے رہ گئے۔

دیسی مرد یہاں کام مصروف رہتے ہیں۔ دن کا بیشتر حصہ گھر سے باہر گزارتے ہیں۔ مائیں گھر کے کاموں میں ہانڈی روٹی میں مصروف۔ نہ زبان سیکھی نہ کام کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اسکول میں بچے کی پیش رفت یا مشکلات کا انہیں کوئی اندازہ ہی نہ ہو سکا۔ اب بچے تو مقامی زبان خوب اچھی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں لیکن مائیں بالکل نا بلد۔ یہاں سے جنیریشن گیپ بلکہ فکری خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ اسکول میں والدین اور اساتذہ کی میٹینگ میں باپ مصروفیت کی بنا پر اور مائیں زبان سے نا واقفیت کی بنا پر اکثر نہ جا سکیں۔ جب تک کہ اسکول سے کوئی بہت ہی سنجیدہ نوعیت کا پیغام نہ آئے۔

بچوں کے مشاغل بھی کچھ اور ہیں۔ لڑکے فٹ بال دیکھنا اور کھیلنا پسند کرتے ہیں لیکن ابو کو کرکٹ زیادہ اچھا لگتا ہے۔ لڑکیاں ٹی وی پر بولڈ اینڈ بیوٹی فل دیکھنا چاہتی ہیں لیکن امی پاکستانی ڈارموں کی دلداہ ہیں۔ یوں بچے اپنے والدین کے ساتھ بہت کم وقت گذارتے ہیں۔

لیکن ایک چیز ہے بچے کھانا اپنا دیسی ہی کھانا پسند کرتے ہیں۔

یہاں پلنے والی دوسری نسل کسی حد تک مطمین اور کامیاب ہے۔ ان بچوں نے سختیاں جھیلیں ہمت رکھی محنت کی اور اس ماحول میں کسی حد تک رچ بس گئے۔ اب حالات کچھ بہتری کی طرف ہیں امید ہے کہ تیسری نسل کے لئے اور بھی آسانیاں ہو جایں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •