تحریک انصاف: آستینوں کی چمک اور خنجر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف نے اپنے دور اقتدار میں ملک کو ”ریاست مدینہ“ کے خطوط پر استوار کرنے کے جتنے خوشنما اور دلفریب رنگ بکھیرے تھے وہ ایک ایک کر کے پھیکے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اب تو ان رنگوں کا پھیکا پن اس درجہ پہنچ چکا ہے کہ اب ان سے بد صورتی جھلکنے لگی ہے۔ دس ماہ سے زائد کے اقتدار میں اگر ایک بات قطعیت سے کہی جا سکتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سارے امور میں ماہر ہو سکتی ہے لیکن فن حکمرانی سے مکمل طور پر نا بلد ہے۔

اگر تحریک انصاف کا یہی انداز حکومت ہے تو پھر نواز لیگ اور پی پی پی میں کیا برائی تھی کہ حکومتی کارکردگی کے جو مناظر اس وقت آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں اس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ ”تبدیلی“ کی نقیب کسی جماعت کی حکومت نہیں ہے بلکہ وہی بد بودار، سڑاند اور تعفن سے بھرا انداز حکمرانی ہے جس میں عوام نام کی مخلوق کے لیے وعدوں کے نام پر طفل تسلیاں اور در اصل ان کی کھال اتارنے کے ہتھکنڈے اور پالیسیاں۔

خدا لگتی کہیں تو کیا تحریک انصاف کی حکومت سابقہ دو حکومتوں کا پر تو نہیں کہ جس میں نام کی تبدیلی کے سوا کچھ بھی تبدیل نہیں ہو پایا۔ اس وقت ساری توجہ معیشت کے شعبے پر ہے۔ یہ معیشت بلاشبہ جانکنی کی حالت میں آپ کو ورثے میں ملی لیکن اس معیشت کو تو آپ نے مزید تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ بیرونی و اندرونی قرضوں کے ذریعے معیشت کے پہیے کو آگے دھکیلنے کی عشروں پرانی پالیسی جو معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

آپ کے بقول پی پی پی اور نواز لیگ نے معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔ صحیح کہا لیکن آپ نے کون سا نیا اور اچھوتا معاشی وژن پیش کیا۔ آپ کے پاس بھی لے دے کے یہی پالیسی بچی کہ قرضوں کے ذریعے معیشت کی گاڑی کو آگے سرکایا جائے اور بھیک میں مانگے گئے ڈالروں سے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جائے۔ اب تک تحریک انصاف کی حکومت میں برآمدی شعبے سے کوئی حوصلہ افزا خبر آئی اور نہ ہی سرمایہ کاری کے فرنٹ پر کسی باد صبا کے آثار ہ دکھائی دیے کہ جو در اصل معیشت کی مضبوطی اور استحکام کے دو کلیدی اور بنیادی عناصر ہیں اور دنیا بھر میں کامیاب معیشتوں کے تجربات کا نچوڑ بھی۔

ملکی محصولات کی وصولی کے محاذ پر سن لیں۔ مالی سال کے اختتام پر تبدیلی سرکار اپنے ہدف کے حصول میں ناکام رہی۔ چار ہزار ایک سو ارب کے ٹیکس ہدف میں ناکامی کے بعد آئندہ مالی سال کے لیے ساڑھے پانچ ہزار ارب کا ہدف مقرر کر دیا۔ یہ ہدف کتنا حقیقت پسندانہ ہے؟ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں صنعت کا شعبہ گراوٹ کا شکار ہے، معیشت کے دوسرے شعبے زوال پذیر ہیں، اب جب آمدنی سکڑ رہی ہے تو کیونکر ٹیکس زیادہ وصول ہو پائیں گے۔

یہ اس امر کی جانب نشاندھی کرتا ہے کہ حکومتی ٹیکس وصولی کا ادارہ تعزیز و تادیب کے نئے ہتھکنڈوں سے لیس کر ٹیکس کی وصولی کے مشن پر گامزن ہو گا۔ بلاشبہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کم ہے لیکن پہلے جی ڈی پی میں تو اضافہ کریں پھر شوق سے ٹیکس وصول کریں۔ اب اگر ٹیکس ایمسنٹی کے ذریعے کالے دھن کو سفید کرنا ہی آپ کی معاشی پالیسی ٹھہری تو پچھلوں کو کیا الزام دیں کہ جو یہی کچھ کرتے رہے۔ یہ تو رہا معیشت کا حال۔

اب ذرا سیاست کا ذکر ہو جائے۔ تبدیلی سرکار کا انداز سیاست ملاحظ ہو کہ پنجاب اسمبلی کے پندرہ نواز لیگی اراکین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ ان نواز لیگی اراکین کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے پس پردہ کیا محرکات ہیں یہ کوئی راز کی بات تو نہیں کہ ہمیشہ سے حکومت وقت اپوزیشن کی صفوں میں دراڑ ڈالنے کے لیے اس کی پارلیمانی قوت میں نقب لگاتی ہے۔ لیکن یہ تو تبدیلی کی علمبردار حکومت ہے، اسے تو اپنے پیش روؤں سے مختلف ثابت ہونا تھا۔

اسے نواز شریف کی طرح چھانگا مانگا کی طرز سیاست سے اپنے آپ کو مختلف ثابت کرنا تھا، اسے پی پی پی کی طرح موجودہ خیبرپختونخواہ اور سابقہ سرحد کے اراکین اسمبلی کو پشاور سے لاکر کراچی میں نہیں ٹھہرانا تھا تاکہ نواز لیگی حکومت کو بدلا جا سکے۔ اسے منظور وٹو سے اپنے آپ کو مختلف ثابت کرنا تھا کہ جو پنجاب میں نواز لیگی اکثریت کو لوٹوں مے ذریعے کم کر کے خود وزیر اعلیٰ بن گئے۔ اسے آصف زرداری سے بھی اپنے آپ کو مختلف ثابت کرنا تھا کہ جو بلوچستان میں سردار ثناء اللہ زہری کی حکومت کو بدلنے کے ”نیک مشن“ پر کاربند تھے۔ لیکن یہ کیا ہوا کہ آج عمران خان کی حکومت بھی اسی راہ پر چل نکلی ہے جس راہ میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے، لوٹے اور ہارس ٹریڈنگ کی گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •