این آر او: بے نظیر بھٹو قوم کی مُجرم یا مُحسن؟
اب ہم اِس پہلو کا جائزہ لیتے ہیں کہ اگر این آر او نہ آتا تو کیا صورت حال ہوتی؟
اگر این آر او نہ آتا تو شریف برادران یقینی طور پر بالوں کی نئی وگیں لگا کر لندن میں ”کِم بارکروں“ سے ملاقاتوں میں مشغول ہوتے، اپنے پسندیدہ ریسٹورنٹوں میں کھابے اُڑا رہے ہوتے، صحافیوں کے سامنے آنکھوں میں آنسو بھر بھر کر روہانسی آواز کے ساتھ المیہ انداز میں پختہ اداکاری کے ساتھ بڑے بڑوں کو رلا رہے ہوتے، قرآن کی قسمیں کھا رہے ہوتے کہ اب وہ یکسر بدل گئے ہیں، لہٰذا اب وہ صرف اصولوں کی سیاست کریں گے۔
سیاسی پارٹیوں کی اکثریت باوردی صدر کی آئینی پاسباں بن کر ایل ایف او طرز کی ترامیم سے آئین پاکستان کے بخیئے ادھیڑ رہی ہوتیں۔ عمران احمد خان نیازی باوردی صدر کے ریفرنڈم کی پولنگ ایجنٹی کر رہے ہوتے یا پھر دھاندلی کے ذریعے وزیرِ اعظم بننے کی فریادیں کر رہے ہوتے یا پھر شاید اپنی سلیکشن جلد کرانے میں کامیاب ہو جاتے۔
عدالتیں فردِ واحد کی آئین شکنیوں کے سامنے کورنش بجا لاتے ہوئے ڈِکٹیٹ کیے ہوئے فیصلوں پر آمناً و صدقناً کہتی نہ تھکتیں۔
المختصر، مجموعی طعر پر میڈیا سمیت سب سر جھکائے خاموشی سے ہر حکم کی بجا آوری کرتے رہتے کیونکہ وہ سب جان چکے تھے کہ برگد کے اسی پیڑ کے نیچے بیٹھنے سے ہی نروان ملے گا۔ اس صورت حال میں جنرل مشرف یا اس کا کوئی باوردی جانشین اپنا اقتدار جاری رکھتا لیکن یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ لاقانونیت کی وجہ سے پاکستان کی کیا درگت بنتی اور ہمیں کن سانحات کا سامنا کرنا پڑتا۔
اب ہم ایک دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں کہ این آر او کے بغیر پاکستان کو پرویز مشرف کی گرفت سے نکالا جا سکتا تھا؟ جواب ہے، نہیں! کیونکہ یہ ہماری تاریخ ہے کہ سوائے مشرف کے کون سا آمر تھا جو سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار بدر ہوا؟ وطنِ عزیز میں آئین شکنی کے بانی ایوب خان نے پاکستان کی دبوچی گردن تب چھوڑی، جب مسلسل حکمرانی کے بعد اُن کے ماتحتوں نے اُن کے ساتھ ہاتھ کر کے اِقتدار خود سنبھال لیا، 1971 ء کا سانحہ نہ ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ یحییٰ خان اپنی آنکھوں میں مزید اِقتدار کی حسرتیں سجائے قوم کے سر سے اُترتے؟ ضیاء الحق جہاز میں جل کر بھسم نہ ہوتے، تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اُن کے ناجائز اقتدار سے اُنھیں باہر کر دیا جاتا؟ مشرف بھی این آر او کر کے محترمہ بینظیر بھٹو کے سیاسی جال میں پھنس کر غلطی نہ کرتے تو کس مائی کے لعل کے بس کی بات تھی کہ اُنھیں بِلا شرکت غیرے حکومت چھوڑنے پر مجبور کر دیتا؟
اب ہم ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا نقطہ نظر دیکھتے ہیں کہ وہ بذاتِ خود این آر او کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
این آر او کے بارے میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف خود درجنوں بار اقرار کر چکے ہیں کہ اُن کی سب سے بڑی غلطی این آر او تھا (جس کی وجہ سے اُنھیں مجبوراً اقتدار چھوڑنا پڑا) ۔ پرویز مشرف کے اقرار کے بعد این آر او کے بارے میں انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے پیش کیے جانے والے کذب بیانوں کے جھوٹے پروپیگنڈے پر حیرت ہوتی ہے۔ اب تو این آر او کے بارے میں پارلیمنٹ میں سانپ کی طرح لپلپاتی زبان والے لونڈے بے تکان بولتے نظر آتے ہیں، جن کا طرہ امتیاز ہی بے پر کی ہانکنا ہے۔
یہاں اس بات کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی دشمنی میں این آر او کی پھبتیاں کسنے والے این آر او دینے والے آئین شکن پرویز مشرف کا کبھی بھی ذکر نہیں کرتے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر این آر او اُن کی نظر میں غلط تھا تو پھر این آر او دینے والے کا ذکر گول کر کے فقط این آر او لینے والوں کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ کیا اِس یک طرفہ طرزِ عمل سے اِن کی اَنلمیٹڈ منافقت عیاں نہیں ہوتی؟
تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اگر ظلم و استبداد کے سامنے سر نہ جھکانے والی محترمہ بے نظیر بھٹو انتہائی دانشمندی سے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو این آر او کے ذریعے مات نہ دیتیں تو وہ نہ اپنی وردی اُتار کر کمزور ہوتے، نہ مجبور ہو کر اقتدار چھوڑتے اور نہ ہی عوام کے منتخب نمائندے حکومت سنبھالتے بلکہ جنرل مشرف اقتدار کے مزے کشید کرتے رہتے اور راوی چین ہی چین لکھتا رہتا تاوقتیکہ پاکستان کسی بہت بڑے سانحے کا شکار نہ ہو جاتا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے این آر او کی بساط دو بار آئین توڑنے والے ڈکٹیٹر جنرل مشرف پر خوب اُلٹ دی تھی۔ یہ این آر او ہی تھا جس کے تحت بی بی نے جنرل مشرف کی وردی اُتارنے اور جمہوریت کی بحالی کی کھڑکی کھولنے پر مجبور کیا تھا لیکن اُنہیں اپنی جان کی قربانی دینا پڑی تھی۔ ان کی اِس عظیم قربانی کی قیمت پر پاکستان میں جمہوری عبور ممکن ہوئے۔ اِن ناقابلِ تردید حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے برملا کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جان قربان کرنے والی ذوالفقار علی بھٹو کی بے نظیر بیٹی قوم کی عظیم محسن ہے اور این آر او کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والے فقط مقتدرہ قوتوں کے چابی بھرے کھلونے ہیں۔


