اعلیٰ عدلیہ ارشد ملک وڈیو کا نوٹس لے: سینئر تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ احتساب جج کی جانب سے پریس ریلیز کافی دیر سے جاری کی گئی۔ فوری طور پر تردید کرنا چاہیے تھی۔ تیسری ٹیپ بھی ہے۔ بہرحال معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ مریم نواز کہہ سکتی ہیں کہ جس طرح دباؤ پر فیصلہ دیا تھا، اُسی دباؤ پر یہ پریس ریلز جاری کی گئی ہے۔ جج صاحب کی پریس ریلز اتنی اہم نہیں ہے۔ ان کی تردید سے یا پریس ریلز سے معاملہ ختم نہیں ہوگا۔ اعلیی عدلیہ کو معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔

حامد میر نے کہا کہ جج ارشد ملک اور ناصر بٹ کو شامل تفتیش کیا جائے۔ جج ارشد ملک رشوت کا الزام لگا کر وہ خود پھنس گئے ہیں۔ اگر اُن کو کسی نے ٹرائل کے دوران رشوت کی پیشکش کی ہے تو پھر ان کو اس کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ کس نے کہاں پر کتنی رشوت کی پیشکش کی اور انہوں نے کیسے ٹھکرایا۔ جب یہ پیشکش کی گئی تو متعلقہ حکام کو بتایا؟ اگر بتایا تو بہت اچھا کیا۔ اگر نہیں بتایا تو اس کی انکوائری ہونی چاہیے کہ کیوں نہیں بتایا۔ لگتا ہے کہ جج کی تردید کے بعد ویڈیو کا وہ پورشن سامنے آئے گا جو ابھی تک نہیں آیا۔ اگر وہ سامنے آئے گا تو بڑا مسئلہ ہوگا۔

سنیئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ادارہ پر سوال اٹھ گیا ہے، اس کو بچانا ضروری ہے۔ ارشد ملک کے بیان پر جو تعجب کی بات ہے وہ ناصر بٹ سے اُن کی شناسائی ہے، جس کے بارے میں کل سے یہ خبریں چل رہی ہیں کہ وہ تو ایک ہسٹری شیٹر ہے۔ اس کے خلاف درجنوں مقدمات قائم ہیں، وہ لندن فرار ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں جج خود یہ کہہ رہے ہیں کہ میری اس سے پرانی شناسائی ہے۔

جج صاحب نے بھی الزامات لگا دئیے ہیں تو انہیں اب یہ بتانا پڑے گا کہ کون سے لوگ تھے جنہوں نے اُن کو رشوت کی پیش کش کی۔ جج کے پاس جو بھی شخص رشوت لے کر آتا ہے، جج اس کو اسی وقت جیل بھجوا سکتا ہے اور کچھ نہیں تو چیف جسٹس پاکستان کو بتانا تھا۔ اگر دھمکی آئی تھی تو وہ اور سنجیدہ بات ہے اور اس کے بعد متعلقہ اداروں کو الرٹ کرنا چاہیے تھا کہ سیکورٹی کا انتظام ہو، جو نہیں ہوا۔ یہ ایک تنازعہ ہے اور اس کا حل یہی ہے کہ اس کی غیر جانبداری کے ساتھ تحقیقات ہوں۔

مظہر عباس نے کہا کہ اگر چیئرمین نیب کے تنازعہ کی تحقیقات ہوتیں اور منطقی انجام تک پہنچا دیا جاتا تو آج یہ تنازعہ نہیں کھڑا ہوتا۔ ارشد ملک اگر متنازع بھی ہوجائیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نوازشریف بری الزمہ ہوگئے ہیں۔

سنیئر صحافی ارشاد بھٹی نے کہا کہ چیف جسٹس کھوسہ اس کی تحقیق کریں تو اچھا ہے۔ فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے۔ اتنی لیکس ہوگئی ہیں، سب کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •