ملاوٹی اردو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کا معاشرہ اردو کے عروج کو بھول بیٹھا ہے۔ اس زبان کی مٹھاس، شائستگی، تہذیب اور ادب و آداب، تمام زوال کا شکار ہیں۔ جس کی نشان دہی اردو زبان اور اردوادب سے وابستہ لوگ ببانگِ دہل کرتے ہیں۔ موتیوں کی سی شکل کے الفاظ، انداز و بیاں کی مہارت، چنیدہ الفاظ کی شستگی اور مٹھاس، لب و لہجے کا اتار چڑھاؤ اس زبان کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

لیکن عصر حاضر میں بولی جانے ولی اردو زبان محض ایک زبان نہیں یہ اردو اور انگریزی زبانوں کا ایک کچومر ہے جس میں ایک جملے کے آدھے الفاظ اردو اور باقی انگریزی کے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ صرف نوجوان بلکہ بزرگ بھی کارِشریک ہیں۔ یوں، نئی فلموں، ڈراموں، یہاں تک کہ خبروں اور اخباروں میں بھی ایسی ہی مِلی جُلی زبان کا استعمال ہو رہا ہے اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا۔ وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔

ہم لوگ اردو بولتے اور لکھتے ہوئے انگریزی زبان کے الفاظ اس قدر بے رحمی سے استعمال کرتے ہیں کہ نئی نسل کی اکثریت یہ سمجھنے لگی ہے کہ ہماری قومی زبان میں الفاظ کی بہت کمی ہے اور انگریزی کا سہارا لیے بغیر اب گزارہ نہیں ہوسکتا اور یاد رکھئیے کہ غیر زبانوں کے جو لفظ کسی زبان میں پوری طرح کھپ جائیں، انہیں دخیل کہا جاتا ہے۔ اور ایک بار جو الفاظ زبان میں کھپ جائیں تو ان میں اور اصل زبان کے الفاظ میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا

موجودہ عہد میں یہ زبان کس مقام پر ہے تو آئیے غور سے ایک طالب علم کی ملاوٹی اردو کا مزہ لیں۔ جب ہم سکول میں ٹینتھ کلاس کے سٹوڈنٹس تھے تو ہمارا ایک سیٹ فیلو تھا جو سمر ووکیشن میں ہوم ورک کرنے کی بجائے ڈیلی سوئمنگ پول پرجاتا تھا جب کہ ٹیچر نے ہالیڈے سے پہلے انفارم بھی کیا تھا کہ مڈ ٹرم کے پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے والی ہے اور اس نے سٹڈی کی کئیر نہیں کی بلکہ ورک شیٹ پر بال پین سے کوئی بھی رائیٹنگ نہیں کی اور نہ میتھ کے کوئسچن سالؤ کیے نہ پاک سٹڈیز کے آنصر یاد کیے اور اسلامک سٹڈی کی بُک کو تو بالکل اگنور ہی کردیا، نہ کو ٹیبل یاد کیا اور نہ کیمسٹری کی کوئی کمپوزیشن بس ایسے ہی ٹائم ویسٹ کرتا رہا۔ آفٹر پیپرز اور رزلٹ اناؤنس ہونے کے بعد سب پوزیشن ہولڈر سٹوڈنٹس اپنی اچیومنٹ چئیرز کر رہے تھے جبکہ اس لیزی بوائے نے تین سبجیکٹس میں فیل ہو کر اپنے مما پاپا کو ڈس ہارٹڈ کر دیا۔

ایسے طالبعلم جو اردو کی اعلٰی سند حاصل کرنے کے بعد اردو کی ترویج اور تعلیم دینے کے لئے عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں ان کی اردو گفتگو کا معیار بھی ترقی کر لیتا ہے، جیسا کہ :الحمد اللہ ناؤ اے ڈیز میں ایک ہائی فائی اور ویل ناؤن یونیورسٹی کے اردو ڈپارٹمنٹ میں بطور اردو سبجیکٹ سپیشلسٹ کے طور پر جاب کر رہا ہوں۔ لیکن ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے بڑا ڈیفیکلٹ ٹاسک دیا کہ آپ نے اردو لٹریچر کے سٹوڈنٹس کو غالب کی پوئیٹری پر سپیشل لیکچر ڈیلور کرنا ہے۔

میں نے فسٹ سٹیپ پہ ان سٹوڈنٹس کو کلاس سے آؤٹ کیا جو سلیولیس شرٹس اور ٹراؤزرز یا شارٹس میں آئے تھے، آفٹر آل ڈسپلین کی امپلی منٹیشن بھی توہم ٹیچر کی رسپانسیبلٹی ہے۔ غالب کی پوئیٹری کو جس اینگل اور وے سے میں ایکسپلین کر رہا ہوں تو ہوپ فُل ہوں کہ جلد ہی وہ اس کی ڈیٹیل گین کر لیں گے۔ قارئین محترم ڈیلی بیسز پر اردو کی اس طرح کی کنورسیشن کو آبزرو کرنے کے بعد میرا بلڈ پریشر ایز یوژئل ہائی ہو جاتا ہے اور مجھے تین ٹائپ کی ٹیبلٹس ارجنٹلی لینے اور سالٹڈ آئٹمز سے ایوائڈ کرکے منہ کے ٹیسٹ کو خراب کرنا پڑتا ہے۔

اگر یہ دعوی کیا جائے کہ اردو اپنی تمام تر تہذیبی وراثتوں کے ساتھ زندہ ہے تومیرے خیال کے مطابق جواب نفی میں ہے، گھر سے لے کر گلی، محلہ، تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور بحث ومباحثوں میں کہیں بھی خالص اردو نہ بولی جاتی ہے اور نہ لکھی جاتی ہے۔ بلکہ اردو زبان زخمی ہو کہ در بدر پناہ اور اپنا کھویا ہوا تہذیبی مقام ڈھونڈنے میں سرگرداں نظر آتی ہے۔ حیرت اور دکھ تو تب ہوتا ہے جب اردو کے قلمکار، لکھاری اور ادباء و شعرا اپنے اردو کے کلام میں انگریزی الفاظ استعمال کرتے ہیں، نظموں کے عنوان انگریزی کے، حتی کہ اپنی کتابوں کے ناموں میں بھی انگریزی کے الفاظ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

دنیا میں اگر اردو زبان کا کوئی مقام باقی رہ گیا ہے یا اردو زبان تندرست و توانا ملے گی تو وہ میر تقی میر، مرزا غالب، داغ دہلوی، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی اور ایسے ہی لاتعداد شعراء و ادباء کی کوششوں کا ثمر ہے، جن کے کلام نے ایک عالم کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔ پڑوسی ممالک ہندوستان اور ایران میں کلامِ غالب باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے، اقبال کے کلام پر پی ایچ ڈیز کی جاتی ہیں، فیض کے کلام کا روس کی تمام زبانوں میں ترجمہ کر دیا جاتا ہے، لیکن افسوس صد افسوس وہ قوم جس کی اپنی زبان ہی اردو ہے، اس کے بچے ان شعراء کے ایک شعر کو بھی خود سے سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •