پاکستان کا تابکار عشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایڈیٹرز: نیلوفر فرخ، امین گل جی، جان میک کیری
پبلشر: (اؤ یو پی) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس
ترجمہ وتبصرہ : مہ ناز رحمن

ستر کے عشرہ کی پاکستان کے لئے کیا اہمیت تھی، یہ وہی بتا سکتے ہیں جو تب جوان تھے اور پاکستان کی تقدیر بدلنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ نیلوفر فرخ، امین گل جی، جان میک کیری نے تواس عشرے کی غیر رسمی ثقافتی تاریخ بیان کرنا چاہی تھی لیکن سیاسی تاریخ ثقافت کی چلمن کو ہٹا کر اپنا چہرہ دکھانے پر بضد ہے۔ نیلوفر فرخ کے بقول ”ستر کا عشرہ عجیب متحرک عشرہ تھا۔ خانہ جنگی کی بھگڈر کے بعد ایک خلاف قیاس رجائیت سامنے آئی۔

سیاسی قوتوں کے منظر عام پر آنے کے ساتھ معاشرے میں بھی مجموعی طور پر ایک کھلا پن سامنے آیا۔ تب لوگ صحیح معنوں میں یہ سمجھتے تھے کہ جمہوریت سارے معاملات کو ٹھیک کر دے گی۔ اس کا اظہار صرف سیاسی دائرے میں نہیں بلکہ قوم کی ثقافتی زندگی میں بھی ہوا۔ یہ پاکستان کے عظیم ٹیلیوژن، یادگار فلموں، موسیقی کے نئے رحجانات، رقص اور انقلابی فیشن کا دور تھا۔ ”

”یہ کوئی نصف صدی پہلے کی بات ہے لیکن اس نے نا قابل تشریح طور پر آج بھی عوام کے تصورات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے مگر ان سالوں کو یاد کرنا آسان نہیں کیونکہ ان میں بہت زیادہ سیاسی اور سماجی تبدیلی چھپی ہوئی ہے۔ تب تاریخ کو بدلنے والے دو واقعات نے ملک کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔ ایک تو خانہ جنگی جس نے بنگلہ دیش کو جنم دیا۔ دوسرے، 1977 کا فوجی انقلاب جس نے مقبول وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو اقتدار سے محروم کر کے پھانسی کے تختہ پر پہنچایا۔

ان دو المیوں کے درمیان ہمیں جھوٹی امید کی ایک عارضی بہار دکھائی دیتی ہے جب رجائیت کے ماحول نے بے مثال تخلیقی صلاحیتوں کا در کھولاجس سے ایک قوم ہونے کا احساس بیدار ہوا۔ اس دور کو بھلانا اس لئے بھی مشکل ہے کیونکہ یہ کبھی ختم ہی نہیں ہوا۔ جب اسے اچانک ’نصف شب‘ کی دستک سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو قوم نڈھال اور پریشان ہو گئی۔ قوم نے دیکھا کہ ہروہ چیز جو ستر کے عشرے کی علامت تھی، جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے احکامات کے تحت دفن ہو گئی۔ تب سے پاکستانی ان سوالات کے لئے کہ جن کا جواب باقی ہے، اس دور کی یادوں کی طرف پلٹتے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک مضطرب یاد بن کر رہ گیا ہے۔ ”

یہ آخری سال تھے جب پاکستانیوں نے خود کو ایک مکمل قوم محسوس کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے اور خود اپنے احمدیوں کے باعث تقسیم قانون کے بعد جب پاکستانی اپنی تاریخ کے سب سے نچلے مقام پر تھے، اسوقت بھٹو نے انہیں خود اعتمادی دی اور متحد کیا۔ بھٹو کے کرشمہ نے بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک مردوں اور عورتوں کو تحریک بخشی کہ وہ ایک ماڈرن اور جدید سوچ رکھنے والا ملک بنانے کے لئے سامنے آئیں۔ جب یہ خواب چکنا چور ہوا تو صرف ایک جمہوری عہد کا خاتمہ نہیں ہوابلکہ ہمارے اپنے اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا۔

بہرحال بھٹو کے مختصر سے ہنی مون نے کٹر آدرشیوں کے ایک ٹولے کو جنم دیا جو قوم کا ضمیر بن گیا اور جس نے آمریت کے دور میں جوابی بیانیہ تخلیق کیا۔ یہ لوگ خود مختاری میں ناقابل شکست یقین رکھنے والے عقیدے کی پیداوار ہیں۔ ’

امین گل جی نے اپنے مضمون کا آغاز میلا ن کنڈیرا کے ایک اقتباس سے کیا ہے۔ قارئین ذرا دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا اسے پڑھ کر انہیں ضیا ا لحق کا دور یاد نہیں آیا؟

”لوگوں کے خاتمے کے لئے پہلا قدم ان کے حافظے کو مٹانا ہے۔ ان کی کتابیں، ان کی ثقافت، ان کی تاریخ کو تباہ کر دو۔ پھر کسی سے نئی کتابیں لکھواؤ، نئی ثقافت بناؤ، ایک نئی تاریخ تشکیل دو۔ کچھ عرصہ میں ہی قوم بھولنا شروع ہو جائے گی کہ وہ کیا ہے اور کیا تھی۔ آس پاس کی دنیا اور بھی تیزی سے بھول جائے گی۔ طاقت کے خلاف انسان کی جدوجہد بھولنے کے خلاف حافظے کی جدو جہد ہے۔ “

امین گل جی کے بقول پاکستان اس وقت عبوری دور سے گزر رہا ہے اور شاید اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ماضی قریب پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ ہم ایک قوم کی حیثیت سے کہاں کھڑے ہیں۔ ”پاکستان کا تابکار عشرہ“ میں اسی دور کو یاد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے لئے پاکستان کے سینتالیس آرٹسٹوں سے فن پارے بنوائے گئے۔

اس عشرے کی بات کرتے ہوئے سلیمہ ہاشمی کو ٹی وی نیوز کی وہ فوٹیج یاد آتی ہے جس میں جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور پوری قوم سکتے میں آ گئی تھی۔ ”تکلیف اور بے یقینی کی حالت لوگوں کی ہڈیوں میں سرایت کر گئی تھی۔ اس تکلیف سے نکلنے کے لئے امید کی کرن بھٹو حکومت کی مقبولیت کے ساتھ نظر آئی۔ عوام کا موڈ بحال کرنے میں سرکاری میڈیا کو ملنے والی آزادی کا بھی ہاتھ تھا۔ ایک ترقی پسند جمہوری ایجنڈا پر کام کرنے کے لئے دانشور، ادیب، فنکار اور ٹی وی اور ریڈیو پر کام کرنے والے پروفیشنلز سامنے آئے۔ “

میرا تعلق بھی اس نسل سے ہے۔ پاکستان کی فضا پر چھائی ہوئی انقلاب کی رومانی کیفیت مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ انور سجاد کی ڈرامہ سیریل ”زنجیر“ کون بھول سکتا ہے۔ روحی بانو اور مستنصر حسین کو پہلی مرتبہ میں نے اسی سیریل میں دیکھا تھا۔ دونوں آئے اور چھا گئے۔ تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے آرٹسٹ بھی ہم سے جدا ہو گئے۔ بھٹو کا پسندیدہ نغمہ ”سوہنی دھرتی“ گانے والی شہناز بیگم بھی بنگلہ دیش چلی گئیں۔ بقول سلیمہ ہاشمی ’بصری فنون میں ایک تازہ کار پروفائل سامنے آیا جو ما بعد نو آبادی تشخص کے لئے‘ مشرقی بازو ’کی طرف نہیں دیکھتا تھا۔

بھٹو پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کے دورے پر گئے تو فیض احمد فیض بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بھٹو کی فرمائش پر انہوں نے ایک غزل لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘ ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے المیہ سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اس کتاب میں مصوروں کے فن پاروں کے ذریعے ستر کے عشرے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ایسی ہی ایک کتاب اس دور کے سیاسی کارکنوں کے بارے میں لکھی جائے جنہوں نے خود سوزیاں کیں، جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے، تعلیم ادھوری چھوڑی، اپنے کیریر تباہ کیے اور جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔ جنہوں نے جابر حاکم کے سامنے سچ کہا اور بے روزگاری یا جلا وطنی کا عذاب جھیلا۔ یہی لوگ ہمارے ہیرو ہیں اور زندہ قومیں اپنے ہیروز کو بھولتی نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •