ہر بچہ ہی” شودہ ” ہوتا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت ہی ”شودہ“ بچہ ہے تمہارا۔ ۔ بہت ہی شودے ہو تم۔ ۔ ایسے شودوں کی طرح کھا رہے جیسے پہلے کبھی کھایا نہ ہو یا آج آخری بار کھا رہے ہو۔

آپ سب نے ایسے ”شودہ“ مطلب لالچی یا نادیدہ پن والے کلمات لازمی سنے ہوں گے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی۔ یہ بھی ایک قسم کی تضحیک ہی ہے جس کا نشانہ تقریباً ہر بچہ ہی اپنے بچپن میں بنتا ہے۔ جو بچے ”ذرا ہٹ کے“ ہوتے وہ تو ایسی پکار کی کبھی پروا نہیں کرتے اور لگے رہتے اپنے ”شودے پن“ میں لیکن جو بیچارے کمزور اور ڈر پھوک قسم کے ہوتے ہیں وہ بیچارے شرمندہ ہوتے ہیں اور اگلی دفعہ سب کے سامنے شودے پن سے گریز ہی کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اکیلے ہو کر یا کہیں موقع پا کر اپنا شودہ پن کا چسکا پورا کر کے ہی چھوڑتے۔

جب بچے کسی کے گھر مہمان ہوں یا جب بچوں والے گھر میں کوئی مہمان آ جائے۔ تو ایسے فقرے عموماً دونوں صورتوں میں ہی سننے کو ملتے ہیں۔ تب یقین مانیں بچوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن والدین خاص کر ماؤں کی جان اٹکی رہتی کہ بچے کہیں شودے پن کا مظاہرہ ہی نہ کر دیں۔ لیکن بچے تو پھر بچے ہیں جناب۔ آپ کو تیار رہنا ہی پڑتا دوسروں سے سننے کو کہ ”کچھ نہیں ہوتا کھانے دو بچے ہی تو ہیں“ لیکن والدین جانتے ہیں کہ جانے کے بعد دوسروں کی جانے والی باتیں ”توبہ، دیکھا تھا کیسے“ شودوں ”کی طرح کھا رہے تھے اسک ے بچے۔ شکر ہے ہمارا گڈو ایسا نہیں ہے“ تب ان کا گڈو بھی معصوم سے صورت بناے مہمانوں کے آنے سے پہلے کی ماں کی ڈانٹ یاد کر رہا ہوتا ہے ”اگر تم نے مہمانوں کے آگے رکھی کوئی چیز کھائی تو دیکھنا پھر تم ہڈی پسلی ایک کر دوں گی تمہاری“۔

دوستو، یقین مانیں بڑے ہو کر جب اپنی کمائی کا جب مرضی اور جو مرضی کھاتے ہیں تو اس بچپن کے شودے پن کو بہت مِس کرتے ہیں۔ کہ کچھ چیزیں شرارتی بچپن کا حصّہ ہوتی ہیں، جو فطری ہونے کے ساتھ ساتھ پیاری و معصوم بھی اور یہ شودہ پن بھی ان میں ایک ہے۔ اگر آپ بڑے ہیں اور اپنے بچپن میں شودہ پن کرتے رہے ہیں تو اپنے بچوں یا چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی کرنے دیں نا ”رٙج“ کے ”شودہ پن“ تاکہ وہ بھی اپنی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں اور ان پر پڑنے والی ڈانٹ کو یاد کرتے مسکراتے ہوے گنگنا سکیں کہ ”میرے بچپن کے دن، کتنے اچھے تھے دن، آج بیٹھے بیٹھاے کیوں یاد آ گئے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •