تباہی کی طرف بڑھتی تحریک انصاف کی حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی کی طرف سے اچانک تین ٹی وی چینلز کی نشریات روکنے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں آزادی اظہار سلب کی جاچکی ہے لیکن سنسر شپ سے مسائل حل ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوی ایشن نے بھی اپنے تین ارکان اب تک، 24 نیوز اور کیپیٹل ٹی وی کی نشریات اچانک روکنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ مالکان کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی اختیار کے بغیر اور پیمرا قواعد کی روح کے منافی ہے۔ کسی اتھارٹی کو بھی ٹی وی چینل کو قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹس دینے اور متعقلہ چینل کی وضاحت سنے بغیر اس کی نشریات بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ آمرانہ حکومت میں تو اس قسم کی پابندی کا جواز تراشا جاسکتا ہے لیکن عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اختیار سنبھالنے والی حکومت اگر آمریت کے ہتھکنڈے اختیار کرے گی اور آزادانہ اظہار رائے کو معاشرہ یا خود اپنی اتھارٹی کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے بھونڈے طریقے سے انہیں روکنے کا طریقہ اختیار کرے گی تو وہ جمہوری نظام کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کا سبب بنے گی۔

پیمرا نے اتوار کو ملک کے 21 چینلز کو اس بنا پر نوٹس جاریکیے کہ انہوں نے ہفتہ کی شب لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی پریس کانفرنس کو ایڈٹ کیے بغیر لائیو کیوں نشر کیا۔ اس نوٹس کی بنیاد یہ اصول بنایا گیا ہے کہ عدلیہ اور سیکورٹی اداروں کے خلاف کوئی خبر یا رپورٹ نشر نہیں کی جاسکتی۔ اس پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ مبینہ طور یہ اعتراف کررہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ کے لئے انہیں بلیک میل کرکے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ ارشد ملک نے اس ویڈیو کی تردید کی ہے لیکن یہ تردید عذر گناہ بد تر از گناہ کے مصداق معاملہ کو واضح کرنے کی مزید الجھانے کا سبب بنی ہے۔ اس دوران مریم نواز نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ ان کے پاس اس سلسلہ میں مزید ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ گویا یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہؤا بلکہ مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز اس اسکینڈل کی بنیاد پر نواز شریف کو جیل سے باہر لانے اور ان کے خلاف الزامات کو بے بنیاد ثابت کرنے کی جنگ کا آغاز کرچکی ہیں۔

ارشد ملک کی ویڈیو ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد متعدد تجزیہ نگار یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اس معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ یہ مطالبہ اس لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں احتساب عدالت کے ایک ایسے جج پر دباؤ میں فیصلہ کرنے کا الزام لگایا گیا جو تین بار ملک کا وزیر اعظم رہنے والے شخص کو طویل المدت سزا دے چکا ہے اور اب کہا جارہا ہے کہ یہ فیصلہ شواہد کی بنیاد پر نہیں بلکہ دباؤ کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ کسی عام شہری کے خلاف بھی اس طریقہ سے دیے گئے فیصلہ کو قبول نہیں کیا جاسکتا لیکن جب شکایت کنندہ ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہو اور عدالتوں کا وقار اور ملک میں احتساب کا پورا انسٹی ٹیوٹ کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہو تو اس صورت حال سے جوابی الزامات کے ذریعے نہیں نمٹا جاسکتا۔ احتساب عدالت کے یہی جج اب آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف مقدمات کی سماعت کررہے ہیں۔ ان کی دیانت و غیرجانبداری پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیے بغیر نہ یہ ملک آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی عدالتی نظام کو منصفانہ قرار دیاجاسکتا ہے۔

اسی لئے اب ایڈووکیٹ راحیل کامران شیخ نے پاکستان بار کونسل کے تمام ارکان کو ایک خط میں تجویز دی ہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے جج ارشد ملک کے معاملہ میں سو موٹو نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جائے۔ خط میں کہا گیا کہ ’اس قسم کے واقعات سے ملک کے عدالتی نظام کی سالمیت اور اعتبار پر سوال اٹھتے ہیں۔ جس میں مبینہ طور پر ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ کا ادارہ کمزور ہے جس پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے‘ ۔ خط کے مطابق پی بی سی سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن بھی دائر کرے گی جس میں احتساب عدالت کے جج کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کے احکامات کی درخواست کی جائے گی۔ اس طرح صحافیوں اور مبصرین کے علاوہ ملک کے وکیلوں کی طرف سے بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ جج ارشد ملک کے معاملہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے ابھی تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ حتی ٰ کہ جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روکنے کا قدام بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

حکومت کی طرف سے شروع میں مریم نواز کے الزامات کو مسترد کرنے، اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملہ میں حکومت کو فریق بنانے سے گریز کرتے ہوئے اسے عدلیہ کی ذمہ داری قرار دے کر اجتناب کی کوشش ضرور کی ہے۔ تاہم نہ اس مسئلہ کی سیاسی ا ہمیت سے انکار ممکن ہے اور نہ ہی حکومت مکمل طور سے اس معاملہ سے خود کو بری الذمہ قرار دے سکتی ہے۔ خاص طور سے سیاسی سرگرمیوں کو ریاستی طاقت کے ذریعے روکنے اور ٹی وی چینلز کو ناپسندیدہ خبریں یا تبصرے شائع کرنے پر انتقام کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد حکومت کی خاموشی، ملک کی جمہوری اساس پر سنگین سوالات سامنے لاتی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن ضرور عمران خان کو نامزد کہتے ہوئے یہ دعویٰ کرے گی کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ اور عوام کی نمائندگی کرنے کی بجائے ریاست کے طاقت ور اداروں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ اسی لئے آزادیوں کو سلب کیا جارہا ہے اور سیاسی قیادت کو بدنام کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار ہورہا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1347 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali