پھپھو کی پسند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلدشتہ۔ گلدشتہ۔ گلدشتہ۔ امی کی آواز غوری میزائل کی طرح دل کو چھلنی کر رہی تھی۔ اس لمحے ہمیشہ کی طرح دل میں خواہش ابھری اپنا نام رکھنے والے کو امریکہ کے حوالے کر دوں یا شمالی کوریاکے متنازعہ ایٹمی میزائلوں کا رخ اس کی جانب موڑ دوں۔ بھلا کوئی اتنی خوبصورت بچی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ سوچ سمجھ کر بامعنی نام رکھنے کے بجائے فہد مصطفی کی طر ح ناموں کی پرچیاں نکالی جائیں۔ نام لکھنے والے بھی وہ جو ٹرکوں کی پشت پہ سجی سنوری نسوار زدہ خیالی حسینہ سے مکمل طورپر انسپائر ہوں، اور پرچی نکالنے والے وہ جنھیں امی کی ازلی دشمن، بھتیجے بھتجیوں کی حرکات و سکنات پہ رڈار کی طرح نظر رکھنے والی اور 8 بجے والے گرما گرم تجزیاتی پروگرامز کے میزبان کی طرح مصالحے لگا کر تبصرہ کرنے والی اور عرف عام میں ”پھپھو“۔

قسم سے اس بار تو انہوں نے کوئی دیرینہ دشمنی نکالی تھی امی سے۔ ان کی اکلوتی لاڈلی بیٹی کا انوکھا نام تجویز کر کے۔ اس سے کئی گنا بہتر تھا سیدھا گلدستہ ہی رکھ دیتے کم از کم انگریزی میں ”بوکے“ تو کہلوا سکتی، پر ہائے رے بیچاری قسمت جو ددھیال والوں کے ہاتھوں بری طرح سے پھوٹی۔ کتنا خوبصورت نام سوچا تھا نا نچھی خالہ نے ”قندیل“ سوچ کر ہی ہر طرف روشنی پھیل جاتی اور گڈو ماموں تو بتول رکھنا چاہتے تھے پر نہیں ننھیال والوں کی سنتا ہی کون ہے۔ ”گلدشتہ زندہ ہو یا تمھارے کفن دفن کا بندوبست کریں“۔ یہ نجم بھائی کی آواز تھی ”تمھارا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا آ رہی ہوں“۔

” یہ پھپھو ہر چوتھے روز ہمارے گھر کیوں آ دھمکتی ہیں“۔ ہمیشہ کی طرح پھپھو سکینہ کے جانے کے بعد اس نے سوال دہرایا۔ ”20 سالہ پرانا سڑا ہواسوال پوچھتے ہوئے تمھیں عجیب نہیں لگتا“۔ نجم نے چڑکر کہا ’تمھیں ان کے روز آنے سے چڑ نہیں ہوتی میرے سوال بڑے برے لگتے ہیں ”۔ اس نے نجم کے ہاتھ سے موبائل لیا۔ “ وہ بچاری 5۔ 4 گھنٹے کے لیے آ جاتی ہیں تو تمھارا کیا لیتی ہیں ”۔ نجم نے فون واپس چھینتے ہوئے کہا۔ “ تمھارا زنانہ نام رکھنے اور میرا احمقانہ نام تجویز کرنے کے علاوہ بھی کچھ لینا باقی ہے ”؟

گلدشتہ کی تان ہمیشہ نام پرآ کر ٹوٹتی ”۔ “ توبہ ہے اب بس بھی کرو کان پک گئے میرے یہ نام والے طعنے سن سن کر ”۔ نجم اٹھ کھڑا ہوا۔ “ تم ان کی زیادہ ہی حمایت نہیں کرنے لگ گئے ایک منٹ یہ کہیں ان کی موٹی ناک اور چھوٹی آنکھ والی فرحین پہ دل تو نہیں آ گیا ”۔ وہ بھی مقابل آن کھڑی ہوئی۔ “ تم جو بھی سمجھو ”۔ نجم ذومعنی مسکراہٹ لیے غائب ہو گیا۔ “ نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا ”۔ وہ ہسٹریائی انداز میں کہتی ہوئی صوفے پہ ڈھے گئی۔

اف ان دوھیالی رشتے داروں نے تو بچپن سے ہی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ اب ہمارے مستقبل کو تباہ کرنے کے خفیہ منصوبے بنا رہے تھے۔ امی کو کریدنے پہ علم ہوا کہ پھپھو نجم کا اور چچا میرا رشتہ مانگ رہے ہیں۔ میں نے تو امی سے صاف کہہ دیا کہ میں انٹر نیٹ کی تار کاٹ کر اس سے پھندا لے لوں گی لیکن چچا کے بیٹے سے شادی نہیں کروں گی، نچھی خالہ کے بیٹے کا رنگ ذراگہرا ہے تو کیا ہوا میں بھی تو فائزہ بیوٹی کریم لگاتی ہوں ذرا سا ہاتھ اس کے منہ پہ بھی پھیر دوں گی۔

میری بات سن کر امی نے شدت خوشی سے میرا ماسک لگا منہ بھی چوم لیا اور اپنی بات پہ باپ کے سامنے بھی قائم رہنے کی قسم دے لی جو گلے میں اٹکا تھوک بمشکل نگل کر لے لی۔ رہی بات نجم کی تو وہ امی نے دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دی ڈالی۔ جواب میں اس نے امی سے پوچھا کون سا نیڈو یا ملک پیک۔ جواب تو ان کے پاس تھا نہیں سو اس صورتحال اور نند کی بیٹی سے بچنے کے لیے امی نے غشی کے دورے کا سہارا لیا۔ دشمن کی فوج کا سپہ سالار گھر لانے کا مطلب وہی تھا جو کارگل کے محاذ پہ پاکستانی فوج کے واپس جانے کا تھا۔

یعنی یقینی موت۔ تو بیٹے کو اس انتہائی قدم اٹھانے سے روکنے کے لیے امی سے جو بن پایا وہ انہوں نے کیا۔ کم تو میں یعنی گلدشتہ بھی نہیں تھی پھپھو سے متعلق فیس بک پہ آنے والے تمام ارشادات پہ نجم کو ٹیگ کیا۔ دوھیالی تمام رشتے داروں کے عزیزوں تک کو فیس بک سے ڈیلیٹ کرواکے بلاک بھی کیا۔ بھلا ان کو کیا حق حاصل تھا کہ ہماری نجی زندگی میں ”پوک“ کریں۔ اس لیے ان کی طرف جانے والے تمام زمینی اور سگنلی رابطے منقطع کر دیے۔ اور سکھ کا سانس لیا۔

ابو کی بے جا زبردستی اور مداخلت کے باوجود امی نے مجھے پیاری نچھی خالہ کی بہو بنا دیا۔ پھپھو اور چچاکے خاندان سے دوری پہ مجھے اپنی بچی کچھی زندگی پہ رشک آنے لگا اسی خوشی میں میں نے اپنے پیاری دوست عمارہ کو نجم کی دلہن بنانے کا فیصلہ کیا۔ من چاہی بھابھی لانے کا خیال ہی خوبصورت تھا۔ نجم نے نا چاہتے ہوئے بھی حامی بھر لی۔ میں نے بھی اکلوتے بھائی کی شادی پہ دل کے خوب ارمان پورے کیے۔ ہر رسم میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔

فرحین کے چہرے پہ چھائی مایوسی، نجم کی آنکھوں کی اداسی اور پھپھو کی شکل پہ بجے 12 مجھے بہت تسکین دے رہے تھے۔ سال یوں پل بھر میں بیت جائے گا خبر نہ تھی۔ پیاری نچھی خالہ سال بھر میں ہی ہمسایہ ملک کے ڈراموں والی ساس بن گئی تھیں جو کبھی بہو بھی تھی یعنی پیدائشی مظلوم، اور گلدشتہ یعنی میں مزید مظلوم ہو گئی۔ حالانکہ ان کے کالے کلوٹے بیٹے سے میرے جیسی گلابی رنگت والی گلدشتہ فون پہ بات نہ کرئے میں نے تو سیدھی شادی کر لی۔

میری یہ قربانی بھی رائیگاں گئی ان کی دوپستہ قد بیٹیوں کو چھہ ماہ میں ہی چلتا کیا، میرا مطلب ہے بیاہ دیا۔ وہ نیکی بھی کام نہ آئی حالانکہ ایک کے شوہر کی اپنی پنکچر کی دکان تھی خوب چلتا ہوا کاروبار تھا اور دوسرا تو پڑالکھا بھی تھا۔ اکیڈمی میں پڑھاتا تھا بس بہن بھائی ذرا چھوٹے تھے اور صرف 6 ہی تو تھے۔ پر کیا کریں جی بھابیاں تو ہوتی ہی بری ہیں اور نندیں ہمیشہ مظلوم میری ا امی کی نند کی طرح۔

نجم کے منے کی پیدائش کی خبر کا فون آیا میں تو خوشی سے نہا ل ہو گئی۔ بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچی جاتے ہی کب سے چھپائے آنسو چھلک پڑے۔ ”اتنی بڑی بات ہو گئی مجھے اب خبر کی رخصت ہو کر گئی ہوں مری نہیں ہوں یوں غیریت برتی سب نے میرے ساتھ“۔ میرا حال برا تھا۔ ”ایسی بات نہیں ہے یہ سب ایمرجنسی میں ہواہم تو معمول کے وزٹ پہ آئے تھے“۔ نجم نے صفائی پیش کی۔ ”ایک فون تو کر سکتے تھے نا کہ ایمرجنسی ہو گئی ہے آدھے گھنٹے کے فاصلے پہ رہتی ہوں کوئی دوسرا براعظم تو نہیں تھا۔

جیسے ہی سنتی دوڑی چلی آتی مگر نہیں مجھے کیوں بتاتے میری ضرورت ہی کیا تھی تم دونوں کو۔ جن کی تھی وہ پہنچے ہوئے ہیں ”۔ میں نے عمارہ کی بہن کو دیکھ کر کہا۔ “ اور عمارہ تم۔ تم نے تو صحیح بھاوج بن کے دکھایا ”۔ میری آنکھوں میں سونامی تھا جسے وہ بے حس دیکھ نا سکی بھلا اتنی لمبی بے ہوشی کب ہوتی ہے آپریشن کے بعد۔ “ کیا ہو گیا ہے گلدشتہ اب آ گئی ہو نابس کرو دیکھو عمارہ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے گلے شکوے پھر سہی ”۔

نجم نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی۔ ”امی۔ امی دیکھ لیں اس کو کیسے جتا رہا ہے، خود نہیں آئی تم نے ہی بلایا ہے مری نہیں جا رہی تھی آنے کو میری اپنی طبعیت ٹھیک نہیں رہتی کوئی انوکھی بیمار نہیں ہے تمھاری بیوی، پر تمھارا قصور نہیں ہے بیوی کے سامنے بہن کی عزت کہاں؟ “ میں دوپٹہ منہ پہ ڈال کر رو دی۔ دکھی جو بہت تھی۔ امی دلاسے دے رہی تھیں اور میرا بے حس بھائی بیوی کے سرہانے بت بنے کھڑا تھا۔ ”ارے چھوڑو گلے شکوے یہ دیکھو کتنا پیارابھتیجا دیا ہے اللہ نے تمھیں بہت مبارک ہو“۔

عمارہ کی بہن نے کمبل میں لپٹا گول مٹول پیارا سا بچہ تھمایا۔ اسے گود میں لیتے ہی میرے سارے گلے شکوے دور ہوگئے اسے پیار کیا اور سینے سے لگا کر بولی ”میراعبدالشکور میرا بھتیجا“۔ عمارہ کی بہن اور نجم کو جانے کیا سوجھی مجھے ایسے گھور رہے تھے جیسے آنکھوں سے ہی کھا جائیں گے میں نے بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کیونکہ میں تو خوش تھی اپنے عبدالشکور کے ساتھ۔ نام جو میری پسند کا تھا یعنی اس کے پھپھو کی پسند کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •