بھارت کا بے لچک رویہ اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں اتنے زیادہ مسائل درپیش ہیں کہ بھارتی انتخابات میں ایک بار پھر نریندر مودی کی کامیابی پس منظر میں چلی گئی ہے۔ کم کم ہی تجزیے دکھائی دیے کہ انتہا پسندانہ سوچ کے حامل، مسلم کش اور پاکستان دشمن مودی کی کامیابی ہمارے لئے کیا مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یوں تو پاکستان دشمنی بھارت کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے۔ وہاں کوئی بھی جماعت اقتدار میں ہو اور کوئی بھی سیاستدان وزیر اعظم کی کرسی پہ بیٹھا ہو، اس سے خیر سگالی اور دوستی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

لیکن نریندر مودی کی پوری سیاست ہی مسلم بیزاری پر مبنی ہے۔ گجرات کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے جس بے دردی سے اس نے مسلمانوں کا خون بہایا، اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ اس نے بھارت کے نام نہاد سیکولر ازم کا پردہ بھی چاک کر دیا ہے۔ وہ کھلے بندوں انتہا پسندانہ ہندو سو چ کا نعرہ لگاتا اور مسلمانوں کے خلاف بغض نکالتا ہے۔ اس نے پہلا الیکشن بھی اسی نظریے کی بنیاد پر لڑا اور جیتا تھا۔ یہ الیکشن بھی اسی نظریے پر لڑا اور بھاری اکثریت سے جیتا ہے۔ اب تو اسے دو تہائی اکثریت بھی حاصل ہو گئی ہے اور وہ اپنی مرضی سے آئینی ترامیم بھی کر سکتا ہے۔ اس کی انتخابی مہم کا ایک بڑا نعرہ پاکستان دشمنی بھی رہا۔ پلواما کی آڑمیں اس نے پاکستان پر فضائی حملہ بھی کیا لیکن اسے منہ کی کھانا پڑی۔ اس کے باوجود وہ ہر جلسے میں پاکستان کو بری طرح نشانہ بناتا رہا۔

گزشتہ ہفتے بھارت کی پاکستان دشمنی کی ایک اور واردات سامنے آئی۔ آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے چند میٹر دور چھمب سیکٹر میں برنالہ کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے کا واقعہ پیش آیا جس میں پاک فوج کے پانچ جوان شہید ہو گئے۔ دو طرفہ سیز فائر کا معاہدہ ہوتے ہوئے اس طرح کی واردات کو یقینی طور پر ریاستی دہشت گردی ہی کہا جا سکتا ہے۔ لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت سرحد پر بھی آئے روز اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اکثر ان میں معصوم سویلین بھی نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن مودی حکومت کے منفی طور طریقے جاری رہے۔

پتہ نہیں کس بنیاد پر وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی انتخابات سے قبل توقع ظاہر کی تھی کہ اگر مودی جیت گیا تو بھارت کے ساتھ معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ ممکن ہے ان کے علم میں کوئی راز کی ایسی بات ہو جو عام لوگ اور خارجہ امور کے ماہرین نہیں جانتے لیکن ظاہری طور پر کوئی ایک بھی ایسی وجہ دکھائی نہیں دیتی جس کی بنیاد پر مودی جیسے متعصب اور سر سے پاوں تک پاکستان دشمنی میں گندھے شخص سے بہتری کی کوئی امید وابستہ کی جائے۔

مودی کی کامیابی کے فورا بعد عمران خان نے مودی کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے ٹیلی فون کر کے مبارک باد دی اور نیک توقعات کو اظہار کیا۔ چند دن بعد ایک خط کے ذریعے عمران خان نے تیسری بار نریندر مودی کو مبارک دی اور امید ظاہر کی کہ باہمی مسائل کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے گا۔ شاید خیال یہ تھا کہ نریندر مودی عمران خان کو بھی اپنی تقریب حلف برداری میں بلا لیں گے۔ جس طرح انہوں نے 2014 میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو دعوت دی تھی۔ لیکن اس بار مودی نے سارک ممالک کے دوسرے سربراہان کو تو بلا لیا، لیکن عمران خان کو نظر انداز کر دیا۔ یہ ایک واضح پیغام تھا کہ مودی کی سوچ اب بھی بے لچک اور متعصبانہ ہے۔

جون کے اوائل میں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO ) کا اجلاس ہوا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے پس پردہ رہتے ہوئے کوشش کی کہ دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات ہو جائے۔ لیکن اجلاس شروع ہونے سے بھی پہلے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اعلان کر دیا کہ مودی کا وزیر اعظم عمران خان سے ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ اسی دوران جون کے دوسرے ہفتے میں پاکستانی پریس میں بڑی بڑی سرخیاں لگیں کہ بھارتی وزیر اعظم مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

اس خبر کو خوب اچھالا گیا۔ کئی ٹاک شوز ہوئے۔ اسے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ لیکن اگلے ہی دن ایک بھارتی ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے مبارک باد کے خط کا رسمی جواب دینے کا مطلب یہ ہر گزنہیں کہ بھارت مذاکرات کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ ہم نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ بلکہ وزیر اعظم مودی نے تو یہ کہا ہے کہ دہشت گردی اور جارحیت کا سلسلہ ختم کر کے اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔ جون کے آخر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لئے ایک غیر مستقل ممبر کا انتخاب ہوا۔ پاکستان نے دوسرے پچاس سے زائد ممالک کے ساتھ بھارت کے حق میں ووٹ دیا۔

سچی بات یہ ہے کہ بھارت کا یہ رویہ غیر متوقع نہیں۔ خاص طور پر نریندر مودی سے کسی طرح کے مثبت ردعمل کی توقع رکھنا بھی دانش مندی کے خلاف ہے۔ بھارت کا ان دنوں سب سے بڑا مقدمہ یہ ہے کہ عالمی سفارتی سطح پر پاکستان کو تنہا کر دیا جائے۔ دنیا بھر میں پھیلے اس کے سفارت خانوں کی سب سے بڑی ترجیح یہی ہے۔ ایسا سوچنا خود فریبی ہو گی کہ بھارت اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کے لئے بھارت ایک عرصے سے کوشاں تھا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے مستقل رکن کی حیثیت سے چین ہمیشہ ہمارے کام آتا تھا۔ مئی میں چین نے اپنا ٹیکنیکل ہولڈ ختم کر دیا اور مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ چین کے وزن کو اپنے پلڑے میں ڈلوا لینا یقینا بھارت کی بڑی کامیابی تھی اور ہمارے لئے ایک بڑا لمحہ فکریہ۔

یہی کیفیت فاٹف (FATF) میں ہے جہاں ہمارے سر پر یہ ننگی تلوار لٹک رہی ہے کہ کہیں ہمیں بلیک لسٹ میں نہ ڈال دیا جائے۔ 2013 میں ہم بلیک لسٹ میں تھے۔ اس وقت کی حکومت کی کوششوں سے ہم پہلے گرے اور پھر وائٹ لسٹ میں آگئے۔ پانامہ کے بعد جب اکھاڑ پچھاڑ اور زوال کا سفر شروع ہوا تو ایک بار پھر ہم گرے لسٹ میں چلے گئے۔ فاٹف میں بھی ہمارا سب سے بڑا دشمن بھارت ہی ہے جو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہمیں گرے لسٹ سے نہ نکالا جائے۔ بظاہر بھارت کا دباؤ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت بدستور پاکستان کے مختلف حصوں میں تخریب کاری کی وارداتیں کر رہا ہے۔ سی پیک میں رخنہ ڈالنے کے لئے بھی اس کی کوششیں زوروں پر ہیں اور اسے کسی قدر کامیابی بھی ملی ہے۔ اس کی بہت بڑی منڈی دنیا بھر کے لئے کشش کا باعث ہے۔ اسے امریکہ کی تائید بھی حاصل ہے۔ پاکستان اپنے داخلی مسائل خاص طور پر تیزی سے خراب ہوتی معیشت کے سبب نہایت دباؤ میں ہے۔ شاید اسی دباؤ کی وجہ سے ہمارے پالیسی سازوں کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن بھارت کا جارحانہ اور متکبرانہ رویہ ہماری کسی بات کو اہمیت نہیں دے رہا۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کے مظالم میں مزید شدت آگئی ہے اور دنیا میں کوئی ملک نہیں جو اس کے اس طرز عمل کی مذمت کرئے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی یہ امید پوری نہیں ہوئی کہ مودی جیت گیا تو پاک بھارت تعلقات میں بہتری آ جائے گی۔ ہم جتنا بھی جھکیں گے، بھارت اتنا ہی متکبر ہوتا جائے گا۔ ہمیں تعلقات کی بہتری کی کوشش ضرور کرنی چاہیے لیکن یہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارا پالا کس مودی یا موذی سے پڑا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •