کتاب دریچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ایک لفظ سے سطر در سطر ورق آباد کرنے کا ہنر آساں نہیں ہوتا۔ اور پھر ان اوراق کی حسنِ ترتیب سے کتابی شکل اختیار کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور میرے جیسے دلِ ناکردہ کار کے حامل افراد کو کتاب لکھنا پہاڑ لگتا ہے۔ مگر ذہنِ رسا رکھنے والے کتابوں کے پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں اور فرہاد صفت لوگ کتابوں کے پہاڑوں سے جوئے علم نکال لاتے ہیں۔ اور کئی گمنام شہید علم کے پہاڑوں اور ندیوں کی خواندگی کرتے کرتے جاں سے بھی گزر جاتے ہیں۔ کتابیں گفتگو کرتی ہیں۔ تنہائی کے صحراؤں کا سفر آسان کر دیتی ہیں۔ کتاب ایک کھلے دل کے سخی کی مانند ہوتی ہے۔ ہر کسی کو کچھ عطا کرتی ہے۔ کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی۔ جہالت اور محکومی کی خزاؤں میں کتابوں کے گلابوں سے بہار آتی ہے۔

ایک چینی کہاوت ہے ”کتاب ایک باغ ہے جو آپ کی جیب میں ہے“۔ کتابوں کو ساتھ ر کھنے والے بند کھڑ کیوں سے کبھی نہیں گھبراتے۔ کتاب تازہ ہوا کا خوش گوار جھونکا ہوتاہے جوہماے جیسے حبس اور ہوس زدہ معاشروں کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے۔

پرانے وقتوں میں لوگ علم کی پیاس بجھانے کے لٔے ملکوں ملکوں سفر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ پرو فیسر آرنلڈاور مولانا شبلی نعمانی کتابوں کی جستجو میں بحری جہاز پر ہندوستان سے مصر جا رہے تھے۔ دورانِ سفر پتہ چلا کہ جہاز کا انجن ٹوٹ گیاہے اور جہاز آ ہستہ آہستہ ہوا کے سہارے چلا جا رہا ہے۔ مولانا شبلی پریشانی اور گھبراہٹ کے عالم پروفیسر آ رنلڈ کے پاس گئے تو وہ نہایت اطمینان سے کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔ مولانا نے پوچھا آپ کو کچھ خبر ہے؟ پرفیسر آرنلڈ نے جواب دیا ہاں جہاز کا انجن ٹوٹ گیا ہے۔ مولانا نے پوچھا آپ کو کچھ اضطراب نہیں بھلا یہ کتاب پڑھنے کا موقعہ ہے؟ کہنے لگے اگر جہاز کو برباد ہی ہونا ہے تویہ تھوڑا سا وقت بہت قیمتی ہے اس کو ضائع کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔

کتابوں کے ساتھ گزرا ہواوقت رائیگاں نہیں جاتا۔ تخلیقی کتابیں پڑھنے سے نیند اڑ جاتی ہے۔ اسلامی تاریخ کے سنہری دور کے ایک فلسفی، عالم، مصنف اور جدید طب کے بانی بوعلی سینا کو لڑکپن میں ریاضی او ر الجبراکا علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا لیکن کتابوں کا ذخیرہ بخارا کے سلطان کے پاس تھا جہاں کسی کی رسائی نہ تھی۔ بخاراکے سلطان کو قولنج کی بیماری تھی جس کا علاج کرنے والے کو منہ مانگا انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

بو علی سینا نے طب کا علم حاصل کرناشروع کر دیا اور جب قولنج کا علاج دریافت کر لیا تو سلطان کا علاج کیا اور انعام کے طور پر سلطان سے کتب خانے سے استفادہ کرنے کی درخواست کی۔ سلطان نے ایک سال کے لئے کتب خانے تک اس شرط پر رسائی دی کہ کسی کتا ب کی نقل تیار نہیں کی جائے گی۔ بو علی سینا نے ایک سال دن رات اس کتب خانے سے استفادہ کیا اور اپنی دلچسپی کی تمام کتابیں زبانی یاد کر لیں۔ یہ تھا کتابوں سے محبت کا عالم۔

جن قوموں نے کتابوں سے رشتہ استوار رکھا وہی قومیں عروج حاصل کر سکیں۔ علامہ اقبال نے بھی یورپ کی ترقی میں کتابوں کے کردار کے حوالے سے کتابوں کو علم کے موتی قرار دیا۔

مگر وہ علم کے موتی، کتا بیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

معروف ڈرامہ نگار، اداکار، اینکر اور مصور انور مقصود کہتے ہیں کہ جب ہمارا خاندان ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تو ہمارے والدین تین صندوق ساتھ لائے تھے اور تینوں صندوق کتابوں سے بھرے ہوئے تھے۔ گویا ان کے پاس سب سے قیمتی اثاثہ صرف کتابیں ہی تھیں۔ جس گھر میں کتاب نہ ہو وہ ایک ایسے جسم کی مانند ہوتا ہے جس میں روح نہیں ہوتی۔

جہالت زدہ سماج کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے کتاب کی روشنی درکار ہوتی ہے۔ کتاب انسان کوعلم اور شعور دیتی ہے انسان کودرندہ اور وحشی نہیں ہونے دیتی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد امرتا پریتم سے ایک بھارتی فوجی ملنے آیا اور اس نے بتایا کہ ہم مشرقی پاکستان سے خواتین کو کشتیوں میں لا د کر بھارت میں قائم مہاجر کیمپوں میں رکھتے تھے۔ ان عورتوں میں نوجوان خوبرو لڑکیاں بھی ہوتی تھیں۔ جو ہماری دسترس میں تھیں۔ مواقع موجود ہونے کے باوجود کسی کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈال سکا۔ اور اس ظلم سے مجھے آپ کی کتابوں کے مطالعہ نے بچایا ہے۔ اس لئے آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔

ایک ہی کتاب مختلف لوگوں کو مختلف ذائقوں سے شناسا کرتی ہے۔ اچھی کتاب ایک بار پڑھنے سے سب کچھ نہیں دیتی۔ بار بار پڑھنے سے نئے نئے در وا ہوتے ہیں۔ اسی لئے فیض صاحب کے سرہانے ہمیشہ دیوانِ غالب موجود رہتا ہے۔

1972 ء میں پڑ ہے لکھے وزیرِا عظم ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل بک فاؤنڈیشن قائم کیا اور پاکستان نیشنل سنٹر کے نام سے تمام بڑے شہروں میں علمی، ادبی او ر قومی تقریبات کے لئے دانش گاہیں اور مطالعے کے لئے کتب خانے قائم کر دیے۔ 1999 ء میں حکومتِ پاکستان نے یہ دانش گاہیں اور کتب خانے بند کر دیے۔ اور قومی تاریخ کا یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ جس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ علم دشمن حکمران کتابوں کی گلیاں اُجاڑ کر کھابوں کی گلیاں (فوڈ سٹریٹ) آباد کرتے رہے۔

ہلاکو خان کہا کرتا تھا کہ قلم آزار بند ڈالنے کے لئے اور کتاب آگ تاپنے کے لئے ہوتی ہے۔ اس لئے اس نے بغداد کے بہت بڑ ے کتب خانے ( ہاؤس آف وزڈم) کو آگ لگا دی تھی۔ تاریخ نے ہلاکو خان کو معاف نہیں کیا۔ اسے ظالم اور علم دشمن قراردیا۔ مگرپاکستان میں کتب خانے بند کرنے والوں کوکسی نے علم دشمن قرار نہیں دیا۔ اور ہمارے حکمرانوں کو لوگوں کی یہی شعوری سطح مطلو ب و مقصود تھی۔

موجودہ دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک میں کتب خانے عالی مقام ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کے شہر واشنگٹن کے مرکزی چوک میں تین اہم ترین اداروں کی بہت بڑی عمارات ہیں۔ سپریم کورٹ۔ پارلیمنٹ ہاؤس۔ اور لائبریری۔

ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ہر چیز انٹرنیٹ پر دستیاب ہے اس لئے کتاب کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ مگر انٹرنیٹ بنانے والے آج بھی کتاب کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان ممالک میں جہاز پر، ٹرین پر، یا بس پر سفر کرنے والے ہر انسان کے بیگ میں کوئی کتاب، رسالہ، اخبار ضرور ہوتے ہیں اس لئے دورانِ سفر وہ لوگ مطالعے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کتاب کی اشاعت لاکھوں میں ہوتی ہے۔ اور پاکستان میں سینکڑوں میں ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اخلاقی گراوٹ اور شعوری سطح پست ہونے کی بڑی وجہ کتاب سے دوری ہے۔ پاکستان کے ترقی یافتہ نہ ہونے کی دوسری بہت سی وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ کتاب سے لا تعلقی ہے۔ جس کا کسی کو ادراک ہی نہیں۔ اور احساس بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
منظور حسین کاسف کی دیگر تحریریں