لاہور میں رنجیت سنگھ کا مجسمہ کس نے لگوایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید عزیز الدین کے انگریزوں کے ساتھ قریبی مراسم ہونے کی بناء پر ان کی زندگی میں ہی ان کے بیٹے فقیر سید شاہ دین کو 1835 ء میں لُدھیانہ کا برٹش پولیٹیکل افسر تعینات کیا گیا۔ فقیر سید چراغ الدین کو 1838 ء میں جیسروتا کا گورنر بنایا گیا، کتنا دلچسپ امر ہے کہ سید عزیز الدین خود رنجیت سنگھ کی حکومت میں شامل تھا تاہم اس کی زندگی میں ‌ ہی اس کے بیٹوں کو انگریز حکومت میں ‌ ملازمتیں مل گئیں۔ بیٹے سید جمال الدین کو برطانوی سرکار نے حافظ آباد میں تحصیل دار لگا دیا بعد ازاں پنجاب سیکرٹیریٹ میں میر منشی کا عہدہ ملا اور ریٹائرمنٹ کے وقت 100 روپیہ ماہانہ پنشن مقرر ہوئی جب کہ ہزار روپیہ پولیٹیکل الاؤنس ملتا رہا۔

فقیر سید جمال الدین ریٹائرمنٹ کے بعد 1883 ء کو لاہور میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تعینات کر کے فُل مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیے گئے۔ فقیر عزیز الدین کے چھوٹے بیٹے رُکن الدین کو انگریز سرکار کی جانب سے 1000 روپیہ ماہانہ پنشن ملتی رہی۔ عزیز الدین کے بڑے بیٹے ناصر الدین کا 1814 ء میں قتل ہو گیا تھا۔ انگریز سرکار کے ریاست بہاولپور کے نوابوں کے ساتھ اچھے مراسم تھے چنانچہ فقیر عزیز الدین کے پوتے سراج الدین کو ریاست بہاولپور میں فقیر سید سراج الدین کو وزیر کا عہدہ ملا۔

دی پنجاب چیفس میں ایچ ڈی کریک لکھتا ہے کہ فقیر عزیز الدین کا خاندان انگریز سرکار کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ گویا فقیر عزیز الدین کے بھائی فقیر امام الدین کے پوتے فقیر معراج الدین کو 500 روپیہ ماہانہ پنشن دی جاتی رہی۔ فقیر عزیز الدین کے تیسرے بھائی فقیر نور الدین کو پنجاب پر قبضے کے بعد برطانوی حکومت میں نوکری ملی اور 1850 ء میں حکومت نے نور الدین کا سالانہ اعزازیہ 20,885 روپیہ مقرر کیا۔ فقیر نور الدین کے چار بیٹوں فقیر ظہور الدین، شمس الدین، فقیر سید قمر الدین اور فقیر حافظ الدین کا انگریز سرکار نے اعزازیہ مقرر کیا، جو بالترتیب پانچ سو چالیس روپیہ، سات سو بیس روپیہ اور ایک ہزار روپے تھا۔

نور الدین کے انتقال پر یہ اعزازیہ بڑھا کر 1200، 400 اور 1080 روپے کر دیا گیا۔ فقیر عزیز الدین کے بھائی فقیر نور الدین کے بیٹے فقیر ظہور الدین کو 1855 ء میں انگریز نے چونیاں کا تحصیل دار تعینات کیا، 1843 ء میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر مقرر ہوئے۔ 1883 ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد 27 سالہ حکومتی سروس کے عوض 315 روپیہ ماہانہ پینشن مقرر ہوئی اور سالانہ 1200 روپے فیملی الاؤنس مقرر کیے گئے۔ فقیر ظہور الدین کو ریٹائرمنٹ پر گجرانوالہ میں 500 ایکڑ اراضی عطیہ ہوئی اور صوبائی درباری کا عہدہ دیا گیا۔ اس کی زندگی میں ‌ہی اس کے اکلوتے بیٹے نوبہار الدین کو 1880 ء میں انگریز حکومت میں تحصیل دار مقرر کر دیا گیا تھا۔ ظہور الدین کی بیٹی کی شادی اس کے بھتیجے ظفر الدین سے 1877 ء میں ہوئی جسے ریلوے پولیس میں ڈپٹی سپرینڈنڈنٹ کا عہدہ دیا گیا۔

فقیر سید عزیز الدین کے بھائی فقیر نور الدین کے بیٹے فقیر شمس الدین گوبند گڑھ فورٹ میں تھانیدار تھا اور سکھوں کے ساتھ انگریزوں کی دوسری لڑائی میں فقیر شمس الدین نے انگریزوں کے لیے کام کیا۔ اس وفاداری کے عوض فقیر شمس الدین کو 1842 ء میں لاہور کا اعزازی مجسٹریٹ تعینات کیا گیا۔ شمس الدین کے بڑے بیٹے برہان الدین کو نائب تحصیل دار مقرر کیا گیا اور وفاداری کے عوض خان بہادر کا خطاب دیا گیا۔ فقیر برہان الدین کو رائے وند میں 900 ایکڑ اراضی عطیہ کی گئی۔

شمس الدین کے دوسرے بیٹے فقیر شہاب الدین کو نائب تحصیل دار اور پھر انسپکٹرز آف سکولز ان لاہور تعینات کیا گیا۔ فقیر عزیز الدین کے بھائی فقیر نور الدین کے پوتے نوبہار الدین کے دو بیٹے تھے، فقیر اقتدار الدین، فقیر سید افتخار الدین۔ ان دونوں نے اپنے دادا فقیر ظہور الدین کی جگہ صوبائی دربار میں نشست سنبھالی۔ فقیر سید افتخار الدین کی بیٹی مبارک بیگم کی شادی سید مراتب علی سے ہوئی جن کے یہاں سید بابر علی کی پیدائش ہوئی جو پاکستان کے نامور صنعت کار ہیں۔

فقیر سید افتخار الدین 1886 ء میں انگریز حکومت میں شامل ہوئے اور 1899 ء میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ پنجاب حکومت میں میر منشی کا عہدہ ملا بعد میں راولپنڈی بطور ریونیو اسسٹنٹ تبادلہ ہوگیا اور پھر اسسٹنٹ سیٹلمنٹ افسر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد حکومت نے 1907 ء میں انھیں افغانستان میں اتاشی مقرر کیا۔ انگریز سرکار نے انھیں وفاداری کے عوض لائل پور میں ایک ہزار ایکٹرز اراضی عطیہ کی اور لاہور میں 200 ایکٹرز اراضی دی گئی، ان کے بھائی اقتدار الدین پولیس میں تعینات ہوئے۔

فقیر نور الدین کے تیسرے بیٹے فقیر سید قمر الدین کو 1845 ء میں سر ایف کیوری نے ریذیڈنٹ لاہور تعینات کیا۔ 1882 ء میں 500 روپیہ خلات دی گئی اور اسی سال لیفٹیننٹ گورنر سر رابرٹ ایجرٹن نے فقیر سید نور الدین کو لاہور 700 ایکٹرز زمین عطیہ کی اس زمین پر سید قمر الدین نے اپنے بیٹے جلال الدین کے نام پر جلال آباد گاؤں آباد کیا۔ ملکہ برطانیہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر 1887 ء میں سید قمر الدین کو خان بہادر کا خطاب دیا گیا اور یکم جنوری 1909 ء میں Companionship of the Order of the Indian Empire بھی دیا گیا۔

سید قمر الدین کا بڑا بیٹا فقیر سید ظفر الدین ریلوے پولیس لاہور میں ڈپٹی سپریٹنڈنٹ تعینات ہوا جسے خان صاحب کا خطاب دیا گیا۔ ان کے بیٹے جلال الدین کو ایچی سن کالج میں تعلیم دلوائی گئی اور 1899 ء میں منصنف کا عہدہ ملا اور 1907 ء میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر لاہور تعینات ہوا۔ فقیر عزیز الدین کے بھائی نور الدین کے چوتھے بیٹے فقیر حافظ الدین 1886 ء میں پنجاب میں تحصیل دار تعینات ہوئے۔ فقیر سید افتخار الدین انگریز کے مراعات یافتہ تھے، افغانستان میں اتاشی مقرر ہونے کی بناء پرسید افتخار الدین نے اپنے داماد کو افغان حکمرانوں کے ساتھ متعارف کرایا چنانچہ اس دوران بادشاہ کے وفد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سید مراتب علی کو سونپ دی گئی، افغان حکمران خاندان کے ذریعے سے سید مراتب علی دہلی سلطنت پر قابض انگریز سرکار سے متعارف ہوئے۔ سید افتخار الدین کا داماد ہونے کی بناء پر برطانوی فوج کی نگہداشت کے متعدد کنٹریکٹس سید مراتب علی کو ملنا شروع ہوگئے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •