گالیاں جو زندہ رہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برائی کسی وادی میں لگائی صدا کی طرح واپس پلٹ کر انسان کے پاس چلی آتی ہے۔ یہ برے انسان کی پانی پر تیرتی پرچھائی بن جاتی ہے جو ہر لحمے اُس کا منہ چڑاتی رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا بیج ہے جو تناور درخت بننے تک انسان کو دکھائی نہیں دیتا مگر اچانک اِس کی چھاؤں ذلت کی برچھیاں بن کر انسان کی رگ رگ میں پیوست ہونے لگتی ہیں۔ تب انسان پلٹ کر بھاگنا چاہتا ہے، اپنے بولے برے الفاظ سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے مگر برائی اُس کے پیروں کی زنجیر بن کر اُسے جکڑے رکھتی ہے اور اُن بد کلمات کے کفارے کو دوسروں کے قدموں میں لا پھینکتی ہے۔

اب ایک بار پھر ایسا ہی ہوا ہے۔ ظالم وقت نے وہ ذو معنی مسکراہٹیں وہ جملے، اُن لوگوں کے لیے ذلت کی گھاٹی سے واپس اچھال دیے ہیں، جو دوسروں کی بیٹیوں کے بارے میں ایسا بولا کرتے تھے۔

چند دنوں سے مریم نواز شریف کی کبھی کسی مولانا، کبھی بلاول تو کبھی کسی دوسرے سیاستدان کے ساتھ سوشل میڈیا پر لگائی تصاویر دیکھ کر مجھے وہ وقت یاد آگیا جب کوئٹہ مالی باغ میں نواز شریف کی موجودگی میں شیخ رشید نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا۔

”بے نظیر کہتی ہے شیخ رشید مجھے چھیڑتا ہے۔ مجھ سے قسم اُٹھوا لو جو کبھی میں نے دو بچوں کی ماں کو چھیڑا ہو۔ “

اُس وقت نواز شریف کے چہرے پر شیخ رشید کے لیے داد اور یہی تمسخرانہ مسکراہٹ صاف دیکھی جا سکتی تھی جیسے ایموجی آج سوشل میڈیا پر عوام مریم نواز شریف کی تصاویر پر دے رہی ہے۔

کبھی ہم نے سوچا کہ پاکستانی سیاست میں عورت کا تمسخر، تذلیل اور ذومعنی جملوں کی ابتدا کیوں اور کیسے ہوئی ؟

یہ پاکستان کا پہلا صدارتی الیکشن تھا جنرل ریٹائرڈ ایوب خان محترمہ فاطمہ جناح کا مقابلہ کر رہے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فاطمہ جناح کے لیے نازیبا چٹکلے بنائے جاتے، مولویوں سے عورت کی حکمرانی کو لے کر فتوے لیے جاتے اور مراعات پانے والا طبقہ محافل میں اُن پر بنے لطیفے سنا کر داد و تحسین پاتا۔ اُنھیں سرعام سرخوں کا ساتھی کہا گیا اور محسنِ پاکستان کی بہن کا گلی گلی تماشا لگایا گیا۔ یاد رہے کہ اُسی ایوب خان کو ذوالفقار علی بھٹو ”ڈیڈی“ کہا کرتے تھے۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا، بھٹو اقتدار میں آئے۔ ایوب کے تمام دیرینہ سیاست دان ساتھی اب بھٹو کے ساتھ تھے۔ اقتدار ملنے کے چند ماہ بعد ہی اپوزیشن نے متحد ہو کر نو ستاروں سے سجے جھنڈے تلے بھٹو کے خلاف تحریک شروع کی۔

بدقسمتی عورت کی رہی کہ وہ پاکستانی سیاست میں حصہ لے رہی تھی تو اقتدار کے نشے میں چور بھٹو و دیگر سیاست دانوں نے ”نو ستارے بلے بلے۔ “ میں ایک بار پھر عورت کو تمسخر اڑایا اور اُسے ذلت کا نشانہ بنا کر مخالفیں سے نپٹنے کی کوشش کی۔

گالیاں بھی Matter کی طرح ختم نہیں ہوتیں۔ یہ گھاٹیوں پہاڑوں اور صحراؤں میں بھٹکی بھٹکی جنرل جیلانی کے لاڈلے بیٹے نواز شریف کی شکل میں واپس پلٹیں اور بھٹو کو اپنے مخالفین کی عورتوں بارے بولے جملوں کا کفارہ ادا کروانے اُس کی بیٹی کے گرد گھیرا ڈال لیا۔

اب نواز شریف کے ہاتھوں میں اُن طاقتوروں کے ہاتھ تھے جو ہر پنچھی اڑا کر ایک ڈال پر بٹھانا خوب جانتے تھے۔ جنھوں نے ہر صوبے، شہر اور محلے کے سب کرتا دھرتا سیاستدانوں کو نواز کے در پر لا بٹھایا۔ اقتدار کا ہما نواز شریف کے سر پر بیٹھنے کو منڈلا رہا تھا۔ فرزندِ پنڈی شیخ رشید جو ایک زیرک سیاستدان ہیں اور ہمیشہ بغیر کسی لگی لپٹی کے خود کو کسی خاص طاقت کا نمائندہ ظاہر کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں، آگے بڑھے اور بھٹو کی بیٹی پر نازیبا جملے بازی شروع کر کے مراعات اور عہدے لیے۔

ایوب اور بھٹو کے ساتھ اقتدار کے مزے لیتے سیاستدانوں نے بے نظیر کے خلاف نواز شریف اور اپنے دیگر دوستوں کی مدد سے ایسی کمپین چلانے کا فیصلہ کیا جیسی فاطمہ جناح کے خلاف چلائی گئی تھی۔

ضیاء الحق کی انتھک محنت سے بنانے مولویوں کو فتوے بازی، شیخ رشید اور چند دیگر سیاستدانوں کو جملے بازی پر لگایا گیا۔ ان گھٹیا ہتھکنڈوں سے بھی جب بہادر بیٹی کا سر نہ جھکا پائے تو الیکشن سے چند دن قبل نازیبا پوسٹر گرائے گے۔ پنجابیت، قومیت اور مذہب کا سہارا لیا گیا اور یوں جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق کے لاڈلے کی تاج پوشی ہو گئی۔

چند سال بعد تقدیر نے اُس بہادر بیٹی بے نظیر کو اُس دلیری کا صلہ دیا تو وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئیں۔ ایک بار پھر اُن کے خلاف سازشیوں کے جال بنے گئے۔ فاروق لغاری اور بے نظیر کے درمیان اقتدار کو لے کر رسہ کشی شروع ہوئی جس سے بچنے کو پھر کسی بیٹی کی ویڈیوز کی صدا گونجنے لگیں۔

دعا ہے کہ خدا اب کی بار معاف فرمادے اور ہمیں سنبھلنے اور سمجھنے کا موقع عطا فرمائے۔ میرا مولا اب ایسا نہ کرے کہ اِس گھناونے فعل کے ذمہ دار کی بیٹی مستقبل میں کبھی اپنے باپ کی اِس غلطی کا کفارہ ادا کرے۔

دوسری طرف وقت کا پہیہ  آگے بڑھتا رہا۔ نواز شریف جن کی آنکھ کا تارہ تھا اب اُن کی ہی نظروں میں مانندِ خار کھٹکنے لگا۔ وہ اب اپنے چاہنے والوں کے دلوں سے اتر چکا تھا۔ اب اِس کی جگہ کسی دوسرے لاڈلے نے لے لی تھی۔ وہ مشرف کا ریفرنڈم کروا رہا تھا۔ مشرف سے اضافی سیٹیں اور وزیر اعظم شپ مانگ رہا تھا مگر ابھی نواز شریف کو اِس کی قیادت میں ایک بیٹی کو دی گالیوں کے پلٹنے کا وقت نہیں آیا تھا تو تقدیر نے اُسے حکمرانی کا ایک اور موقع دیا۔

مگر وہ بھی اُس بچے کی مانند دھوکا کھا گیا جو باپ کے کاندھے پر بیٹھ پر خود کو سب سے بلند سمجھتا ہے اور دوسروں کو نیچ جان کر اُنھیں ٹھوکریں لگاتا ہے۔ نواز شریف نے اپنا سابقہ رویہ بدلنے کے بجائے اِس بار زیادہ شدت سے اُن کاندھوں میں دانت گاڑھ دیے جو آج تک اسے اوپر اٹھائے ہوئے تھے۔ ”باپ تو پھر باپ ہوتا ہے نا۔ “ پھر ایک معمولی سے جھٹکے سے اُسے اُس کی اوقات یاد دلوا دی گئی۔ بھٹو کی طرحِ نواز شریف کے خلاف بھی اُس کے دورِ اقتدار میں ہی مولویوں، ججوں اور اپوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے اس کا اقتدار لپیٹ کراُسے بھی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

یہ سب کھیل تقدیر کے ہیں، انسان تو وقت کی دھارا میں مانندِ خس و خاشاک بہتا رہتا ہے۔ شاید یہ سب اس لیے ہوا کہ اللہ پاک نے اُن گالیوں کا حساب بے باک کرنا تھا جو نواز اور اُس کے حمایتی بے نظیر کو دیا کرتے تھے۔

اب بے نظیر کی جگہ مریم نواز اپنے وزیر اعظم باپ کو بچانے نکلی، یوں مریم نواز شریف کو تقدیر نے بے نظیر کی جگہ لا کھڑا کیا۔

مخالف ایک بار پھر بھٹو اور نواز شریف کے سابقہ عشاق کا لاڈلا تھا۔ نواز کو اقتدار تک پہنچانے والے سیاست دان اب اُس نئے لاڈلے کے جھنڈے تلے جمع ہو چکے تھے۔ اِس لیے تمام اُمور حسن انداز میں نپٹائے گے اور ایک دوسرا لاڈلا نواز شریف ہی کی طرح ”ووٹ کی طاقت“ سے اقتدار کے تحت پر آ بیٹھا۔

باپ کو بچانے ایک اور بیٹی میدان میں نکلی۔ اُس کے باپ کی موجودگی میں بے نظیر پر کسے نازیبا جملے، تمسخرانہ مسکراہٹیں اور ذومعنی جملہ بازی جنگلوں پہاڑوں اور صحراؤں سے واپس پلٹ کر اُس پر حملہ آور ہوئی۔ ہر موبائل میں مسکراتی نظروں سے لوگ نواز شریف کی بیٹی کی تصاویر دیکھ کر جملہ بازی (کمنٹس) کر رہے ہیں۔ یہ وہی ذلت کا بیج ہے جو ایوب خان نے بویا، بھٹو سے اِس کی آبیاری کی اور نواز شریف نے اِس کا پھل کھایا تھا یہ وہی گالیاں اور ذومعنی جملے تھے جو نواز شریف کی موجودگی میں اُس کے وزیر سفیر بے نظیر پر کسا کرتے تھے۔ اب وہ قرض مریم نواز شریف اتار رہی ہے۔

۔ زمانہ اب کافی ترقی کر چکا ہے اب فاطمہ جناح کے خلاف چلی تحریک کی مانند شہر دد شہر پوسٹر لگانے یا بے بظیر کی رسوائی کو جہازوں سے پوسٹر گرانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ان سے موثر حربہ اور ہتھیار ”سوشل میڈیا“ انسانوں کی زندگی پر اثر انداز ہو چکا تھا۔ تو سوشل میڈیا کو احسن طور پر بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان کا تمسخر اٹھایا گیا، ذومعنی جملے کسے گئے اور نازیبا کمنٹس کیے گے۔ یہ سب وہ گالیاں تھیں جو زندہ رہیں اور خود کو ادا کرنے والے کی نسلوں کو ذلت اور رسوائی لوٹانے کم و پیش پچیس سال بعد واپس پلٹیں۔

آج اگر طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر یا اپنے طاقتور دوستوں کی شہہ پا کر موجودہ حکمران بھی نواز شریف کی طرح مخالفین کو زیر یا ذلیل کرنے کو ماں بہن بیٹی کا آنچل نوچیں گے تو پھر ایک وقت ایسا ضرور آئے گا، بلکہ مجھے نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ شاید وہ وقت آچکا کیونکہ ہر گالی ہر برائی واپس پلٹ کر حملہ آور ہو رہی ہے۔

عوام کو یہ کہتے سنا ہے کہ موجودہ حکمران کی بھی بیٹی ہے۔ چلو بیٹی نہ سہی، بہن بیوی تو ہے نا۔ یہ چونکہ اپوزیشن میں پانچ سال ایسے ہی لوگوں کے جھرمٹ میں رہے جو اپنے مخالفیں کی ماں بہن کرنے میں مشہور تھے تو اب کی بار وہ گالیاں وہ ذومعنی جملے اور نازیبا کلمات جلد لوٹ آئے اور آج ان کی معزز بہن بھی مخالفین کیطرف سے اُسی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں کیونکہ بزدل لوگ جب بھی لڑتے ہیں بہنوں بیٹوں اور ماؤں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں آنے والا ہر سیاستدان کسی طاقت ور کا بیٹا یا لاڈلا بن کر ہی اقتدار تک پہنچا۔ اب خدا جانے یہ روش اسے اقتدار تک پہنچانے والوں کی رہی یا خود سیاستدان اِس گراوٹ کا شکار رہے۔

اس ملک پر سیاست دانوں کے علاوہ بھی چند لوگ حکمران رہے یہی سیاست دان اُن کے ساتھ بھی تھے۔ جہاں شیخ رشید، فواد چوہدری، فیاض الحسن چوہان، رانا ثنا اللہ اور دیگر کئی سیاست دان ان کے ہمنوا اور خوشامدی تھے وہیں چند سیاست دان اِن آمروں سے اٹھارہ بیس سال تک مسلسل برسرپیکار بھی رہے۔ مگر کیا آج تک کسی آمر کی بہن بیٹی بارے کسی سیاست دان کی جانب سے ایسے الفاظادا کیے گئے؟ جیسے فاطمہ جناح، نسیم ولی بیگم، بے نظیر بھٹو، مریم نواز شریف یا علیمہ خان کے لیے بولے گئے تھے؟ کیا اُن کی بہن بیٹیوں کی بھی ایسی تذلیل کی گئی۔ ؟ بالکل نہیں، کیونکہ وہاں سیاست دانوں کے منہ ڈر خوف یا مراعات ملنے کی وجہ سے بند رہے۔ مگر اپنے سایت دان بھائی سے تمام مراعات حاصل کرنے کے باوجود دوسرا سیاست دان اپنے پیٹی بھائی کی عزت اچھالنا آسان اور باعث عزت سمجھتا رہا۔

ضیاء اور مشرف نے اِن سیاست دانوں پر بہت سخت ہاتھ دھرا، انھیں دبانے، انھیں توڑنے کو ہر حربہ استعمال گیا مگر میں نے کبھی اُن کے منہ سے کسی سیاستدان کی بہن بیٹی کے لیے نازیبا کلمات نہ سنے، یحٰی خان کا رنگین دور کیسے معلوم نہیں مگر اُن کی رنگینیاں کسی سیاست دان کے لیے باعث ندام ثابت نہ ہوئیں۔ اب اِس کی وجہ اُن کی اچھی تربیت تھی یا وہ مردوں کی طرح مردوں سے لڑنا پسند کرتے تھے۔ اِس لیے کبھی کسی سیاست دان کی بہن بیٹی بارے نازیبا جملہ بازی نہ کی، نہ کسی کا تمسخر اڑایا اور نہ کوئی ذومعنی جملہ کسا۔ اِس کا مطلب ہے کہ قصور وار سیاست دان ہے جو اپنے ساست دان بھائیوں کو نیچا دکھانے کے لیے بہن بیٹیوں پر حملے کرتا رہا۔

اب بھی موقع ہے خدارا اپنے شملے اونچے رکھنے کو دوسرے کی بہن اور بیٹی کا دوپٹہ نہ کھنچیں۔ وقت بڑا ظالم ہے ایسا نہ ہو کل آپ کی بہن اور بیٹی کا آنچل کوئی دوسرا نوچ کر اُسکا سر سر بازار بے پردہ کر رہا ہو۔

مجھے آمروں کے دور اقتدار اور ان کے کیے فیصلوں سے سخت اختلاف ہے مگر جہموریت کا راگ الپاپنے والوں سے ایک درخواست ہے کہ آپ کم از کم آمروں کی ایک یہ اچھی عادت اپنا کر اپنے معاملات میں بہنوں بیٹیوں کی رسوائی کا سامان نہ کرتے تو وقت آپ کی عزتوں کی حفاظت کرتا کیونکہ گالیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں یہ وادی میں لگائی صدا کی بازگشت بن کر واپس آپ کی جانت پلٹی ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ اس بار آپ اپنے الفاظ کی بازگشت خود سن سکیں کیونکہ آپ کی جگہ آپ کی بیٹی بھی کھڑی ہو سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •