ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی دستاویزات: احتساب عدالت نے مریم نواز کو 19 جولائی کو طلب کر لیا


مریم

نیب کی درخواست پر سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو 19 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو 19 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کی طرف سے منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کر کے عدالت کو گمراہ کیا تھا لہٰذا عدالت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کو اس جرم میں بھی سزا سنائے۔‘

یاد رہے کہ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر تین افراد کو سزا سنائی تھی جن میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میاں نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

نواز شریف

عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر تین مجرموں کو سزا سنائی تھی جن میں میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل ہیں

اسلام آباد کی احتساب عدالت کی طرف سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے ’پریس کانفرنس میں تمام سازشیں بے نقاب ہونے کے بعد گھبراہٹ میں حکومت نے میرے خلاف ایک اور مقدمہ قائم کردیا ہے۔

’میں عوام سے پوچھتی ہوں کہ میرے سوالات کے جواب ملنے کی بجائے کیا مجھے اس نیب میں پیش ہونا چاہیے جو آڈیو/ویڈیو کے ذریعے یرغمال ہو؟‘

ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’بلانا ہے تو اپنے رسک پر بلانا! میری باتیں نا سن سکو گے نہ سہہ سکو گے! یہ نہ ہو کہ پھر سر پیٹتے رہ جاؤ!۔‘

https://twitter.com/MaryamNSharif/status/1148574707710595072

مبصرین کے مطابق پہلے نیب کے چیئرمین اور پھر اس کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج کی اہلیت اور ملک میں رائج احتساب کے عمل پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

میرا بینظیر بھٹو سے موازنہ نہ کیا جائے: مریم نواز

نہ چلنے والی فلمیں

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں پیش کی جانے والی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچے عدالت نے ان تینوں مجرمان کو سزا سنائی تھی لیکن جعلی دستاویز جمع کروانے پر عدالت نے علیحدہ سے مریم نواز کو سزا نہیں سنائی تھی۔

مریم

قانونی ماہرین کے مطابق عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کرنے کی سزا دس سال ہے

قانونی ماہرین کے مطابق عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کرنے کی سزا دس سال ہے۔ نیب کی درخواست پر احتساب عدالت نے مریم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُنھیں 19 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو دس سال مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان سزاؤں کو معطل کر کے تینوں مجرموں کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ نیب کے حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے نیب کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف دیگر دو ریفرنس بھی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو بھجوائے گئے تھے تاہم میاں نواز شریف نے اس جج پر عدم اعتماد ظاہر کردیا تھا جس کے بعد العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شب ریفرنس احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک کو بھجوا دیے گئے تھے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp