تبدیلی سرکار نظام میں تبدیلی لائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت دنیا کے ان ممالک کی صف اول میں کھٹرا ہے جہاں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جاتی ہے لیکن ایک بات جو بھارت کو دوسروں سے جدا کرتی ہے وہ بھارت کی جمہوریت ہے۔ پاکستان کے ساتھ ہی دنیا کے نقشے پر ظاہر ہونے والے اس ملک میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے کسی کی جمہوری فتح کو یا حکومت کو گرا دیا ہو۔ بلاشبہ بھارتی سیاست درحقیقت سیاہ ست ہے۔ دوسری جانب ہمارا ملک ہے جہاں کسی جمہوری حکومت کے لئے اپنی مدت پوری کرنا ملکی مسائل کو حل کرنے سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے، مشرف دور کے بعد آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کی منتخب حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی تودیگر جماعتوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ آواز لگانا شروع کردی کہ دونوں جماعتوں نے میثاق مک مکا کرلیا ہے اور آپس میں باریاں بانٹ لی ہیں۔ اس آواز میں حکمراں جماعت کی آواز سب سے بلند تھی۔

تحریک انصاف کی حکومت آئی تو قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ خان صاحب بمشکل 2 سال حکومت کریں گے اور اب ایسا نظر بھی آرہا ہے کہ اب انصافی حکومت کے خلاف بھی دھرنوں اور احتجاجوں کی تیاریوں کی کوشش کی جانے لگی ہے۔ اس وقت ملک میں ایک طرف سیاست دان ہیں جو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا ہر دور میں ہی ہوتا رہا ہے لیکن اب کی بار اخلاقیات کے جنازے نکل رہے ہیں۔ ان روایات کا آغاز مسلم لیگ ن کے آخری دور سے ہی ہوگیا تھا ملک کی دو بڑی جماعتوں کے رہنما ہر جلسے ہر دھرنے میں ایک دوسرے کی ذات اور خاندانوں کے بارے میں جو کچھ کہہ سکتے تھے کہنے لگے۔

حکومت قائم ہوگئی اب بھی سیاستدانوں کو اور ان کے پیروکاروں کا یہ رویہ جاری ہے۔ اسمبلی میں عوامی مسائل کے بجائے تمام تر توجہ لفظ سلیکٹڈ پر دی جاتی ہے پھر اس پر پابندی لگتی ہے حد تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس بات پر بھی مشاورت کرتی ہیں کہ اس پابندی کو قبول کرنا ہے یہ نہیں۔ ہائے پاکستانیو تمہاری قسمت۔ پھر مریم نواز ایک ویڈیو منظر عام پر لاتی ہیں ٹیکسوں میں ڈوبے عوام کی پریشانی جاتی ہے بھاڑ میں ہر وزیر ہر مشیر بس اس ویڈیو پر بیان بازی کرتا ہے کوئی کہتا ہے جعلی ہے کوئی کہتا ہے ظلم ہے اور عوام مرتے ہیں مرتے رہیں گے۔ ہائے پاکستانیوں تمہاری قسمت۔ پھر مریم نواز صاحبہ جلسے کے لئے ایک شہر کا دورہ کرتی ہیں تو ٹویٹر پر جو ٹاپ ٹرینڈ بنتا اس کا تو ذکر کرنا بھی کسی شریف آدمی کے بس کی بات نہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی عوام ہیں جن کا حال حکمرانوں سے مختلف ہیں۔ موجودہ دور میں پاکستانی عوام کی تین اقسام ہیں پہلی وہ جن کا عقیدہ ہے جو کچھ ہوا اس کی وجہ گزشتہ حکومتیں تھیں اور کپتان جی ان کی کرپشن کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کا سامنا کررہے ہیں۔ اس عمرانی جماعت کو کامل یقین ہے کہ مہنگائی اور مشکلات کے بعد جلد آسانیاں نظر آئیں گی۔ عوام کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت نا اہل اور نالائق ہے۔

گزشتہ حکومتیں چونکہ تجربہ کار تھیں لہذا سب ٹھیک تھا اس حکومت کو کچھ علم نہیں اس لئے حالات دن بدن بگڑتے کارہے ہیں۔ جبکہ عوام کی تیسری قسم خالص عوام پر مشتمل ہے۔ اس قسم کو کچھ لینا دینا نہیں کہ سیاست دانوں ایک دوسرے کے متعلق کیا بیان دے رہے ہیں اور کیا دیں گے یہ بس اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو کرپشن کا خاتمہ ہو۔ ٹیکس لئے جائیں لیکن وہ عوام پر استعمال بھی ہوں۔

ملک میں ایک بار پھر ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے کبھی تاجر اتحاد ہڑتال کر رہا ہے تو کبھی ٹرانسپورٹرز۔ ان ہڑتالوں کا مقصد یقینی طور پر حکومت کے خلاف سازش کرنا نہیں ہے بلکہ حکومت کو یہ باور کرانا ہے کہ عوام مشکل میں ہیں۔ کے الیکٹرک کے بلوں کے ساتھ اس وقت ایف بی آر کے لیٹر بھیجے جارہے ہیں، ضرور بھیجیں لیکن اس سے قبل کے الیکٹرک کی اضافی بلنگ اور غیر ضروری چارجز ختم کرائیں تاکہ عوام غندہ ٹیکس کے پیسے بچا کر حکومت کو ٹیکس دیں۔

ٹیکس کے نظام کو آسان کیا جائے تاکہ ٹیکس دہندہ بننے کے لئے عوام کو کسی وکیل یا اس شعبے کے ماہر کی ضرورت نہ پڑے انہیں معاوضہ نہ دینا پڑے عوام باآسانی خود اس کام کو کر کرلے۔ جہاں احتساب ہورہا ہے وہاں بلدیاتی نمائندوں کا بھی احتساب کی جائے ان سے یونین کونسل کے فنڈز کا حساب لیا جائے تاکہ وہ عوام کی خدمت کریں اور گلی محلوں کی سطح پر ترقیاتی کام کیے جائیں ایسا کرنے سے عوام ٹیکس ضرور دیں گے۔ جس گاڑی پر حکومت ٹیکس مانگتی ہے ایک عام شہری اپنے نمائندوں کی کرپشن کے باعث خستہ حال سڑکوں پر سفر کرتا ہے اور ان گاڑیوں کی محافظت پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں اگر عوام کا یہ پیسہ بچ جائے تو وہ باآسانی ٹیکس دیں گے۔

جو ادارے تباہ ہوئے ان کے افسران اور ورکرز یونین کے نمائندوں کا احتساب کیا جائے اس بھی بہت کچھ سامنے آجائے گا۔ ملک میں ہر فرد پر ٹیکس عائد کرنے کے بجائے حکومت چھوٹی صنعتوں اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار کے فروغ کے لئے کوشش کرے تاکہ آج کا نوجوان مالی اعتبار سے مطمئن ہو اور ملک کی ترقی کے لئے ٹیکس دے۔ اسی طرح جو چور ثابت ہو اس سے سزا کے ساتھ لوٹی رقم واپس لی جائے اگر رقم بیرون ملک ہے اور اس کی واپسی میں قانونی پیچیدگیاں درپیش ہیں تو ان کی جائدادیں تو یہیں ہیں ناں۔

حکومت کا ٹیکس لینا غلط نہیں لیکن اس حوالے سے پالیسوں میں یقینی طور پر کمی ہے۔ حکومت کو ٹیکس سسٹم کو مستحکم کرنا ہوگا عام شہری کے بجائے پہلے مرحلے میں بڑے ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ رکرنا ہوگا۔ ٹیکس سے ملکی قرضہ اتارنے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سہولیات دینا ہوں گی تاکہ ہر فرد ٹیکس دے۔ مشکل پالیسوں سے اگر عوام کا کاروبار ہی نہ رہا تو ٹیکس کس سے لیا جائے گا حکمرانی کس پر کی جائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •