ننھے مستنصر حسین تارڑ کی سعادت حسن منٹو سے شرارتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لوگ ابھی راتوں کو اپنے گھروں کی چھتوں پر سوتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک بچہ بھی ہے۔ لاہور کا آسمان تما م رات کو روشن رہتا ہے اور اس آسمان پر شاہ عالمی میں جلنے والے ہندوؤں کے بھاری بھرکم بہی کھاتوں کے اوراق اُڑتے، پھڑ پھڑاتے، چھتوں پر آن اترتے ہیں۔

صبح جب لوگ جاگتے ہیں تو ان اوراق کی راکھ ان کے لباسوں اور جسموں پر ٹھہری ہوتی ہے۔ وہ لوگ ایک دوسرے کے راکھ آلودہ چہروں کو دیکھتے ہیں۔ شاید کبھی شرمندہ شرمندہ بھی ہیں، مگر شاید!

وہ بچہ بھی اپنے لباس اور جسم پر سے راکھ جھاڑتا اٹھتا ہے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سمجھتا ہے۔ یہ راکھ اوپر سے تو جھڑ جاتی ہے مگر اس کے دماغ کے جاندار پانیوں کی تہہ میں یوں جم جاتی ہے کہ بہت بعد تک اسے ستاتی رہتی ہے۔ وہ بچہ نیکر پہنے لکشمی مینشن میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہو جاتا ہے۔ شاموں میں قریبی بازار میں خوب گہما گہمی اور رونق ہو جاتی ہے۔ جب رات اترتی ہے تو لوگ سونے کا انتظام شروع کر دیتے ہیں۔

ایک رات لکشمی مینشن کی سیڑھیوں پر وہ سفید لباس میں ملبوس ایک شخص کو بیٹھے دیکھتا ہے۔ وہ شخص سعادت حسن منٹو ہے۔ یہ اس شخص کو سہارا دے کر اس کے گھر چھوڑ کر آتا ہے۔ جہاں اس کی بیوی صفیہ اسے ’وصول‘ کرتی ہے۔ منٹو اسے ”اچھا بچہ“ کا خطاب دیتا ہے۔ بچہ تو پھر بچہ ہے۔ شرارت اس کی رگ رگ میں پارے کی طرح متحرک رہتی ہے۔

ایک روز منٹو رات گئے گھر لوٹتا ہے تو یہ بچہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر سامنے والے فلیٹ کی سیڑھیوں پر دھرے خوشنما گملے منٹو کے فلیٹ کے سیڑھیوں پر منتقل کر دیتا ہے۔ اگلی صبح اس فلیٹ کی مالکن خوب شور مچاتی ہے کہ ہو نہ ہو یہ سب کیا دھرا اس منٹو کا ہے جو رات کو کچھ مخمور گھر لوٹتا ہے۔ منٹو ابھی اپنی صفائیاں پیش کر ہی رہا ہوتا ہے کہ ایک اور شرارت اس کی خواب گاہ میں دبے پاؤں داخل ہو جاتی ہے۔

یہ لڑکا اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر پانی کی ایک پائپ کو منٹو کے کمرے میں ایک سوراخ سے داخل کر دیتا ہے۔ جب رات کو منٹو مخمور حالت میں گھر میں داخل ہوتا ہے اور بستر پر سو جاتا ہے تو یہ لڑکے پانی کی پائپ کو سرکاتے ہوئے منٹو کے پلنگ تک دھکیل کر تھو ڑا سا پانی کھول دیتے ہیں۔ اگلی صبح صفیہ منٹو سے جھگڑتی سنی جاتی ہے کہ یہ پانی رات کو منٹو نے نشے میں خود کر دیا ہو گا۔ منٹو کو اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے سنا جاتا ہے ’صفیہ مجھ سے قسم لے لو میں نے یہ نہیں کیا‘ ۔

وقت چند کروٹیں اور بدلتا ہے۔ یہ لڑکا اب بلوغت کی زمینوں پر پاؤں رکھ چکا ہے اور ایک لڑکی سے اس کی معصومانہ ’گپ شپ‘ بھی چل رہی ہے۔ جہاندیدہ منٹو یہ سب بھانپ لیتا ہے اور لاہور کی ایک تپتی دوپہر میں جب یہ لڑکا دہی کا کٹورہ تھامے بیڈن روڈ سے آرہا ہوتا ہے اسے روک کر پیسٹری کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ ’پیسٹری‘ اُس دور میں ایک رومانوی لفظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف صاحب لوگوں کے کھانے کی شے ہے یا پھر بیڈن روڈ پر واقع بیرٹ پارسی کی نیم تاریک ٹھنڈی برطانوی راج کے دور کی بیکری کے شو کیسوں میں جواہرات کی طرح سجی نظر آتی ہے۔

لڑکے کا جی للچا جاتا ہے اور وہ منٹو کے ساتھ بیکری چلا جاتا ہے۔ وہاں پیسٹری کھاتے ہوئے منٹو لڑکے سے اس لڑکی کے متعلق پوچھتا ہے۔ لڑکا گڑبڑا کر کسی بھی ایسی لڑکی کے وجود سے انکار کر دیتا ہے۔ منٹو لڑکی کے ہاتھ سے لکھا محبت نامہ اس کے سامنے لہرا دیتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ وہ اس لڑکے پر مرتی ہے۔ پھر بہت شفقت سے پوچھتا ہے۔

؎ ”یہ تمہارے اوپر مرتی ہے، نیچے مرتی ہے یا درمیان میں مرتی ہے؟ “

لڑکے کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں۔ وہ جانے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ خلاف توقع اسے اجازت مل جاتی ہے۔ منٹو اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے اسے جاتے دیکھتا رہتا ہے۔ اپنے چلتے پھرتے افسانے کو جاتے دیکھتا رہتا ہے۔

اب تک لاہور کی آگ ٹھنڈی پڑچکی ہے۔ کالی ماتا خاموش کھڑی ہے مگر اینجلا ناچ رہی ہے۔ وہ ریگل چوک کے پار ’سٹینڈرڈز‘ ہوٹل کی چھت پر ناچ رہی ہے۔ منٹو اب بیمار رہتا ہے۔ اب بھی کبھی کبھار اسے اس لڑکے کے سہارے کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔

مگر اب وہ اسے اچھا بچہ نہیں بلکہ اچھا لڑکا کہتا ہے کیونکہ ایک تو وہ جانتا ہے اور دوسرا اس بچے نے بھی نیکر کی جگہ پتلون پہننا شروع کر دی ہے۔

ایک روز منٹو اُس لڑکے کو بہت شفقت سے روکتا ہے اور مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔
”میں نے وہ خط۔ وہی خط۔ اُسی روز پھاڑ کر پھینک دیا تھا، فکر نہ کرنا“

دن شاہ عالمی کے بہی کھاتوں کے جلتے اُڑتے اوراق کی مانند اُڑ بکھر جاتے ہیں۔ منٹو اب بیمار نہیں رہتا اور جانتا بھی نہیں۔

منٹو اب مر چکا ہے اور یہ جانے بغیر مر چکا ہے کہ اپنے وقت کا سب سے بڑا افسانہ نگار جس لڑکے کے کندھوں کا سہارا لے کر لکشمی مینشن کی سیڑھیاں چڑھ لیا کرتا تھا وہ آنے والے وقت کا اس ملک کا بڑا ناول نگار اور سفر نامہ نگار ٹھہرے گا جسے زبانِ خلق مستنصر حسین تارڑ کے نام سے پکارے گی۔
(عرفان جاوید کی کتاب دروازے سے اقتباس)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •