مریضوں کے لواحقین اور ہسپتالوں میں تشدد کا چلن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شالیمار ہسپتال (لاہور) میں مرنے والی خاتون کے لواحقین کی توڑپھوڑ اور وینٹی لیٹر بند کرنے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک

پھر لہو رنگ آنسو!

کارزار حیات میں ایک اور عورت اپنی زندگی کی بازی ہار گئی !

سانسیں سلب ہوئیں ایک ننھے فرشتے کو زندگی کی دہلیز پار کراتے ہوئے !

زچگی ایک پل صراط!

جب عورت موت کی سر حد پہ جا کے کھڑی ہو جاتی ہے اور قدم قدم پہ زندگی کا اپنے ہاتھ سے پھسلتا ہوا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتی ہے !

 رخصت ہونے والی سے محبت کرنے والوں نے اپنی محبت کا یوں بھرپور اظہار کیا کہ کچھ موت سے لڑتے ہوؤں، جاں بہ لب، کی حیات کے چراغ ایک ہی پھونک سے گل کر دیئے۔

کیا محبت اتنی سنگدل ہوتی ہے کہ جن کے دل پہ اترتی ہے انہیں شقی القلب بنا دیتی ہے ؟

کیا اپنے محبوب کی جدائی، محب کی آنکھوں میں لہو اتار کے اندھا کر دیتی ہے؟ اور ناحق خون کے چھینٹے ہر طرف بکھر جاتے ہیں۔

کیا محبت قاتل ہے جو بے گناہ کو سولی چڑھا دیتی ہے ؟

کیا محبت کو کھنڈر اچھے لگتے ہیں اور کھنڈرات میں لرزتے سایوں سے ٹپکتی موت!

محبت اور موت کی دو مشہور داستانیں سنانا چاہتی ہوں آپ کو!

ایک شہزادی تھی، حسین، کم عمر ،ماں باپ کی مرکز نگاہ، نازونعم میں خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتی ہوئی۔

شہزادی محبت کے ثمر کو زندگی دیتے دیتے، اپنی سانسیں ہار گئی اور اس کا بھرے میلے میں دنیا سے اٹھ جانے پہ زچگی کی سائنس میں انقلاب برپا ہو گیا۔

انگلینڈ کی شہزادی شارلٹ  (1817-1796)، بادشاہ جارج چہارم کی اکلوتی لاڈلی بیٹی، بیلجئم کے ہونے والے بادشاہ کی بیوی، جس نے اکیس سال کی عمر میں بچہ جنم دیتے ہوئے زندگی کی بازی ہار دی۔

شہزادی شارلٹ نے پچاس گھنٹے درد زہ میں گزارے ( نارمل درد زہ بارہ گھنٹے)۔ مردہ بچے کو جنم دینے کے بعد رحم سے اس قدر خون کا اخراج (post partum haemorrhage ) ہوا کہ بادشاہت اور دولت کے تمام وسائل موت کا رستہ نہ روک سکے۔

پورا ملک غم کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔ دو ہفتے سرکاری سوگ منایا گیا۔ لوگ ڈاکٹر کو الزام دے رہے تھے لیکن بادشاہ نے ڈاکٹر کو بری الزمہ قرار دیا۔

لیکن ڈاکٹر کرافٹ پہ اس حادثے کا اتنا اثر ہوا کہ اس نے شہزادی کے مرنے کے تین ماہ بعد خود کشی کر لی۔ دنیائے طب میں یہ واقعہ ٹرپل ٹریجڈی ( ماں، بچہ اور ڈاکٹر) کے نام سے جانا گیا۔

Princess Charlotte Augusta of Wales (1796-1817)

اس زمانے میں زچگی کی سائنس دو نظریات پہ مبنی تھی، intervention  اور  non- intervention۔

زیادہ تر ڈاکٹر دوسرے نظریے پہ یقین رکھتے ہوئے زچگی کے عمل میں اوزار لگانا پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن کچھ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ سب خواتین میں زچگی آسان نہیں ہوا کرتی سو اوزاروں کا استعمال لازمی ہے۔ دکھ اور غم میں ڈوبے ہوئے بادشاہ نے ان تمام عورتوں کا سوچا جو زچگی کے مراحل پار کرتے ہوئے موت کی سرحد کو ہاتھ لگانے والی تھیں۔ لاڈلی بیٹی تو واپس آ نہیں سکتی تھی لیکن اور بہت سے والدین کی شہزادیاں ان کے دلوں کو ٹھنڈا رکھ سکتی تھیں سو فورسیپس ڈلیوری کا آغاز کرایا گیا۔

(فورسیپس چمچ کی طرح کے اوزار ہوتے ہیں جو بچے کے سر کے گرد لگا کر اسے کھینچا جاتا ہے)

یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا!

دوسری کہانی کا تعلق برصغیر پاک و ہند سے ہے !

اس میں بھی ایک بادشاہ ہے لیکن ساتھ میں شہزادی کی بجائے ملکہ ہے،

محبوب بیوی ! بادشاہ کے چودہ بچوں کی ماں (ازدواجی زندگی انیس سال)

ممتاز محل چودھویں بچے کی پیدائش میں تیس گھنٹے کی درد زہ برداشت کرنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی۔ (1631-1593)

 شاہ جہاں نے جوگ لے لیا ایک سال بعد جب وہ سامنے آیا تو کمر خمیدہ تھی اور بال سفید!

اپنی محبت امر کرنے کا خیال آیا اور تاج محل مجسم ہوا اور وہ خوبصورت عمارت آج بھی اس دیوانگی پہ مسکراتی ہے۔

ممتاز محل کی موت کا سبب بھی زچگی کے بعد خون کا بہنا ( post-partum hemorrhage )  تھا جو قابو میں نہ آسکا۔

بادشاہ جارج اور شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی محبت کا غم اپنے اپنے انداز سے منایا۔ ایک نے اپنے غم کو دوسروں کی فلاح میں بھولنا چاہا اور دوسرے نے اینٹ و پتھر کو زبان دے کر عشق کی داستان کہنے پہ مجبور کر دیا۔

ہم گائناکالوجسٹ کی زندگی کا اگر کوئی لمحہ جاں لیوا ہے اور ڈراونا خواب بن کے آنکھوں کوبے خواب کر تا ہے، تو وہ وقت ہے جب زچگی کے بعد خاتون کے رحم سے اخراج خون نہ رکے۔

Post partum haemorrhage

‎جب وہ سارا خون جو بچے کے بدن میں لمحہ لمحہ زندگی بن کے دوڑتا ہے، بچے کے پیدا ہونے کے بعد ماں کی شریانوں میں لوٹ جانے کی بجائے باہر بہنا شروع کر دیتا ہے

‎دنیا بھر میں یہ صورت حال زچگی میں ہونے والی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ بہت سی دوائیاں اور طریقے دریافت کیے جا چکے۔ آخری حل رحم کو جسم سے نکال دینا ہے۔ مگر کچھ جگہ یہ مشکل آن پڑتی ہے کہ ایک طرف تو جسم سے ضائع ہونے والے خون کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف جسم میں موجود باقی رہ جانے والا خون اتنا پتلا ہو جاتا ہے کہ وہ جسم کے باقی حصوں (منہ، ناک، آنکھ) سے بہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ جسم میں موجود خون کی کل مقدار پانچ سے چھ لیٹر ہے۔

 زندگی اور موت کی سرحد پہ کھڑی ہوئی کے لئے دنیا میں تباہی لائی جا سکتی ہے۔ بے قصور لوگوں کی زندگی چھینی جا سکتی ہے لیکن اپنی رگوں میں ہی دوڑتا ہوا خون، اپنے ہی پیارے کی زندگی بچانے کے لئے دان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک ایسی تعفن زدہ حقیقت ہے جسے ہم پھر کبھی بیان کریں گے۔

اس وقت وہ بات جس کے لئے ہم نے یہ تمہید باندھی ہے۔ شالیمار ہسپتال میں مرنے والی کے غم میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور توڑ پھوڑ کے ساتھ کچھ اور مریضوں کو موت کے حوالے کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ان کا قاتل کون ہے؟ کیا ان عقل کے اندھوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ؟ یا حسب معمول معاشرے نے چشم پوشی کی روایت قائم رکھنی ہے۔

لوگوں میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، اپنے آپ کو صحیح جان کے کھڑے کھڑے سزا و جزا کا فیصلہ سنانا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا، کچھ کو موت کے گھاٹ اتار دینا، باقیوں کا خاموش تماشائی بننا۔

ایسا تو جنگلوں میں بھی نہیں ہوتا!

کیا دیوانگی ہے جو سب کے سر پہ چڑھ کے ناچ رہی ہے اور پوری خلقت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

دیوانگی سے ہمیں ڈریکولا یاد آ جاتا ہے۔ ایک مشہور کردار جو لوگوں کی شہ رگ سے خون پی کے توانائی حاصل کرتا تھا اور کچھ اور کو بھی اس نشے میں مبتلا کرتا تھا۔

 یوں محسوس ہوتا ہے کہ ذہنی جہالت کے نشے میں مبتلا ڈریکولا ہر طرف گھوم رہے ہیں۔ ایک ہاتھ میں ذاتی پیمانہ ہے اور دوسرے ہاتھ میں پھندا۔ جہاں طبعیت مائل ہوئی، فیصلہ ہوا، پھندا فٹ کیا اور تختہ کھننچ لیا!

طاقت اور جہالت کے آمیزے نے ہماری قوم کی کیا تصویر کشی کی ہے کہ فرزانے ہم پہ ہنستے ہیں اور ہم خون کے گھونٹ پیتے ہیں۔

 اپنے ہی خون کے!

آخری بات ! ہمیں ہمارے پروفیشنل کیرئیر میں وہ تمام لمحے یاد ہیں جب جب کوئی خاتون زندگی کی بازی ہاری۔ ان تمام کے نام اب تک دل پہ کندہ ہیں اور کچھ آنسو ابھی بھی دل کی زمین پہ درد بن کے اترتے ہیں۔

یقین کیجئے، کوئی بھی مسیحا موت کا سوداگر بننے کا خواب نہیں دیکھا کرتا !

وہ کیوں چلی گئی

کیوں

دھوئیں سے بھری ہوئی اس دنیا میں

جو اس کی دل کش آواز سے خالی ہے

مجھے اکیلا رکھ کے چلی گئی

مجھے اس کی موت یاد ہے

ایک برف آلود دن تھا

ہم اس کے بستر کے پاس

صبح تک دیئے جلاتے رہے

وہ دیئے کی روشنی میں جل بجھی

چلیے چھوڑیے

میں ابھی اسے یاد ہوں

(فارسی شاعر احمد رضا کی نظم سے کچھ سطریں: ترجمہ ڈاکٹر معین نظامی )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •