وہ ایک بوسہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکس اسٹائل ایوارڈ کے دوران اسٹیج پر ایک واقعہ پیش آیا۔

آدمی کی نگاہ میں وسعت، فہم میں گہرائی، اور علم میں صلابت نہ ہو تو اس کے لیے واقعہ بھی سانحہ بن جاتا ہے۔

واقعے اور سانحے میں فرق کرنے کی صلاحیت سے محروم افراد نہ تو واقعے نہ سانحے کو اس کے اپنے درست فریم میں رکھ کر کوئی رائے قایم کر سکتے ہیں۔

اس کا سب پہلا درست فریم یہ ہے کہ واقعہ شو بز کی دنیا کا ہے۔ دوسرا فریم یہ ہے کہ واقعے کا انسلاک خالص سماجی ہے۔ اسے مذہبی فریم میں دیکھنے کی کوشش کرنے والے ذہنی طور پر بے تحاشا کنفیوز لوگ ہیں۔ انھیں علم ہی نہیں ہے کہ مذہب آپ سے کس دائرے میں کیا تقاضا کرتا ہے۔

اب دیکھیں کہ یاسر نے اقرا کو پروپوز کیا اور فرطِ جذبات سے بھینچ کر چوما۔ اس میں سانحے کا پہلو کیا ہے جس پر لوہے کی ٹوپیوں میں بند اذہان نے ماتم شروع کیا ہوا ہے۔

ایک حدیث میں عورت کو چومنے سے متعلق استفسار کا معاملہ ہے، محسنِ کائنات نے فرمایا کہ کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے، تو یہ گناہ معاف ہو گیا۔ مذہبی فریم میں اس ’گناہ‘ کی اتنی حیثیت ہے۔ لیکن گناہ تو تب ہے جب آپ کا اس عورت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ جسے آپ سب کے سامنے شریک حیات بنانے کا اعلان کرتے ہیں، اسے چومنے پر آپ کیا ’حد‘ لے کر آئے ہیں؟

تو انسانوں کی مانند اب آئیے سماجیات اور کلچر پر۔ آپ کو خود کو بالغ کرنا پڑے گا۔ قدرت نے تو بالغ بنا دیا ہے کہ وہ تو مشرق مغرب، مسلم غیر مسلم سب پر بارش برساتی ہے، آپ نے اپنے ذہن کو کس حد تک بالغ بنانے کی تگ و دو کی ہے۔ سوال تو یہ ہے۔

جو لوگ واقعے اور سانحے میں تمیز نہ کر سکتے ہوں، وہ کس قسم کی دانش بکھیرتے ہیں، اس کی ہول ناکی سماجیات پر گہری نگاہ رکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ عمل سے خالی ’مولوی‘ جیسے لوگ صرف سماج کو ہر پل ہر واقعے میں انفیکٹڈ کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔

تو آپ کو کس بات کا دکھ ہے؟

ایک دوسرے کو پسند کرنے اور قبول کرنے والے مرد اور عورت نے باقاعدہ ایک ہونے کا فیصلہ کیا اور زندگی کے اس اہم ترین موقع پر گلے ملے اور پیار کا بھرپور اظہار کیا۔

آپ کی ثقافت کو زک کہاں پہنچی؟ کیا آپ کو لگا کہ شو بز سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے ایک ہونے کے فیصلے نے آپ کے گھر میں کہیں نقب لگا دی ہے؟

کیا آپ کے گھر میں انٹرٹینمنٹ کی دنیا پر مکمل پابندی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ نے اس چھوٹے سے واقعے سے اتنا بڑا دل کیسے لگا لیا؟

یا آپ کے ذہن میں شو بز سے وابستہ لوگوں کے بارے میں یہ رائے راسخ ہے کہ ان کے نجی، جذباتی، ازدواجی معاملات ’غلط‘ ہوتے ہیں، ایسے میں اتنا راست فیصلہ آپ کے لیے شاکنگ ہوا۔

کیا آپ کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ آپ کی بہن بیٹی اس ’واقعے‘ کو دیکھ کر آپ ہی کے گھر میں کوئی ’سانحہ‘ نہ رو نما کر دے؟

لیکن سوال تو یہ ہے کہ آپ کی بہن بیٹی لکس اسٹائل ایوارڈ میں یہ ’واقعہ‘ دیکھے ہی کیوں؟ ان کے لیے یہ واقعہ ’رونما‘ ہی کیوں ہو؟ کیا آپ کا گھر بھی شو بز کی ثقافت سے کسی سطح پر وابستہ ہے؟ ذرا سوچیے، یہ وابستگی کی ایک سطح ہے کہ آپ اور آپ کے گھر والے اسے دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی ’واقعہ‘ تب تک واقعے کی حیثیت اختیار نہیں کر سکتا جب تک اسے ’دیکھنے والی آنکھ‘ اس سے منسلک نہیں ہوتی۔ تب ہی یہ ’واقعہ‘ مکمل ہوتا ہے۔

تو جس ’واقعے‘ کی تکمیل آپ کے وجود، آپ کی آنکھ کے بنا ممکن نہیں، اسے آپ ’سانحہ‘ کس بنا بناتے ہیں؟

شعور کے اس پہلو پر ضرور غور کیجیے گا، اور اپنی شادی بیاہ کی ثقافتی ایونٹس میں جو ’واقعات‘ رونما ہوتے ہیں، ان پر سوچیے گا، پھر ایک ایسے بوسے کے بارے میں بھی جس کی سچائی، اور اخلاص آدمی کو بہت ساری گم راہی سے نجات عطا کرتی ہے۔

اقبال سے معذرت کے ساتھ!

وہ ایک بوسہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار بوسوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

(رفیع اللہ میاں سینئر سب ایڈیٹر کی حیثیت سے  اے آر وائی ڈیجیٹل سے وابستہ ہیں)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رفیع اللہ میاں کی دیگر تحریریں
رفیع اللہ میاں کی دیگر تحریریں