یہ ”فیمینزم“ کا رونا دھونا آخر ہے کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا یہ فیمینزم کا رونا دھونا آخر ہے کیا؟ جب عورت اپنے نظریے اور حقِ رائے کی آزادی اور انفرادیت کی بات کرتی ہے تو اسے سادہ الفاظ میں فیمینزم کہا جاتا ہے فیمنزم کی ضرورت ہمارے اپنے معاشرے کے ان مسائل سے جڑی ہوئی ہے جن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔ عورت کے حقوق کا یہودی ایجنڈے یا انگریزوں کی مادر پدر آزاد ثقافت اپنانے سے کوئی تعلق نہیں۔ اور نہ ہی یہ مسائل ان ریاستوں اور ثقافتوں سے جنم لیتے ہیں۔ یہ مسائل ہمارے اپنے ہیں۔ فیمنزم کسی ایجنڈے کا نام نہیں جو باہر سے لا کر ہمارے سروں پر مسلط کر دیا گیا ہو۔ یہ ہمارے معاشرے میں پنپنے والے حقیقی مسائل ہیں جن کو کئی صدیوں سے دبایا جا رہا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں فی الوقت فیمینزم کے نظریے کو دو طرح کے مکاتبِ فکر کے تناظر میں تولا جاتا ہے۔ ایک طرف فیمینزم کو اسلامی نظریات کے مطابق پرکھا جاتا ہے۔ دوسرا نظریہ سیکولر نظریہ ہے جس کے مطابق معاشرہ عورت کو ایک آزاد فرد کی حیثیت سے قبول کرے جس کے حساب سے عورت کے پاس اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی ہو۔ اس کے لیے ہمیں پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عورت بھی معاشرے کا ایک فرد ہے۔ جس دن عورت کے ایک فرد ہونے کی حیثیت کو قبول کر لیا جائے گا اس دن ہم یہ بات بھی سمجھنے لگیں گے کہ عورت کسی فرد کی طرح زندگی کے ہر پہلو کو لے کر اپنی ایک الگ سوچ اور نظریہ رکھتی ہے۔

اور کوئی دوسرا فرد اسے یہ نہیں بتا سکتا کہ تمہں یہ نظریہ اپنانا اور تسلیم کرنا ہے اور دوسرا ترک کرنا ہے۔ کوئی معاشرہ اسے یہ نہیں بتا سکتا کہ اسے اپنی زندگی کے فیصلے لیتے ہوئے کن باتوں کو مدِّ نظر رکھنا یے۔ عورت کو کج فہم اور کم عقل سمجھ کر اس کی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق کسی دوسرے مرد یاعورت کو نہیں دیا جاسکتا۔ یہ شخصی اور انفرادی آزادی کے سراسر خلاف ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فیمینزم کی مذہبی اور سیکولر تعریف میں جو تفریق ہے اس کا آپس میں تعلق کیا ہے؟

اور دونوں قوتیں مل کر کس طرح ایک مثبت معاشرے کی تشکیل اور تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر ہم مذہب کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف اسلام نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف مذہبی اقلیتیں اور پھر ان تمام مذاہب کے اندر پائے جانے والے مختلف فرقے اور مذہبی رحجانات عورت کے مقام کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ ہرشخص کو مذہب چننے کی آزادی اسلام خود دیتا ہے۔ لہزا طے یہ پایا کہ ہر فرد کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنا مذہب خود چنے جب وہ اپنا مذہب خود چنے گا تو وہ فرد اگر عورت ہے تو اس کے لیے شخصی آزادی کا مذہبی مفہوم قدرے مختلف ہوگا۔

لہذا یہ طے شدہ بات ہے کہ فیمینزم کے تصور کو صرف مذہب اور خالصتاً اسلام کی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔ اب جب اس مسئلہ کے مختلف پہلو ہمارے سامنے آتے جا رہے ہیں تو یہ راز ہم پر کھلتا جا رہا ہے کہ ایک معاشرہ بہت سی شخصیات مذاہب اور ثقافتوں کا مجموعہ ہے جس کو کسی ایک مکتبہِٕ فکر کے حساب سے جانچنا اور پرکھنا ممکن نہیں۔ اگلا سوال جو اس بحث سے پیدا ہوتا ہے وہ نظریاتی مذہب اور اس کے عملی معاشرتی پہلو کا آپس میں تعلق ہے۔

جس کے تین بنیادی پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ عورت کا مذہب اسلام ہے یا کوئی اور کسی صورت میں بھی معاشرہ اسے کسی ایک مذہب کو اپنانے کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی پابند کر سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ فرض کر لیا جائے کہ صرف ایک مذہب کی بات کی جارہی ہے اور وہ اسلام ہے تو جو عورت بھی مسلمان ہے اسے اسلامی اصولوں کی پابند رہنا ہے تو ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ عورت کے مقام کی کون سی اسلامی تعریف درست ہے آیا وہ مقام جو نظامِ پدری نے عورت کے لیے مذہب کو آلہِٕ کار بناتے ہوئے مختص کیا ہے یا موجودہ دور کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر ان پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ مذہب کوئی دو جمع دو چار کا فارمولا نہیں ہے جسے جوں کا توں تصور کیا جاتا ہے۔ فلسفے میں مذہب کی تفسیر اور تشریح کو ہرمینیوٹکس کہا جاتا ہے۔ جس کے مطابق تمام الہامی کتب وضاحت اور تفسیر طلب ہیں اور یہ ایسے اصول وضع نہیں کرتی جو کہ بہت سادہ اور بغیر ابہام کے ہوں۔ لہزا مذہب کا معاشرتی لائحہِٕ عمل کوئی منجمد چیز نہیں ہے۔ اب بات کے دوسرے رخ کی جانب آتے ہیں۔ فرض کریں عورت کا وہی مقام درست ہے جس کی تشریح نظامِ پدری نے ہم تک پہچائی ہے۔

تو بھی کیا اس پر عمل پیرا ہونے کا اختیار عورت کی اپنی انفرادی ذات کو نہٕیں ہونا چاہٕیے؟ کیا یہ آزادی عورت کا انفرادی حق نہیں ہے کہ اس کا اور خدا کا معاملہ کیا ہے؟ اسے جہنم رسید ہونا ہے یا زنا سے بچنا ہے؟ اسے خدا کو راضی کرنا ہے یا نہٕیں؟ عورت اس حد تک تو بالغ ہو پاتی ہے کہ وہ کسی مرد کی راحت کا سامان بن سکے لیکن کیا وہ اس حد تک بالغ نہیں ہو پاتی کہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو؟

کیا اسے اپنی آخرت کی پرواہ خود نہیں ہونی چاییے؟ کیا یہ ساری ذمہ داری وہ خود اپنے کاندھوں پر نہیں اٹھا سکتی؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور اس کے اعمال کا ذمہ دار ہے یا اس کے لیے جواب دہ ہے۔ مذہبی نقطہِٕ نظر کو لاگو کرنے پر بھی عورت کی شخصی اور انفرادی آزادی پر سوال اٹھانے کا حق نہ تو کسی متحسب ادارے کو حاصل ہے اور نہ معاشرتی اقدار کو۔ یہ عورت کا اپنا عمل ہے کہ وہ خود اپنا احتساب کرے تو کر لے کہ اس نے جنت کمائی ہے یا جہنم؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعدیہ نذیر کی دیگر تحریریں
سعدیہ نذیر کی دیگر تحریریں