مسلم ذہن کا مسئلہ۔ عاصم بخشی صاحب کی تائید میں چند گزارشات‬

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاصم بخشی صاحب کی تحریر کچھ مدت کے بعد نظر نواز ہوئی۔ انہوں نے مسلم ذہن کے ایک پیچیدہ مسئلہ کو دوبارہ اٹھایا ہے۔ جب کوئی مسئلہ کم از کم تین صدیوں پرانا ہو جائے تو اس کو دائمی کہنا شاید غلط نہ ہو۔ اس پیچیدہ اور دائمی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ہوئے بخشی صاحب نے مسلمانوں کے تصور علم کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ علم سے مسلمانوں کی مراد علم دین ہے۔ اور عالم سے مراد مفتی تقی عثمانی، مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، اور جاوید غامدی صاحب جیسے ذعما ہیں نہ کہ پرویز ہودبھائی، ڈاکٹر اختر احسن، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی اور ڈاکٹر عبدالسلام جیسے لوگ۔

بخشی صاحب نے بجا طور پر دو طبقات کی نشاندہی فرمائی ہے۔ ایک وہ جو جدید و قدیم علوم کے حامل افراد پر مشتمل ہے۔ یہ طبقہ ایک سطح پر مغرب سے آنے والے علوم کو رد کرنے پر اپنی قوتیں صرف کرتا ہے۔ جبکہ ان کی تنقید دوسری طرف مغربی علم ہی کے منہاج پر استوار ہوتی ہے۔ اور تیسری طرف اس طبقہ کو اس بات کا ادراک بھی نہیں ہوپاتا کہ وہ امتیاز من و تو جس پر یہ خود کو مامور من اللہ نگران سمجھے بیٹھے تھے وہ امتیاز وقت کا پانی کب کا بہا کر لے جا چکا۔ ذرا اس طبقے کی ذہنی پراگندگی اور کنفیوژن کو نوٹ کیجیئے۔ ہم واپس اس طبقے کی جانب لوٹ کر آتے ہیں۔

دوسرا طبقہ جس کی جانب بخشی صاحب نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ہمارے روزمرہ کے مشاہدہ کا حصہ ہے۔ اس طبقے کے نزدیک سوال اٹھانا فکر کرنا اور سوالوں کے جواب ڈھونڈنا ایک کار ممنوعہ ہے۔ ہر چیز اس طبقے کے نزدیک طے شدہ ہے، متعین ہے، صرف جواب جو پہلے سے موجود ہیں ان کو ڈھونڈنا ہے۔ یہ جواب صاحبان علم کے سینوں میں ہیں یا ان کی تحریر کردہ کتابوں میں۔ ہم ایسے عامیوں کو صرف ان کے دروازے پر دستک دینا، جواب لینا اور اس پر من و عن عمل کرنا ہے۔

بخشی صاحب نے اس دوسرے طبقے کو ”تخریب ذہن اور فکر کی ہلاکت خیزیوں“ میں پہلے طبقے سے کہیں زیادہ خطرناک ٹھہرایا ہے۔
یہاں یہ طالب علم بخشی صاحب سے اختلاف کی جسارت کرتا ہے۔

مسلمان ذہن میں علم کی تعریف کے حوالے سے جس مسئلے کی جانب اشارہ فرمایا گیا ہے یہ مسئلہ اس طالب علم کے نزدیک مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ کی علامت ہے۔ مسلمان ذہن کا اصل مسئلہ پیش قدمی (پراگریس) کے اسلوب سے متعلق ہے۔

مذہبی ذہن آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ اس نے آگے کیسے جانا ہے۔ یہ سوال مذہبی ذہن پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے کہ مستقبل کی جانب اس کا یہ سفر کیسے طے ہو گا۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ان مذہبی اذہان کے لیے نسبتاً آسان ہے کہ جن کے نزدیک مذہب ان سے اپنے اجتماعی نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ مذہب کو اجتماع یا معاشرے کی بجائے فرد کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ سوال ان مذہبی اذہان کے لئے بہت گھمبیر صورت اختیار کر لیتا ہے جن کے لیے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح بھی فرد کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے۔ مذہب کے اجتماعی اطلاق کے قائل تین طبقات کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

ایک وہ طبقہ جو مستقبل کی صورت گری ماضی کے مزارات کے نقشے ذہن میں رکھ کر کرنا چاہتا ہے۔ یہ طبقہ آگے جانا چاہتا ہے۔ جدید علوم سیکھنا چاہتا ہے۔ اور سیکھتا ہے۔ کمپیوٹر پڑھتا ہے، اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جدید فلسفہ پڑھتا ہے۔ اس پر نقد کرتا ہے۔ اس طبقے کے افراد تسلیم کرتے ہیں کہ جدید فلسفیانہ نظریات کی تشکیل تو درکنار مسلم ذہن تو ان کی تفہیم کے لائق بھی نہیں ہے۔ مانتے ہیں کہ فکر جدید نے قدیم فکر ہی نہیں بلکہ اس کے اسلوب ومنہاج تک کو تبدیل کر دیا ہے۔

مگر اپنے لیکچر کا اختتام مسلم ذہن کو اس فکر جدید سے بچنے اور بچانے کی دعا پر کرتے ہیں۔ ایسے کردار آپ کو تعلیمی اداروں کے شعبہ فلسفہ، میڈیکل کالجز بزنس سٹڈیز، بینکنگ، انجینئرنگ کے شعبوں اور صحافت میں بکثرت اور بآسانی مل جائیں گے۔ ان کے خیال میں آگے کا سفر ماضی کی مکمل رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں ہے نہ صرف یہ بلکہ ماضی سے روگردانی نے ہی ہمارے مستقبل کی راہوں کھوٹا کیا ہے۔ اس طالب علم کی رائے میں یہ طبقہ آگے تو جانا چاہتا ہے مگر ماضی کے تمام لوازمات کے ساتھ یعنی بیک وقت آگے اور پیچھے کا سفر ایک ساتھ۔

دوسرا طبقہ اس ضمن میں ان لوگوں کا ہے جو میلاد کی محفل سجاتے ہیں، محرم کی عزاداری کرتے ہیں، نعتیں، قوالیاں، منقبتیں، مرثیے اور نوحے سنتے ہیں۔ محافل و مجالس اور دروس کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرنا اپنے لیے باعث نجات سمجھتے ہیں۔ ان رسومات میں آنے والی تبدیلیوں کو بسروچشم قبول کرتے ہیں۔ نعت خوانی نے مظفر وارثی مرحوم سے لے کر جنید جمشید تک کا سفر طے کیا۔ نعت خوان سونے میں تلے۔ نوحہ خانی پیشہ بن گئی۔

شب بیداریاں لاکھوں میں طے ہونے لگیں یعنی یہ رسومات ایک صنعت بن گئیں جن سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کا روزگار جڑ گیا۔ دوسرے لفظوں میں اس طبقے نے حال میں جاری رسومات اور ان کے انعقاد کو ہی دین سمجھا لہذا یہ جہاں ہیں وہیں خوش ہیں۔ لیکن اس طبقے کا معاملہ بھی یہاں رکا نہیں۔ عقائد میں تندی آئی۔ اپنے سے مختلف لوگ الگ ہوئے۔ ایک ہی مسلک کے لوگوں کی مسجدیں الگ ہوئیں ایک ہی مسلک کے لوگوں نے ایک دوسرے پر تبرا بازی شروع کر دی یعنی ہر گروہ نے یہ خیال کیا کہ دوسرا گمراہ ہے اور اس کو راہ راست پر لانے کی ضرورت ہے اور یہ ذمہ داری میری ہے۔ اور اس ذمہ داری میں کوتاہی عقائد میں بگاڑ کا سبب بنے گی۔

تیسرا گروہ اپنی ترجیحات میں بہت واضح ہے۔ اسلاف، ان کے طور طریقے، اور نظریات۔ اس طبقے کے لیے ہر شے سے زیادہ اہم ہیں خلافت راشدہ کے دور کو واپس لانے، حکومتوں کی قانون سازی کے لیے ماضی کی حکومتوں سے استدلال اور استناد اور اسلاف کی طرح فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اصرار اس طبقے کی شناخت کی نمایاں ترین نشانیاں ہیں ہیں۔

بخشی صاحب اور ہمارے بیان کردہ طبقات میں صرف ایک فرق ہے۔ ہمارا بیان کردہ دوسرا طبقہ بخشی صاحب کے ہاں موجود نہیں ہے۔ اب اس سوال پر آئیے کہ ان طبقات میں سے زیادہ خطرناک طبقہ کون سا ہے پہلا، دوسرا یا تیسرا۔

ہمارے بیان کرتا دوسرے طبقے کو اگر آپ رسومات کی بجاآوری کی اجازت دے دیں تو وہ آپ کو کچھ نہیں کہتا۔ بخشی صاحب کی یہ بات اس حوالے سے ماننے کے لائق ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں زیادہ تر تیسرا طبقہ ملوث ہوتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ دہشتگردی کی منصوبہ بندی ہمیشہ پہلے طبقے نے کی ہے۔ گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے کون تھے؟ گو واجبی ہی سہی مگر دنیاوی تعلیم رکھنے والے پڑھے لکھے اور مغرب میں رہنے والے لوگ۔

کچھ اور واقعات میں لندن اسکول آف اکنامکس اور آئی بی اے کے تعلیم یافتہ افراد کی شمولیت میری بات کی دلیل ہیں۔ ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں پر الحاد کے فتوے لگانے والے، ما بعد جدیدیت سے بچنے کی دعائیں کرانے والے سب اسی پہلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کون ہے جو ایک طرف یہ کہتا ہے کہ اسلام جمہوریت کا داعی ہے مگر اگلے ہی سانس میں وہ سیکولر ریاست کے مقابل قرآن کو لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ کون ہے جو ایک طرف تکفیر کو برا کہتا ہے مگر دوسری طرف تصوف کو متوازی دین اور ضلالت قرار دیتا ہے۔

یونیورسٹیوں پر قبضے، نصابوں پر تصرف، اساتذہ پر تشدد، اور نوجوانوں کو تربیت کے آزادانہ مواقع فراہم کرنے کے بجائے ان کی ذہن سازی کس کا خواب ہے۔ یہ طبقہ ایک ہی وقت میں آگے اور پیچھے جانا چاہتا ہے۔ یہ ناممکن الحصول ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس کا خیال ہے کہ سائنس کی ہر ایجاد کا ماخذ صرف قرآن ہے۔ سائنسدان اپنی تجربہ گاہوں میں قرآن کی تفاسیر کی روشنی میں اپنے تجربات سرانجام دیتے ہیں ہر ایجاد کے منظر عام پر آتے ہیں یہ ہی طبقہ شور مچا دیتا ہے کہ یہ بات تو ہمارے بزرگوں میں پہلے ہی فرما دی تھی۔ خدا لگتی کہئیے علم کا راستہ کس نے روکا اس طبقے نے یا باقی دو طبقات نے۔

میں اپنے سلسلہ مضامین میں تفصیل سے گزارش کر چکا ہوں کہ دہشتگردی علامت ہے۔ انتہا پسندی اصل مرض ہے۔ انتہا پسندی کا ذمہ دار وہ طبقہ ہے جو بخشی صاحب اور ہماری فہرست میں سب سے پہلے بیان ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •